دمشق // شام کے جنوبی مغربی حصے میں آج سے فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گا جبکہ شامی حکومت نے فائر بندی والے علاقوں میں وقفے وقفے سے گولا باری کا سلسلہ جاری رکھا۔انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں مانیٹر کرنے والی آبزرویٹری سے منسلک رضاکاروں کے مطابق بشار الاسد کے وفادار فوجیوں نے درعا گورنری پر تیس راکٹ اور دھماکا خیز مواد سے بھری بیرل بم داغے ہیں۔شامی آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ سرکاری فوج کی جانب سے داغے جانے والے چھ راکٹ درعا کے مضافاتی علاقے تل المال میں گرے جبکہ دس راکٹ درعا کے شمال مشرقی حصے اللجاہ میں پھٹے۔ اسی اثنا میں شامی فوجی ہیلی کاپٹروں نے ایب اور اللجاہ کے بعض حصوں پر 16 بیرل بم گرائے۔شام کے جن علاقوں میں آج سے جنگ بندی پر عمل شروع ہو رہا ہے ان میں درعا، القنیطرہ، السویداء شامل ہیں۔ کئی مہینوں کی خونریز لڑائی کے بعد فائر بندی کا معاہدہ امریکا، روس، اردن کے درمیان طے پایا ہے۔معاہدے کے مطابق شام کے جنوبی علاقے میں تناو کی فضا کو کم کیا جائے گا۔ نیز باغی گروپوں اور شامی فوج سمیت اس کے حامی مسلح گروہ اپنے اپنے علاقوں میں لڑائی سے گریز کریں گے۔