سرینگر// کنی پورہ نوگام میں پولیس کی سی آئی ڈی ونگ کے انسپکٹر پرویز احمد کو نماز مغرب کے موقعہ پر مقامی مسجد جانے کے دوران 2نا معلوم پستول برداروں کی جانب سے گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد حبہ کدل سرینگر میں پستول برداروں نے اسی طرح کی ایک کارروائی کے دوران گولیاں ما کر ابدی نیند سلا دیا۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ صدر اسپتال ڈاکٹر کنول جیت سنگھ نے بتایا کہ ایک 25 سالہ نوجوان عمر نذیر بٹ ولد نذیر احمد ساکن کلاش پورہ کو اسپتال لایا گیا لیکن وہ پہلے ہی دم توڑ بیٹھا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ قریب 8بجے پیش آیا جب مشتبہ جنگجوئوں نے دکاندار عمرپر نزدیک سے گولیاں چلائیں جس سے وہ شدید زخمی ہوا۔مقامی لوگوں نے اگر چہ اسے اسپتال لیجانے کی کوشش کی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔حملہ کے وقت وہ دکان پر موجود تھا۔واقعہ کے فوراً بعدپولیس اور سیکورٹی فورسز کے اعلی حکام موقع پر پہنچ گئے اورپورے علاقہ کو گھیرے میں لیا گیا۔گولی مارکر مسلح افراد موقع سے فرار ہوگئے۔ایک روز قبل منگل کی شام بالکل اسی وقت کنی پورہ میں پولیس کے انسپکٹر کو دو پستول برداروں نے نزدیک سے گولیاں مار کر جاں بحق کیا تھا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کنی پورہ جنگجویانہ حملے میں پولیس افسر کی ہلاکت کے بعد سرینگر اور بڈگام کے کچھ علاقوں میںسیکورٹی کو چوکس کیاگیا ہے۔کنی پورہ میں ہوئے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جس میں صاف طور پر پولیس افسر کو دو نوجوان پستول سے پیچھے کی طرف گولیاں مارتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت کی جارہی ہے۔بدھ کو شہر میں کئی مقامات پرمسافر بردار گاڑیوں خاص کر دو پہیہ گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی تھی۔ سرینگر میں داخل ہونے والے 4بڑی شاہرائوں زکورہ کراسنگ، رام باغ، پارم پورہ اور پانتہ چھوک کے نزدیک پولیس نے خصوصی ناکے بٹھائے تھے۔ بٹہ مالو ، جہانگیر چوک ، بمنہ ، رام باغ، نوگام ، ھانہ پورہ برزلہ اور دیگر جگہوںپر سکوٹر و موٹر سائیکل سواروں ، آٹو رکھشائوں کی تلاشیاں لی جارہی تھیں۔