سماج ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جس میں رہنے والے ایک دوسرے کے ہمسفراورہم قدم ہوتے ہیں ۔ سماج میں ہر فرد کی اپنی ایک انفرادیت ہے ۔زندگی کا اصل مقصد ایک دوسرے کی مدد کرنا،عزت کرنا، دکھ درد میںکام آنا،ترقی کے اور لوگوں کی رہنمائی کرنا یہاں تک کہ کسی غریب یا مالی طورپرکمزورہمسائے کے پاس اگررہنے کیلئے گھر،کھانے کیلئے روٹی،پہننے کیلئے کپڑے نہیں تو اُس کیلئے پورا سماج ذمہ دار ہے کیونکہ نبی ﷺ نے ایک جگہ فرمایا کہ مجھے ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں اتنا سمجھایا گیا کہ مجھے خوف ہواکہ کہیں مجھے اُنہیں اپنی وراثت میں سے حصہ نہ دیناپڑے گا ۔ ٹھیک اسی طرح سماج میں پسماندہ و محروم لوگوں کی نمائندگی کرنا کتنا اہم اور ضروری بن جاتا ہے۔ فرد کو بچانا پورے خاندان کو بچانے کے مترادف ہیں اور سماج کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے ۔
سماج کی حفاظت کرنا خالص کسی ایک انسان یا فردکی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سماج میں رہنے والا ہر ایک انساں چاہے چھوٹا ہو یا بڑا ،امیر ہو یا غریب ،مزدور ہو یا تاجر ،بادشاہ ہو یا غلام، آفیسر ہو یا عام ملازم ، غرض ہر ایک ا فرد انفرادی سطح پر سماج کی فلاح و بہبودی کا ذمہ دار ہے ۔سماج خود بہ خود وجود میں نہیں آتا بلکہ ہر کے ساتھ اور وکاس سے تعمیرہوتا ہے ۔ انسان چاہے کتنا ہی اعلیٰ و افضل کیوں نہ ہو اورہرقسم کی سہولیات جیسے اعلیٰ قسم کا کھانا، رہنے کیلئے مکان ،پہننے کیلئے مہنگے کپڑے ،چلنے کیلئے گاڑی ،سونے کیلئے قیمتی بستر وغیرہ بھی میسر ہوںتو پھر بھی اپنے آپکو سماج اور اس میں رہنے والے انسانوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اُن سے اپنے آپکو علحٰیدہ کر سکتا ہے ۔ انسان واقعی میں ایک social Animalہے جسے بہرحال ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے ۔سماج ہی کے ذریعے سے ایک انسان یا تو ستاروں کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے یا کسی غلط کام کی وجہ سے رسواوخوار ہوجاتا ہے کیونکہ سماج کی قدر کرنا اور کرانا ہر ایک فرد و بشر کی ذاتی ذمہ داری ہے ۔ صحابہ ؓ نے اپنے زمانے میں محنت ،کوشش و قربانی کی بدولت سے ایک ایسا سماج و معاشرہ تیارکیا ہوا تھا کہ جس سے پڑھ کر دیکھ کر آپ اور میں ہی نہیں بلکہ دُنیا میں رہنے والا ایک ایک فرداس وقت کی مثالیں دیتا ہے کیونکہ اُن کا رہن سہن ، آپسی بھائی چارہ ،ایک دوسرے کے کام آنا حتاکہ اپنے کھانے میں ایک دوسرے کو شریک کرناان کا روزمرہ کا کام تھا۔ آجکل ماحول کچھ اسطرح سے بدل چکا ہے کہ حسد، بغض، کینہ، لالچ، بددیانتی، بداخلاقی، بدکلامی، ناانصافی، وغیرہ انسان کا شعار بن چکا ہے ۔ اس وقت کے سماج میں ہر طرف ایک ایسا ماحول قائم ہوا ہے کہ جس سے دیکھ کر انسان کی گردن شرم سے جک جاتی ہے کیونکہ ہر طرف برائیوں ، غلط کاموں ، فحاشی ،رشوت خواری ،ظلم ،بے پردگی ،تنگ نظری ،لڑائی،فرقہ پرستی،وغیرہ نے ایسے جڑ پکڑا ہوا ہے کہ جس سے اب دور کرنا بہت ہی مشکل اور ناممکن سا معلوم ہوتا ہے ۔ اس طرح کے سماج میں یامعاشرے میں پھیلی تباہی کو روکنا کسی ایک فرد یا کسی گائوں ،شہر یا کسی قصبے کے مخصوص افرادکی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ہم سب کو نیند سے بیدار ہو کر قوم،سماج، اور گھر کے افراد کو بھی اس خطرناک تباہی و بُربادی سے بچانا ہو گا ورنہ اﷲ نہ کرے وہ دن دورنہیں کہ جس دن پشتاوے کے بغیر ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہوگااور وہ پشتاوا ہمیں کوئی بھی کام نہ دے گا۔ قوم یا سماج کی خدمت کرنا ، وہاں رہنے والے خصوصاََ نوجوانوں کو ساتھ لے کر اُن سے صلح مشورہ کر کے قوم یا سماج کو آگے لے جایا جاسکتا ہے ورنہ من مانی،بڑاپن ،خودغرضی وکم فہمی انسانیت کو خاک میں ملا دیتا ہے۔جس قوم یا سماج کی تقدیر کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو وہاں کے نوجوان نسل کو ساتھ لے کر چلنا ،قدم قدم پر اُنکی رہنمائی کرنا ،اُن کے اندر اچھی سوچ پیدا کرنا وہاں کے بالغ،باشعور ،باصلاحیت، قابل فہم و قابل عقل لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ آگے چل کر یہی نوجوان نسل آئندہ آنے والی قوم کی رہبری و رہنمائی کیلئے تیار ہوجائے ۔ ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ جو سماج اچھی سوچ نہ رکھتا ہوتو وہاں کے رہنے والے انسان کبھی ترقی یافتہ نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ترقی کی منزلوں کو پہنچ سکتے ہیں ۔ بقول اقبال ؎
عقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں
موجودہ دور کے سماج میں بہت سارے مسائل در پیش ہیں کہ جن میں ایک طرف معاشرے میں پھیلی بُرائیاںمثلاََ ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی،عزت کی کمی،لوٹ کھسوٹ،گالی گلوچ،ناپ تول میں کمی کرنا،تجارت میں بددیانتی وغیرہ ایسے خطرناک اور جان لیوا جرائم موجود ہیں کہ جن کی نحوست سے آجکل کے شہر ،گائوں ،گھر اﷲ تعلیٰ کے عذاب کے حقدار ہوئے ہیں ۔ لیکن پھر بھی اﷲ تعلی ہماری حفاظت فرماتے ہیں اور ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں ۔ دوسری طرف اس وقت کی انسانیت خصوصاََ نوجون نسل اُن گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں کہ جن کا ازالہ کرنا اب دشوار نظر آتا ہے ۔اسیلئے سماج میں رہنے والے ہر ایک انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے گھروں سے لے کر تمام سوسائٹی میں پھیلی بدکاریوں کو روکنے کی صحیح و جائز تدبیریں کرکے قوم و ملک کو تباہی سے بچا لیا جائے ۔ خصوصاََ سماج کے بڑے اور ذی شعور انسان حکمتوں سے کام لے کر بغیر کسی قسم کے انتشار سے اپنے گھر،سماج،قوم اور ملک کو بچالیں ۔ اﷲ تعلی نے بھی قرآن پاک میں بہت ساری جگہ پر قوم پر رحم کرنے کوبہت ہی بڑا عمل قرار دیا ہے اسیلئے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس سماج ایسے لوگ کھڑے ہوں جو سماج کو بغیر کسی لالچ کے اُنہیں صحیح راہ پر لگانے کی کوشش کریں تو یقینی طورپر اُن لوگوں کا حشر نیک اوراچھا ہوگا ۔ اﷲ تعلی ہمیں سماج اور اس میں رہنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
حدیث میں آیا ہے کہ :
’’ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم کرتا ہے تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا (اللہ تعالی ) تم پر رحم کرے گا ۔ ( سنن ابی دائود ،جلد سوم کتاب الادب ۴۹۴۱)
�������