راجوری// جموں کشمیر پیپلز مومنٹ نے گزشتہ روز جموں کے استاد محلہ علاقے میں واقع مسجد کے باہر فرقہ پرست عناصر کی جانب سے نمازیوں کے خلاف کی گئی بد سلوکی اور اشتعال انگیزی کی شدید الفاظ میں مذمّت کرتے ہوئے انتظامیہ پرالزام عائد کیا کے وہ ایسے عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے جو جموں شہر کے خرمنِ امن میں آگ لگانے پر تلے ہوئے ہیں۔کل جماعتی حریّت کانفرنس کے سینئر رہنما اور پیپلز مومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے اپنے ایک بیان میںجمعرات کو نمازِ تراویح کے دوران فرقہ پرست تنظیموں کے ممبران کے موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر نمازیوںکو گالی گلوچ کرنے اور للکارے جانے کی شدید الفاظ میں مذمّت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر جموں میں قائم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے کے درپہ ہیں۔انہوںنے کہا کہ جب سے ریاست میں آر ایس ایس کی سربراہی والی مخلوط سرکار قائم ہوئی ہے پوری ریاست بالخصوص صوبہ جموں کے مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اورانہیں کبھی ایک تو کبھی دوسرے حیلے بہانوں سے حراساں اور خوفزدہ کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا دراصل یہ لوگ پھر ایک بار جموں میں 1947ء کے قتلِ عام کودوہرانا چاہتے ہیںتاکہ جموں شہر اور اس کے مضافات سے مسلمانوں کا صفایا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان شر پسندوں کے بھرپور طور انتظامیہ اور پولیس کی مدد اور پشت پناہی حاصل ہے۔انہوں نے کہا گزشتہ اڑھائی برس کے دوران آر ایس ایس بجرنگ دل اور دوسری فرقہ پرست تنظیموں سے جڑے افراد نے کبھی گاؤ رکھشا تو کبھی کسی اور بہانے سے مسلمانوں کو اپنے غیض و غضب کے شکار بنایا ہے جن میں چند ایک کی جان بھی چلی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر انتظامیہ نے ہوش کے ناخن لے کر ان عناصر کو لگام نہیں دی تو جموں میں بے چینی اور اضطراب کی ایسی آگ لگ جائے گی جو پورے خطہ کو پنی لپیٹ میں لے لے گی۔