شجرکاری ۔۔۔ وَن سے جَل،جَل سے جیون!

ربّ العالمین نے اشرف المخلوقات کے رہنے کے لئے تمام قسم کے وسائل مہیا کر رکھے ہیں۔ جہاں آسمان کو ستاروں و سیّاروں سے سجایا وہیں زمین جیسے سیّارے کو میٹھے و ذائقہ دار پھلوں، خوشبو و معطر پھولوں، خوبصورت باغوں، ہرے بھرے پیڑ پودوں سے خوبصورت انداز میں مزیں ( ڈیزائن ) فرمایا ہے۔ نظامِ فطرت میں منفی طور تبدیلی پیدا کرنے، اس کے بگاڑنے اور صاف ستھرائی کے انتظامات و اِنصرام میں خلافِ قانون کرنے کو ماحولیاتی فساد (Environmental corruption) کہلاتا ہے ۔
ماحولیاتی بگاڑ اِس وقت عالمی سطح پہ انتہائی حساس اور چلینج کا مسئلہ بن چُکا ہے، اِس سے حیات زندگی بُری طرح سے متاثر ہو چکی ہے۔ یہ نظام فطرت میں انسان کے مفاد پرست سوچ رکھنے، اُس کے کرتوتوں کے نتیجے اور اُس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جس تیزی کے ساتھ زمین کی درجہ حرارت بڑھ رہی ہے۔ شدید موسمی تبدیلی، بارش کی کمی سے ، پانی کے ذخیرے میں کمی واقع ہونا اور خشک سالی وغیرہ کا ہونا یقیناً گلوبل وارمنگ کے وہ اثرات ہیں جو ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں ۔
شدید گرمی کی وجہ سے جہاں ہندوکش ہمالیہ پہ برف بڑی تیز رفتاری سے پگھل رہی ہے، وہیں کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی خطرناک گیس کی مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور آکسیجن فراہم کرنے والے قدرتی کارخانے یعنی پیڑ پودے بے دردی سے کاٹے جا رہے ہیں، جس سے ماحول کا توازن بگڑ چکا ہے اور اوزون جیسی قدرتی شیلڈ ختم ہوتی جا رہی ہے ۔اسلام نے اس طرح کے سنگین مسائل سے نپٹنے کے لئے صفائی اور شجر کاری کے تفصیلی احکامات صادر کر کے ایک واضح اور منفرد حل بتا دیا ہے ۔
شجرکاری (afforestation) سے مراد پیڑ پودے لگانا ہے، اسلام میں اس مہم کی تاکید صراحتاً آئی ہے اور متعدد آیات میں پیڑ پودوں کی ذکر بھی فرمائی گئی ہے جن میں کھجور، انار، انگور، زیتون، انجیر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " اُسی پانی سے تمہارے لیے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اُگاتا ہے، بے شک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔‘‘ (النحل: 11)احادیثِ میں بھی شجرکاری کے حوالے سے صریح ہدایات ملتی ہیں، جس سے شجرکاری کی مہم کی افادیت، اہمیت و فضیلت معلوم ہو جاتی ہے۔ ایک روایت میں شجر کاری کو صدقہ قرار دیتے ہوئے اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جو مسلمان درخت لگائے یا کھیتی کرے اور اس میں پرندے، انسان اور جانور کھالیں تو وہ اس کے لیے صدقہ جاریہ ہے ۔‘‘ (صحیح البخاری و مسلم)شجرکاری کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے کہ جس میں آپ ﷺ نے فرمایا " قیامت قائم ہو رہی ہو اور کسی کو شجر کاری کا موقع ملے تو وہ موقعے کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔" (مسند احمد)
عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق کسی بھی علاقے کے کل رقبے کے ۲۵ فیصد پر جنگلات کا ہونا لازمی ٹھرایا گیا ہے۔ اسی طرح جنگلات کی قومی پالیسی میں پہاڑی ریاستوں کے کل جغرافیائی رقبے کا دو تہائی حصہ پر جنگلات کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ نازک ماحولیاتی نظام کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہمارے یہاں ریاست جموں و کشمیر میں کل رقبہ  2,22,236 Sq Km ہے، جس میں تقریباً 20230 Sq Km رقبے پر جنگلات پھیلا ہوا ہے جو تقریباً ۲۰ فیصد کے قریب تر ہے ۔جب کہ پورے ملک میں تقریباً ساڑھے چوبیس فیصدی رقبے پر جنگلات پائے جاتے ہیں ۔
جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کی غیر معمولی کاوشوں سے پچھلے کئی سال سے جنگلات کے رقبے میں مزید 348 Sq Km کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حال ہی میں انتظامی سطح نے محکمہ جنگلات کے ساتھ مل کر "ون سے جل، جل سے جیون" جیسے سر سبز جموں و کشمیر پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کے تحت چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اس سال میں ایک کروڑ درخت لگانے کے ہدف کو پورا کرنے کی اپیل کی ہے ۔ چیف سیکریٹری نے متعلقہ محکمے کو مزید 1000 Sq Km کے رقبے کو اگلے سال تک بحال کرنے کی ہدایت دی ہے، اس مہم کے ذریعے درخت لگا کر ریاست میں نہ صرف جنگلات کی اراضی میں اضافہ ہوگا بلکہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کو کافی حد تک کم بھی کیا جا سکتا ہے۔ شجرکاری کے اس مہم کو کامیاب بنانے میں ہمیں بحیثیت ذمہ دار شہری اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ،تاکہ اس منصوبہ سے صحت مند ریاست کے مستقبل کی بقا ممکن ہو سکیں ۔
