کٹھوعہ/ریاستی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کٹھوعہ کے بلاور پنچایتی حلقے میں دوردراز گائوں اُچاپنڈ میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائز ہ لیا۔اس موقعہ پر کالڈا ، چاڈو، اُچاپنڈ، پھاورو اور چکہ دیہات کے باشندوں نے اپنی ترقیاتی ضروریات سپیکر موصوف کی نوٹس میں لائے۔اپنے دورے کے دوران سپیکر نے کھوگ اور اُچاپنڈ میں پرائمری ہیلتھ سینٹر کا معائینہ کرنے کے علاوہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت اُچاپنڈ سے تراپڑ تک تعمیر کی جانے والی سڑک کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ اچاپنڈ اور آس پاس کے علاقوں میں ساڑھے 6کروڑ روپے مالیٹ کے پروجیکٹ مکمل کئے جاچکے ہیں۔سپیکر نے مقامی انتظامی کے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ 16؍ جولائی کو اُچاپنڈ میں ایک عوامی کیمپ کا اہتما م کریں تاکہ لوگوں کو عوامی خدمت گارنٹی ایکٹ کے تحت لازمی خدمات فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے لوگوں کو مرکزی اور ریاستی سکیموں کے بارے میں جانکاری دینے کی تلقین کی۔سپیکر نے کہا کہ بلاور حلقے میں پچھڑے اور دور دراز علاقوں کی ترقی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے دیہات کی ترقی کے لئے شروع کئے گئے ترقیاتی پروگراموں کی مؤثر عمل آوری اور نگرانی کی ہدایات دیں تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔اُچاپنڈ او رکھوگ کی سیاحتی گنجائش پر بولتے ہوئے ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ ان علاقوں میں سیاحتی سرگرمیو ں کو بڑھاوا دینے کی کافی گنجائش ہے اور اس سلسلے میں کئی ترقیاتی پروجیکٹ عملائے جارہے ہیں۔بلاور میں پلگرم ٹوراِزم کو بڑھاواد دینے کے لئے سپیکر نے کہا کہ پھنٹر سے سکھرالا تک سڑک کو 42کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے از سر نو تعمیر کیا گیا ہے جب کہ بلاور سے سکھرالا تک جانے والی سڑک کو سینٹرل روڑ فنڈ کے تحت وسعت دی جارہی ہے۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران بلاور میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت 102کروڑ روپے کی لاگت سے 22 نئے سڑک پروجیکٹوں پر کام شروع کیا گیا ۔بلاور کی تحصیل انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سپیکر موصوف کے ہمراہ تھے۔