شرابی

سر درد سے جوجھتا ہوا سلیم صبح ہوتے ہی ہر روز کی طرح نہانے چلا گیا۔نہانے سے فارغ ہوکر کچن میں جلدی جلدی اپنے لئے روٹیاں اور چائے بناکر ناشتہ کرلیا حسب معمول اپنے ٹھیلے (ریڈھی) پر مال سجا کر گھر سے روانہ ہوگیا۔وہ سڑک کنارے ریڈھی لگا کر موزے بیچا کرتا تھا۔ آج اُس نے اپنی ریڈھی لگائی ہی تھی کہ اکرم صاحب زور زور سے اسے آواز دینے لگے، سلیم او سلیم! انکی آواز میں آج بھی حکم نمایاں تھا۔ سلیم اپنا کام چھوڑکر فوراً انکے پاس چلاگیا۔ سلیم میں دفتر جا رہا ہوں، گھر میں پانی کے نل میں کچھ خرابی آ گئی ہے، اسے ٹھیک کردینا۔اگلے ایک گھنٹے تک سلیم انہی کے یہاں نل ٹھیک کرنے میں لگا رہا، پھر اپنی ریڈھی کے پاس واپس آکے کھڑا کر خریداروں کو آواز لگانے لگا۔ابھی کچھ لمحے ہی ہوے ٔ تھے کہ عارفہ خالہ اپنی کھڑکی سے اُسے بلانے لگی۔۔سلیم ذرا ادھر آنا۔ سلیم پھر اپنا کام چھوڑکر خالہ کے یہاں چلا گیا۔ارے سلیم یہ بجلی کافیس دفتر میں جمع کرکے آنا ذرا۔یہ کہتے ہی انہوں نے بل اور پیسے سلیم کے ہاتھ میں تھما دیئے۔سلیم اب خالہ کا بجلی بل لے کر دفتر کی طرف چل دیا۔دفتر میں بھیڑ ہونے کے سبب اگلے چند گھنٹے وہیں گزر گئے ۔اب دوپہر کا وقت ہورہا تھا اور سلیم کو چاہئے کی طلب ہوئی۔ وہ نکڑ پہ چائے کی دوکان کی طرف چل پڑا تو اسکی نگاہوں کے سامنے ایک عورت ہانپتے ہوے ٔ سڑک پر گر گیٔ سلیم دوڑتے ہوئے اسکے پاس گیا تو وہ اپنے بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوے ٔ ہانپتی ہوئی آواز میں بولی انہیلر انہیلر۔سلیم پہلے تو کچھ سمجھ نہ پایا لیکن بعد میں اسے سمجھ آیا کہ وہ دمے سے راحت کے لئے منہ کے اندر دوائی چھڑکنے والے بوتل نما آلے کے بارے میں بول رہی ہے۔سلیم نے بیگ کے ہر کونے میں ڈھونڈا پر اسے انیہلر کا عکس تک نہ ملا۔عورت تڑپ رہی تھی۔سلیم کچھ سونچے بغیر ہی دوڑ دوڑ کر مڈیکل شاپ کی طرف روانہ ہوا۔۔دوکان سے انہیلر لاکر اس عورت کے ہاتھ میں تھما دیا جو کہ اب اور زور زور سے ہانپ رہی تھی۔سلیم اب چائے والے کی طرف چلنے کے بجاۓ واپس اپنی ریڈھی کی طرف جا رہا تھا کہ پاس کے اسکول میں چھٹی ہوگئی ۔سلیم کچھ دیر ٹھہرکے اب بچوں کی طرف دیکھنے لگا۔پاس ہی کچھ بچے آیس کریم لا رہے تھے، سلیم کی نگاہیں انہیں دیکھ رہی تھیں کہ اچانک اسکی نظر دیوار کے ساتھ کھڑے ایک بچے پر پڑھی جو نہایت ہی اداسی کے ساتھ ان بچوں کو آیس کریم کھاتے دیکھ رہا تھا۔سلیم نے اسکے پاس جاکر اُس سے پوچھا کہ تم اداس کیوں ہو، تو اُس نے جواب دیا ’ میلے پیسے کھو گئے، سلیم سے اسکی یہ اداسی برداشت نہ ہوسکی اور وہ اسکے لئے آیس کریم لے آیا۔ سلیم کو اسے خوش دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ اسکے دن کی ساری خوشی اسی لمحے میں قید تھی۔شام کا وقت ہو رہا تھا اور اب سلیم اپنی ریڈھی کو دھکا دے کر تھکا ہارا گھر کی طرف لوٹ رہا تھا کہ اسکی آنکھوں سے سارا جہاں اوجھل ہو گیا اور وہ چکر کھاکردھڑام سے سڑک پہ گر گیا۔کچھ وقت بعد اسکے ارد گرد لوگوں کا بڑا ہجوم جمع ہوگیا  اور سب ایک دوسرے کے کان میں پھسپھسانے لگے۔ اتنے میں ہی عارفہ خالہ اور اکرم صاحب بھی لوگوں کا شور سن کر اس ہجوم کی طرف متوجہ ہوئے۔ جیسے ہی وہ دأیرے کے آخر تک پہنچے، عارفہ خالہ کی آنکھیں سلیم کے بے ہوش جسم پر پڑی اور وہ بڑے ہی صاف لہجے میں بولی ارے یہ تو سلیم شرابی ہے، اکرم صاحب نے بھی خالہ کی بات پکڑتے ہوئے کہا ہاں یہ تو وہی شرابی ہے۔ گر گیا ہوگا شراب پی کرلاحول ولاقوۃ، کیسا بگڑا آدمی ہے، یہیں مرنے دو اسے۔ہاں ہاں اسے تو کوئی ہاتھ بھی نہ لگائے ! کوئی اس ہجوم میں سے ہانپتے ہوے ٔ بولا۔ہجوم میں ایک بچہ بھی اپنے والد کے ساتھ یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔اپنے والد کے جانب مڑکر وہ اسکی کلائی جھٹکتے ہوے ٔ بڑی سادگی سے پوچھا  ’باباشلابی اچھا ہوتا ہے نا‘؟
رابطہ؛دریش کدل سرینگر،موبائل نمبر؛8825054483