سائنس کی ایک تحقیق کے مطابق ایک پیڑ چار لوگوں کے لئے ایک دن آکسیجن فراہم کرنے کے لئے کافی ہے۔ اسی طرح ایک پیڑ 36 ننھے بچوں کو آکسیجن فراہم کرنے کے لئے کافی ہے۔ اگر ریاست کی صرف ۵۰ فیصد آبادی ایک ایک پیڑ لگائیں تو سوچو کتنے لوگوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ کئی سال تک آکسیجن سپلائی کرنے والا ایک غیر معمولی خزانہ بن جائے گا، جس سے زمین کے درجہ حرارت کو بھی اعتدال و توازن میں رکھا جا سکتا ہے ۔پیڑ پودے نہ صرف انسانوں اور حیوانات کی غذائی ضروریات فراہم کرتے ہیں ، بلکہ یہ چرند، پرند اور متعدد حیوانات کا مسکن بھی ہوتے ہیں۔ ادویہ کے لیے ان کی چھال، پتے، بیج، پھول اور پھل سب استعمال ہوتے ہیں، نیز یہ ہمارے لئے لباس اور لکھنے کے لئے کاغذ بھی فراہم کرتے ہیں ۔ یہ درخت ہی ہے جو سوکھنے کے بعد کوئلہ میں تبدیل ہو کر توانائی کا وسیلہ بنتے ہیں ۔
وادئ کشمیر میں جابجا یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے کہ اکثر و بیشتر اولیاء کرام رحمہ اللہ نے اپنے خانقاہوں کے ارد گرد مختلف اقسام کے پیڑ لگائےہیں ۔ جن میں خصوصاً شہتوت، برمجی، چنار قابل ذکر ہیں ۔ مشہور و معروف روحانی بزرگ حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ المعروف علمدار کشمیر نے بھی اپنے قول و فعل سے اُس وقت پیڑ پودوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔ آپؒ نے فرمایا ہے کہ’’ اَن پوشہِ تیلہِ ییلہِ وَن پوشہِ‘‘یعنی جنگل ہے تو اناج بھی ہے ۔
آپ ؒ نے لوگوں کو آگاہ کیا کہ اناج کا دارومدار براہِ راست شجرکاری پر منحصر ہے ، کیوں کہ یہ بارشوں کا وسیلہ ہے۔ جب پیڑ نہیں رہیں گے تو بارشیں نہیں ہوں گی، جس کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھتا جائے گا اور زمین پر اناج کی کمی ہونے لگے گی۔ آپؒ کے اس قول کی سائنس بھی تائید کر چکی ہے، لیکن صورتِ حال اس کے مخالف ہے ۔ لوگ زہریلی فضا میں سانس لے رہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن و حدیث کی تعلیمات اور اپنے اسلاف کی اقدار کو خیرباد کہہ دیا ہے ۔ درختوں سے دوستی چھوڑ دی ہے، ان کو بے دردی سے کاٹنا شروع کیا ہے اور تعمیرات کھڑے کرنے میں گم ہوئے ہیں ۔
شہروں اور قصبوں کی اگر بات کی جائے تو شجرکاری کی اہمیت و ضرورت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جب چاروں طرف آلودگی گھیرا ڈالے ہوئے نظر آتی ہے۔ صاف و شفاف ہوا کے لیے جسم ترستا ہے اور زہر آلود ہوائیں نسلِ انسانی کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں ۔ فضا میں کاربن کے اخراج کی مقدار بڑھنے سے غذاؤں کی تاثیر تبدیل ہو رہی ہے ۔ عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے زور دیتا آرہا ہے اور اسی کے تحت سنہ 2016ء میں پیرس میں 195 ممالک کو ماحول دوست اقدامات اٹھانے کا پابند بنایا گیا ہے۔
لہٰذا ضرورت ہے کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم کے مراحل سے ہی شجرکاری کا شوق پیدا کیا جائے اور اِن کی حفاظت کرنے کی شعوری کوشش بھی کی جائے۔ اس کے لئے مزید ماحولیاتی مضمون (Environmental Science) کو نصّاب کا لازمی حصہ بنا دیا جائے ۔ آب و ہوا کی اس تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ماحول دوست سرمایہ کاری کرنا ہوگی ۔ سبز سونے کی حیثیت سے جنگلات کی حفاظت یقینی بنانا ہوگی ۔ ناسا کے ذریعے ہوا صاف کرنے والے شائع شدہ پودوں کی فہرست میں سے ایسے پودے گھروں میں بھی لگانے کی عادت ڈالنی چاہیے ۔ سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سیمیناروں اور ورکشاپوں کے ذریعے عوام الناس میں شجر کاری کی آگہی مہم چلائی جائیں ۔ پودوں سے محبت اور ان کا تحفظ کرنا یقینی بنایا جائیں ۔ عالمی شجرکاری کے دن یہ عہد کریں کہ ہم سب مل کر جنگلات کا تحفظ کریں گے، نہیں تو پانی کی بوتلوں کی طرح آکسیجن کے سلینڈز خریدنے کی نوبت آپڑے گی اور ہماری نئی نسل ماحولیاتی فساد میں گرفتار ہوکر رہے گی ۔
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ – 9858109109 )