سلیمان جاذبؔ کامجموعہ کلام

 پوچھا گیا کہ عشق کیا ہے؟ جواب ملا!
کیا کہوں میں تم سے کہ کیا ہے عشق
دل کا درد بلا کا سوز ہے عشق
 پوچھا گیا کہ یہ عشق مجازی کیا ہے ؟ جواب ملا!
میں نیواں میرا مرشد اُچا اُچیاں دے سنگ لائی
صدقے جاواں اُنہاں اُچیاں توں جنہاں نیویاں نال نبھائی
 تجسس بڑھا اور پوچھا جاتا ہے کہ تو پھر عشق حقیقی کیا ہے ؟ جواب ملتا ہے !
عشق آں شعلہ است کہ جوں بر فروخت
کہ ہر جُز معشوق باشد جملہ سوخت
یہ رائے اپنی جگہ، عشق،عشقِ مجازی، عشق حقیقی کے حوالے سے جامع مطالعہ کیا جائے تو اِس بات کا باخوبی اندازہ ہوگا کہ ہر کسی نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق اپنے اپنے انداز میں اِن کی قابل ذکر،قابل فہم تعریف کی گئی ہیں ،اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ’’عشقــ‘‘ کو بے معنی کا راگ قرار دیتا ہے مگر عشق ایک جذبہ ہے اور جذبات کو جھٹلانا ناممکن ہے ۔
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یٰسین وہی طٰہٰ
عشق ایک ایسا فطری جذبہ ہے کہ بندہ اگر کسی انسان سے عشق کر بیٹھے تو دوسرے رشتے نظروں سے اوجھل ہونے لگتے ہیں،دیگر ناطے اپنی اہمیت کھونے لگتے ہیں ۔ جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے ’’اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تم کو تمہاری جانوں، بیوی، بچوں، گھر باراور دیگر چیزوں سب سے زیادہ عزیز نہیں ہوجاتا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
جس نے بھی قلم تھاما ، شاعری ہو یا نثرنگاری،عشق کے موضوع پر ضرور طبع آزمائی کی، ہرکسی کی تخلیقات قارئین کی توجہ حاصل کر پائیں یہ ضروری بھی نہیں مگر عصر حاضر میں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے عشق کے موضوع پر لکھا اور بہت ہی خوب لکھا ،جسے پڑھا بھی گیا،پڑھایا بھی گیااور سراہا بھی گیا،اِن میں ایک دبئی میں مقیم معروف نوجوان شاعر و صحافی سلیمان جاذب کا نام بھی سرفہرست ہے جن کی منظرعام پر آنے والے مجموعہ کلام ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘ کی جادوئی جنبش نے ادبی حلقوں میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے ، کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ سحرانگیز کیفیات و جذبات اور احساسات بڑی ہی خوش اسلوبی سے آشکار ہونے لگتے ہیں کہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی جانب سفر میں انسان کیسے لاحاصل رہتا ہے؟اور کیسے پیالے بھر پانی کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے ؟ کیسے اس کی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں؟کیسے رشتوں کی اہمیت کروٹ بدلنے لگتی ہے؟کیسے وہ تنگ رستوں سے ہٹ کر مدار میں محوسفر ہوجاتاہے؟کیسے عاشق اپنے معشوق سے والہانہ عشق کرنے لگتا ہے ؟اور پھر کیسے اپنے عشق کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو آمادہ ہوجاتاہے ؟ ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘  میں عشق اور عقل کے بارے وہ اظہار بھی ملتا ہے جس کے لئے مولانا رومؒ فرماتے ہیں   ؎
عشق آمد عقل او آوارہ شد
صبح آمد شمع او بیچارہ شد
