میر امتیاز آفریں
انگریزی زبان کے مشہور شاعر شیلے (Shelley) کےمطابق شاعر ایک بلبل کی طرح ہوتا ہے جو تنہائی کے اندھیرے کونے میں اپنے آپ کو میٹھے سُروں سے مسرور کرنے کیلئے گاتا رہتا ہے اور سارے ماحول کو اپنے سروں سے مسحور کر دیتا ہے۔دیکھا جائے تو یہ بات وادی کشمیر کے ایک اعلیٰ شاعر و عالم میر عزیز اللہ حقانی پر بالکل صادق آتی ہے۔حقانی صاحب 1854ء کو ایک علمی، ادبی و روحانی خاندانِ حقانیہ میں پیدا ہوئے اور ادبی و روحانی حلقوں میں اپنا لوہا منوانے کے بعد 1928ء میں انتقال کر گئے۔
پیر عزیز اللہ حقانی نامور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قادر الکلام شاعر، عالم اور مورخ بھی تھے۔مشکل سماجی، سیاسی، مذہبی اور علمی حالات کے باوجود آپ نے شعر و ادب، علم و عرفان، تاریخ و جغرافیہ میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔انہوں نے ایک سادہ سی خاموش زندگی گزاری مگر بطور شاعر و سخنور ان کا قد انتہائی اونچا ہے۔ وہ اپنے شعری افق کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ میدانِ علم و ادب میں اپنی استعداد سے بھی زیادہ لمبی چھلانگ لگاتے ہیں۔ ان کا poetic ambition ان کو کبھی عظیم فارسی شعراء کے تتبع پر ابھارتا ہے اور کبھی وہ تاریخ ، تصوف اور نعت گوئی کے نازک میدانوں میں اپنے کرتب دکھاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیری زبان کے عظیم شاعر و نقاد عبد الاحد آزاد ان کے بارے میں رقمطراز ہیں:’’ محمود گامی کے بعد اگر خطہ کشمیر نے کوئی مطلق العنان سخنور پیدا کیا ہے وہ حقانی صاحب ہیں۔‘‘
‘مطلق العنان ‘ شاید وہ اس وجہ سے ہیں کہ وہ سخن وری میں کسی کی نہیں سنتے، اپنی طرز پر چل نکلتے ہیں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو ٹیسٹ کرتے ہوئے ہر میدان میں کود پڑتے ہیں۔ ان کا ادبی کنواس (Literary Canvas) انتہائی وسیع اور متنوع صفات کا حامل ہے۔
حقانی صاحب عربی، فارسی اور کشمیری زبانوں پر مکمل دسترس رکھتے ہیں اور ان کی کشمیری شاعری پر عربی اور فارسی الفاظ و تراکیب کا خاصا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ان کی لے عالمانہ اور متصوفانہ ہے، وہ مشکل الفاظ کا اکثر استعمال کرتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی شاعری خاصی مقبول ہے۔ حقانی صاحب عام طور پر روایتی اسلوب کے موافق لکھتے ہیں اور نظم نگاری، مثنوی اور غزل کی فنی پیچیدگیوں سے بخوبی واقف نظر آتے ہیں۔انہوںنے ڈیڑھ درجن سے زائد کتابیں لکھ کر علم و ادب کے میدانوں میں اپنا ایک منفرد مقام پیدا کیا۔آپ کی اہم تصانیف میں قصہ بے نظر، گلبن عشق، ماہروئے گل، جوہر عشق، چراغ محفل، جنگ عراق، ممتاز بے نظر، چندر بدن،روضۃ الشہداء ،نازنامہ، سیلاب نامہ، درویش نامہ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اگرچہ ابھی بھی حقانی صاحب کی کچھ کتب شائع نہیں ہوئیں مگر پھر بھی کشمیری ادب کا تقریباً ہر طالب علم ان ناموں سے واقف ہے۔
حقانی صاحب نے اپنی تصنیف ‘شہر آشوب میں مکار اور دنیا پرست درویشوں اور شکم پرست ملّاوں پر طنز (Satire) کیا ہے اور سماج کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ان کی نقاب کشائی کرنے کی کوشش کی ہے۔
