سوڈانی فوج کی فائرنگ سے 4مظاہرین ہلاک

خرطوم //سوڈان میں وزیر اعظم اور فوج کے درمیان سیاسی ساز باز کے خلاف احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے 4مظاہرین ہلاک ہوگئے۔ دارالحکومت خرطوم اور ام درمان شہر میں فوج نے فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ سوڈانی ڈاکٹروں کی کمیٹی کے مطابق آم درمان میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ یہ کمیٹی سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن کا حصہ ہے ، جس نے عوامی بغاوت کی قیادت کی تھی اور اس کے نتیجے میں 2019 ء  میں سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیر کو معزول کر دیا گیا تھا۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فوج ایمبولینسوں اور طبی عملہ کو زخمیوں تک پہنچنے سے روک رہی ہے۔ کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔ فوج نے مظاہروں کے دوران میں خرطوم میں خبررساں ادارے العربیہ کے دفتر پر چھاپا مارکارروائی کی اورسامان ضبط کر لیا۔ واضح رہے کہ فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اموات کی تعداد 52 ہو گئی ہے۔سوڈان میں 25 اکتوبر کو فوج کی جانب سے وزیراعظم کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کے خلاف مسلسل مظاہرے اور احتجاج جاری ہے۔ادھربوسنیا میں جنگی جرائم کے استغاثہ نے 9 بوسنیائی سربوں کو 1992 ء سے 1995 ء  تک جنگ کے دوران 7خاندانوں کے 100 مسلمانوں کو قتل کرنے کی فرد جرم عائد کردی۔ آرتھوڈوکس سربوںاور مسلم بوسنیاکس کے درمیان جنگ میں ایک لاکھ افراد مارے گئے تھے۔ جنگ کے خاتمے کے 26 سال بعد بوسنیا اب بھی ایسے لوگوں کی تلاش کر رہا ہے جو لاپتا ہوگئے تھے۔ مجرمون میں بوسنیائی سرب جنگی فوج کے سابق ارکان اور کمانڈر بھی شامل ہیں۔