سلمی راضی۔پونچھ
صحت کے شعبہ میں بہتری اور ہر ایک تک اس کی مفت سہولہات پہونچانے کے لئے حکومت نے بڑا قدم اٹھایاہے۔ایوشمان بھارت ا سکیم کے تحت گولڈن کارڈ، جس کے پاس بھی ہوگا،وہ ملک کے کسی بھی ہسپتال سے پانچ لاکھ روپہ تک کااپنا علاج مفت کرواسکتاہے۔لیکن ایوشمان بھارت اسکیم ہویاکہ اس طرح کی دوسری منافع بخش اسکیموں سے لوگ تب مستفید ہوسکتے ہیں جب ان کے پاس اس کی پوری جانکاری ہوگی۔ پوری طرح جانکاری کا نہ ہونا مستحقین کو ان کے حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں بھی ایوشمان اسکیم کے تحت بڑے مقدار میں گولڈن کارڈ بن چکے ہیں۔اب یہ اسکیم چھوٹے بچوں تک کے لئےشروع کی جاچکی ہے۔ضلع پونچھ کے تحصیل منڈی جس کی آبادی ایک لاکھ سے زاید ہے، غلام احمد میموریل سب ضلع ہسپتال، منڈی کے زیر اہتمام سلوتری تا ساوجیاں گگڑیاں لورن بٹل کوٹ تک اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ جہاں پر محکمہ صحت کے کارکنان سرکار کی جانب سے چلائی جارہی اس اسکیم کااستفادہ دینے کی خاطر لوگوں کے گھروں تک گولڈن کارڈ بنانے کی جانکاری میں بدستورجٹے ہوئے ہیں۔ جس میں آشا ورکرزسے بڑے پیمانے رضاکا رانہ خدمت لی جارہی ہے تاکہ تمام افراد اس اسکیم سے فایدہ حاصل کرسکیں۔
اس حوالے سے متعدد لوگوں کی شکایات بھی ہے کہ اس گولڈن کارڈ سے عام آدمی کو کوئی فایدہ نہیں پہونچ رہا ہے۔اس سلسلے میں مقامی باشندہ امتیاز احمد بانڈےنے بتایاکہ یہاں منڈی میںجو کوئی بھی مستحق اور غریب مریض چک اَپ کروانے آتاہے،اُسےبازار سے دوائیاں لینے پر مجبور ہونا پڑرہاہے،اگرچہ اس کے پاس گولڈن کارڈ بھی ہوتاہے۔پھر بھی اسے ادویات نہیں ملتیں۔ایک اور مقامی ارشاداحمد نے بتایاکہ غریبوں کو کم قیمت پر دوائیاں دستیاب کرانے کے مقصد سے مرکزی حکومت کی جانب سے شہر سے لیکر گائوں تک پردھان منتری جن اوشدھی کیندر کھولے گئے ہیں،جس کو مقامی زبان میںمودی کی دوکان بھی کہتے ہیں۔ اس کیندر پر بھی اکثر دوائیاں نہیں ملتی ہیں۔خصوصاً مہنگی دوائیوں کا نام و نشان نہیں ملتا، جس کے کارن غریب مریض مشکلات میں مبتلا ہیں۔ جبکہ جمیل احمد اورتنویر احمد تانترےنامی اشخاص نے تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ ڈاکٹر صاحبان مریضوں کا سنجیدگی کے ساتھ چک اَپ تک نہیں کرتے،سرسری دیکھ ریکھ کے بعد پونچھ، راجوری، جموں یاسرینگر ریفر کردیتے ہیں، جس کا خرچہ غریب لوگ برداشت نہیں کرپاتے ہیں۔ جانچ نمونوں کے حوالے سے ایک مقامی باشندہ کبیر احمدنے الزام لگایا کہ پونچھ اور منڈی میں غیر قانونی لیبارٹریاں کھل چکی ہیں ، جہاں ان غریبوں مریضوںکے ساتھ ٹیسٹ کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی جارہی ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہاہے؟ اگر سرکار غریبوں کی دہلیز تک سہولہات دینے کی وعدہ بند ہے تو سرکاری ملازمین کیوں عوام کی رہنمائی نہیں کرتے ہیں؟ کون اس نظام کو درست کریگا؟ حالانکہ سماجی کارکن فاروق احمد خان مانتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے اس ہسپتال کا نظام بہت بہتر ہواہے۔یہاں ایکسرے،الٹراسائونڈ، لیبارٹری، آپریشن تھیٹر ودیگر شعبہ جات میں بہتر کام ہورہے ہیں اور غریب لوگ استفادہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں 98 فیصدی غریب ہی اپنا علاج کرانے آتے ہیںاور گولڈن کارڈ کا استعمال بھی بہتر طور پر کیاجارہاہے۔ جو مریض یہاں داخل ہوتا ہے ، اسے دوتین ایام علاج کروانے یاکوئی سرجری وغیرہ کروانے پر گولڈن کارڈ کا فایدہ ملتاہے۔