اپنے poetic ambition کو مہمیز دیتے ہوئے حقانی صاحب نے فارسی زبان میں 5 جلدوں پر مشتمل ‘تاریخ عالم مرتب کی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تاریخ اسلام کی مختلف سلطنتوں کی تاریخ مرتب کی ہے۔ انہوں نے تاریخ کشمیر پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس خطے کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور جغرافیائی منظر کشی کی ہے۔ اگرچہ کتاب کا اسلوب جدید رجحان کے برعکس تحقیقی نوعیت کا نہیں ہے پھر بھی اس سے ایک اہم تاریخی دستاویز کے طور پر استفادہ کیا جاسکتاہے۔جہاں تک حقانی صاحب کی نعتیہ شاعری کی مقبولیت کا تعلق ہے تو شائد ہی وادی کشمیر کی کوئی مسجد ہوگی، جسمیں یہ اشعار نہ گونج اٹھتے ہوں:؎
گو جہاں تازہ برخسارِ رسولِ عربیؐ
روٹ گلو مشک زگفتارِ رسول عربی ؐ
ارباب علم و ادب کے یہاں یہ بات مسلم ہے کہ حقانی صاحبؒ کشمیر کے صفِ اول کے نعت گو شعراء میں سے ہیں۔ ڈاکٹر عزیز حاجنی کے مطابق حقانی صاحب کا شمار کشمیر کے پہلے درجے کے دو یا تین نعتیہ شاعروں میں آتا ہے۔ فنی اعتبار سے حقانی صاحب کی نعتیہ شاعری پختہ اور دلنشین ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی نظر میں سارا دین ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت ہے اور آپؐ کی اطاعت ہی نجات کی راہ ہے۔ان کے نزدیک نسبتِ رسولؐ ہی مومن کی متاعِ زیست ہے اور اس کے بغیر ایمان کی حلاوت کو پانا ناممکن ہے۔ نبیؐ کی نگاہِ عنایت ان کا سرمایہ حیات ہے اور ان کی نعت گوئی کا محرک بھی ۔ حقانی صاحب کے ترنم اور آہنگ سے ایک پرکیف ماحول کا احساس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے روح طمانیت کی ہواوں میں پرواز کررہی ہو۔ اپنے والہانہ جذبہ عشق رسولؐ کے زیر اثر وہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کچھ اس طرح ندائے شوق پیش کرتے ہیں:
بسویت آمدہ گم کردہ راہے
نگاہے یا رسول اللہؐ نگاہے
حال ہی میں ساہتیہ اکیڈمی کے زیر اہتمام 88 صفحات پر مشتمل ایک مونوگراف شایع ہوا جسے کشمیری ادب کے مشہور استاد و نقاد پروفیسر بشر بشیر نے مرتب کیا ہے۔ اس مونوگراف میں پیر عزیز حقانی کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی تصنیفات کا ایک تنقیدی تجزیہ پیش کرنے کی عمدہ کوشش کی گئی ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی کا یہ مونوگراف معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ حقانی صاحب کے کلام کے حوالے سے ایک کلید کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے فکر و فن کو جدید تقاضوں کے مطابق زیر بحث لاتا ہے۔
پیر عزیز اللہ حقانی کے حالات زندگی اور خاندان کے ساتھ ساتھ ان کے حلیے اور اوصاف کا نہایت ہی حسین تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حقانی صاحب کے دور کے ادبی منظرنامے پر ایک تنقیدی نگاہ دوڑائی گئی ہے اور بعد میں حقانی صاحب کی مختلف تصانیف کا تعارف اور تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ چونکہ بشر بشیر صاحب کشمیری زبان و ادب کے رمز شناسوں میں سے ہیں لہذا انہوں نے خالص ادبی اور لسانی ذاویوں سے حقانی صاحب کے کلام کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کام میں وہ خاصے کامیاب بھی رہے ہیں۔ امیدِ قوی ہے کہ اس مونوگراف کے ذریعے حقانی صاحب کو جدید اسلوب میں نئی نسل تک پہنچانے میں مدد ملے گی اور کشمیری ادب کے حوالے سے اسلاف شناسائی کے نئے دریچے کھلیں گے۔
[email protected]