سرینگر//ہندپاک کے درمیان آبی تنازعہ کا جلد حل نکل آئے گا۔اس اُمیدکااظہارایک نجی چینل کوانٹرویوں دیتے ہوئے بھارت کے سندھ طاس آبی معاہدے کے کمشنر پردیپ کمار سکسینہ نے کیاہے۔سی این آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھارت معاہدے کے تحت اپنے آبی حقوق کابھرپور استعمال کرنے کیلئے پرعزم ہے اور اس کیلئے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعے متنازعہ امور کے دوستانہ حل میں یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے ہونے والی ہندپاک آبی کمشنروں کی ملاقات کے دوران چناب پربھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن پر پاکستان کے اعتراضات پر تبادلہ خیال کیا جائے گااورامید ہے کہ اس تبادلہ خیال سے ان امور پرایک حل طے پاجائے گا۔پاک بھارت کے مابین بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں آنے والا اجلاس کتنا اہم ہے، کے سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ معاہدے کی دفعات کے تحت دونوں کمشنرز کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ سال میں کم از کم ایک بار بھارت اور اگلے سال پاکستان میں ملیں۔ اس سے قبل مارچ 2020 میں نئی دہلی میں میٹنگ طے تھی، جو وبائی صورتحال کے پیش نظر باہمی رضامندی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد پہلی بار منسوخ کردی گئی ۔ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی یہ لازمی اجلاس کووڈ 19 سے متعلق تمام پروٹوکول کے ساتھ ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ یہ اجلاس دو سال کے وقفے کے بعد ہونے والی 116 ویں میٹنگ ہوگی اور جب سے 1960 میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان 115 میٹنگیں ہو چکی ہیں ۔