یہاں جو بھی ڈاکٹر زہیں،وہ ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بال کرتے ہیں۔اس حوالے سے ایکسرے اوپریٹر ریاض احمد سے بات ہوئی تو ان کا کہناتھاکہ ہماراکام یہاں سے ایکسرے کا فوٹو بناکر بڑے ہسپتال بھیجنا ہوتا ہے۔پھر وہاں کی لیبارٹری سے جو رپورٹ آتی ہے، ہم اسی کو دے دیتے ہیں۔ہم نہ ایکسرے بناکر دیتے ہیںاور نہ رپورٹ دیتے ہیں،بلکہ جیسے ہمیں آن لائین موصول ہوتی ہے ہم اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ریفر کرنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے بات کی تو کئی ڈاکٹروں نے بتایا کہ کوئی بھی ڈاکٹر مریض کے لئے ہرممکن اچھا سوچتاہے کیوں کہ ایک ڈاکٹر کے لئے سب کچھ اس کا مریض ہی ہے ۔ایک ڈاکٹر ہی بہترجانتاہے کہ کس مریض کے کس درد کا علاج یہاں ممکن ہے اور کس درد کے علاج کے لئے بڑے ہسپتال ریفر کرنا بہتر ہوگا، تاکہ مریض کو جلد شفا مل سکے۔
اس سارے معاملہ کے حوالے سے بلاک میڈیکل افیسر ،منڈی ڈاکٹر نصرت النساء بھٹی نے بتاکہ یہاں دن رات ہم نے اپنے ڈاکٹروں پر نگرانی رکھی ہوئی ہے۔ وہ اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں۔ گولڈن کارڈ کا استعمال بڑے شدومد سے ہورہاہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کارڈ سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے مریض کا ہسپتال میں داخلہ بہت ضروری ہے۔ہر ایک چیک اَپ کروانے والوں کو گولڈن کارڈ نہیں مل پائے گا۔ جَن اشودی دوائی کی دوکان پر 80فیصدی ڈسکائونٹ پر دوائیاں ملتی ہیں ۔ کچھ تکنیکی خرابی اور ادویات فروش کے ساتھ معاملہ کی وجہ سے یہاںادویات کم ضرورہیں،لیکن جوں ہی یہ معاملہ حل ہوتاہے ،ادویات وافر مقدار میں رکھی جائےگی۔بی ایم او کے مطابق یہاں 80فیصدی سے زیادہ گولڈن کارڈ بن چکے ہیںاور لوگ اس کا فایدہ بھی حاصل کررہے ہیں۔محکمہ اس کوشش میں ہے کہ سرکار کی جانب سے چلائی جارہی ہر ایک اسکیم کا فایدہ مستحقین تک پہونچ سکے۔ہم ہسپتال سے مفت ادویات بھی تقسیم کرتے ہیںاور وقفہ وقفہ پر کیمپ بھی لگاکرمتعدد امراض میں ملوث افراد کی جانچ کے بعد ادویات بھی دیتےرہتے ہیں۔ سرکار اور محکمہ ہیلتھ کے اراکین کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ برائے راست مستحقین ہرا سکیم سے مستفید ہوسکیں۔ لیکن کہیں جانکاری کا فقدان اور کہیں نظام کا بروقت منظم نہ ہونا عوام کے لئے باعث تشویش بن جاتاہے۔
بہرحال سرحدی ضلع پونچھ تحصیل منڈی کا سب ضلع ہسپتال ہویاپھر کہیں سب سنٹریا پرائیمری ہیلتھ سنٹر، یہ سب عوام کو بہتر سہولیات دینے کے لئے مزید اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔نہ صرف بنیادی ڈھانچہ کو بہتر اور مضبوط بنائیں بلکہ ہسپتال کا عملہ مریضوں کے ساتھ نرم رویہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کرے۔ اس دور جدید میں موجودہ سرکار یا لیفٹیننٹ گونر انتظامیہ کے خوابوں کی تعبیر سچ کرنے میں ہسپتال عملہ ہی کارگر رول اداکرسکتاہے۔ لیکن یہ سب کچھ اکیلے ممکن نہیں ہے۔ اگر ہسپتال کے نظام کو بہتر کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تو یہاں کے عوامی نمائندے، سماجی کارکن اور خود عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی ہسپتال انتظامیہ کا مشکلات میں ہاتھ بٹائے ۔اس کو صاف رکھنے میں مدد کرنااپنافرض سمجھیں۔دوائوں کی کمی ہونے پر ہنگامہ کرنے یا الزام تراشی کی بجائے مل کر مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ تبھی ممکن ہے کہ ایک اچھے صحت مرکز میں اچھانظام قائم ہوگا۔
[email protected]