سلیمان جاذب کا نام ادبی دنیا میں بالکل بھی تعارفِ محتاج نہیںتعلق سرگودھا سے ہے،2007سے دبئی میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں ،کم عمری میں ہی اِن کی تخلیقات اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں،باقاعدہ شاعری کا آغازفرسٹ ایئر سے کیا،اِن کے لکھے گیت ’’کاش‘‘، ’’پردیس میں عید‘‘، ’’الوداعـ‘‘، ’’تم جب اس کی مثال دیتی ہو‘‘،’’ لمحہ لمحہ‘‘سمیت کئی مقبول عام ہوچکے ہیں ۔فروغ ادب اور صحافتی خدمات کے اعترات میں انہیں مختلف مواقع پر بیس سے زاید ایوارڈز وشیلڈز سے نوازا جا چکا ہے ، خصوصاً شارجہ بک اتھارٹی کی طر سے بھی گزشتہ دو سالوں سے تحسینی اسناد وصول کر رہے ہیں۔طفیل ثاقب، اسلام اعظمی اور عباس تابش کو اپنا استاد مانتے ہیں ، 2009سے پاکستان جرنلسٹ فورم دبئی سے(ر) وابستہ ہیں اور اِس وقت ایونٹ سیکرٹری کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔اِن کی کتب ’’تیری خوشبو ‘‘ 2009، ’’سورج ڈوبا نہیں کرتے ‘‘ 2012، ’’قتل گل‘‘ 2014، میں شائع ہوچکی ہیں جب کہ چوتھی کتاب ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘چند روز قبل ہی منظر عام پر آئی ہے ،جس کی تقریب رونمائی کا انعقاد گزشتہ دنوں دبئی میں کیا گیا ۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہو اجس کی سعادت  ڈاکٹر اکرم شہزاد نے حاصل کی ۔ آپﷺکے حضورسلیمان جاذب کی لکھی نعتﷺ نعت خوان درنجف کی دل سوز آواز میں پیش کی گئی۔نظامت کے فرائض حافظ زاہد علی نے حسب روایت اپنے پُرکشش منفرداندازوبیان میں بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے سلیمان جاذبؔ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا شعری مجموعہ عشقِ حقیقی اور عشق مجازی کا امتزاج ہے جس میں غزلوں کی ترتیب اس قدر آسان فہم اور سادہ ہے کہ عام لوگ بھی اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں تالیوں کی گونج میں’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘کی رونمائی عمل میں لائی گئی ۔ معروف ادبی ، سماجی ، سیاسی اور کاروباری شخصیات کے علاوہ اردو ادب کا ذوق رکھنے والے خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔روزنامہ’’ آفتاب‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قابل افسوس بات ہے کہ ادب سماج سے دور نکلتا نظر آ رہا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ادب زندگیوں کا حصہ بنے، تربیت کی کمی ہے، معاشرتی اقدار ختم ہوتی جا رہی ہیں، ادب برائے ادب سا لگنے لگا ہے،اردو رسم الخط سے بیزارگی پیدا ہوتی جا رہی ہے، بچے اردو کو ایک مشکل مضمون سمجھتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اس سوال کے جواب میں کہ ’’ وطن عزیزاور دیارِ غیر میں فروغ ادب کے حوالے کاوشوں کا کیسے موزانہ کر سکتے ہیں؟‘‘ سلیمان جاذب کا کہنا تھا کہ اردو ادب کے لئے بیرون ملک زیادہ کام ہوتا ہے کیونکہ ہجرت اور زبان کی عدم دستیابی لگائو بڑھاتی ہے،ملک سے باہر اچھا کام ہو رہاہے خصوصا ًعالمی مشاعرے و تقاریب ۔ اپنی قائم کردہ تنظیم مسفرہ انٹرنیشنل کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ خالصتاً ادبی وثقافتی روایات کی امین تنظیم ہے،جس کا مقصدمشاعروں و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرانا ہے اور فروغ ادب کیلئے کاوشیں کرنے کے علاوہ ادب میں گراں قدر پیش کرنے والوں کو پذیرائی بھی کرنا ہے ، یہ سلسلہ الحمداللہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔ ’کیا آپ سمجھتے ہیں ادب محفوظ ہاتھوں میں ہے،کیسے؟‘‘روزنامہ ’’آفتاب ‘‘کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں جاذبؔ نے کہا کہ نئی نسل راغب ہے لیکن محنت کی ضرورت ہے، ادب کو ادبی گروہ بندیوں سے نقصان ہو رہا ہے،بے لوث لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔’’آفتاب‘‘ کے توسط نئے لکھنے والوں کے نام اپنے پیغام میں سلیمان جاذب کا کہنا ہے کہ کامیابیوں اور شہرت کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں،محنت اور لگن ک ساتھ تسلسل سے کام کر نا ضروری ہے ۔