جموں کشمیرکی یونیورسٹیوں کے درمیان باہمی تال میل کو فروغ دینے کی تاکید
کٹرہ//نئی تعلیمی پالیسی2020 کوفوری طور لاگو کرنے کیلئے ضروری اقدام کرنے پرزوردیتے ہوئے لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے تجویز کیاہے کہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں اوربیرون ممالک کی یونیورسٹیوں کے درمیان تال میل کو بڑھایا جائے۔یہاں شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی ایگزیکیٹو کونسل کی 32ویں میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے لیفٹینٹ گورنر نے یونیورسٹی کی مجموعی بہتری کیلئے متعدد اہم فیصلے لئے۔یونیورسٹی کے متعدد قومی اور بین الاقوامی فورموں میں اعلیٰ پائیدان حاصل کرنے کی ستائش کرتے ہوئے لیفٹینٹ گورنر نے یونیورسٹی حکام کو صلاح دی کہ وہ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور صنعتوں کے درمیان تبادلہ خیال اوردیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ باہمی رابطوں کو فروغ دینے کیلئے کام کریں ۔ اس موقعہ پر شری ماتا ویشنو ی دیوی یونیورسٹی اورجموں اورکشمیریونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں سے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرمیں قائم یونیورسٹیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ آپسی تال میل کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور اس کیلئے طلباء اور اساتذہ کے تبادلے کے نظام کوقائم کرناچاہیے اور قومی تعلیمی پالیسی2020 کے ضابطوں کولاگو کرنے کیلئے کام کرناچاہیے۔ لیفٹینٹ گورنر نے کہا کہ شری ماتا ویشنودیوی یونیورسٹی نے تحقیق اور تعلیم میں اعلیٰ معیار کو بنائے رکھا ہے اوریہاں نئے پروگرام شروع کئے جارہے ہیں.۔انہوں نے کہا کہ مایا ویشنودیوی کی گودمیں خوبصورت کیمپس ملک بھر کے طلباء کیلئے ایک پختہ منزل ہے۔لیفٹینٹ گورنر نے یونیورسٹی حکام کو ویدوں کی تعلیم ،اور فارماکالوجی میں کورس شروع کرنے کی تلقین کی ۔کونسل نے یونیورسٹی کی طرف سے کلاس ورک اور آن لائن امتحانات کے انعقاد کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہا۔اس موقعہ پروائس چانسلر نے یونیورسٹی کی حصولیابیوں کاخاکہ بھی پیش کیا۔انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے تعلیم اور تحقیق کے میدان میں حاصل کی گئی کامیابیوں کی جانکاری بھی میٹنگ میں دی ۔میٹنگ میں بتایاگیا کہ یونیورسٹی کو2.20کروڑ روپے کی رقم ندھی پریاس اسکیم اور 2.10کروڑ روپے کی رقم ندھی ایس ایس ایس اسکیم کے تحت حاصل ہوئی ہے اور یونیورسٹی کوایم ایس سی بائیوٹیکنالوجی میں 10نشستیں الاٹ کی گئیں۔میٹنگ میں فیکلٹی ممبران اور طلباء کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیاگیا۔