جموں //جموں ویسٹ سمبلی مومنٹ نے جمعہ کے روز پیش کئے گئے مرکزی بجٹ کی سخت تنقید کی ہے۔ جمعہ کے روز یہاں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بجٹ کو مایوس کن اور بغیر کسی سمت کا قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ملک کی ترقی کیلئے کُچھ نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کُچھ بھی واضع نہیں ہے۔انہوں نے بجٹ کو عام آدمی، نوجوانوں ،کسانوں،تاجروں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے دفاع کے خلاف قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے سے قیمتوں میں اُچھال آئے گی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ریاست جموں و کشمیر کیلئے کُچھ نہیں رکھا گیا ہے اور بجٹ کو10میں سے فقط2 نمبر دئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ کل ملا کر اس بجٹ سے عام آدمی، نوجوانوں ،کاروباریوں کو مایسی ہوئی ہے اور اسے عوام مخالف قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ وزیر خزانہ نرملاسیتا رمن نے بغیر ہوم ورک کرکے بجٹ پیش کیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی دائرے کے تحت لانے کیلئے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا ہے۔انہوں نے ریاست کی دو راجدھانیوں سرینگر اور جموں میں سمارٹ شہروں کی تعمیرشروع نہ ہونے پر بھی مرکزی سرکار کی تنقید کی۔انہوں نے کالا دھن واپس لانے کیلئے کوئی بھی قدم نہ اُٹھانے پر بجٹ کی تنقید کی۔انہوں نے سروس ٹیکس میں چھوٹ نہ دینے پر بھی مرکزی سرکار کی مذمت کی۔