بنگلہ دیش کی آزادی کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر یعنی 16 دسمبر کو پاکستانیوں نے ٹوئٹر پر ہندوستان کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ان میں سے زیادہ تر ٹویٹس بنگلہ دیش کی آرمی کے بارے میں معتدل تھیں لیکن ان میں بھارت کے لیے بہت زیادہ قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا گیا تھا۔ ٹویٹس کو اردو میں’’ڈھاکہ کے بدلے دہلی‘‘، ’’دل پہ نقش ہے ڈھاکہ‘‘،’’ ۱۶؍دسمبر اور پاکستان ٹوٹ گیا'‘‘کے ہیش ٹیگز کے ساتھ ٹویٹ کیا گیا۔ جبکہ انگریزی میں 'Fall of Dhaka' سمیت کئی ہیش ٹیگز پاکستانیوں کی جانب سے ٹرینڈ کیے گئے۔ لیکن’India behind APS‘ اور’APSpeshawar‘کے الفاظ میں ایک خاص ٹرینڈ بنایا گیا۔ ان ٹویٹس کا مقصد6 دسمبر کو پشاور کے سکول میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا ذمہ دار ہندوستان کو ٹھہرانے کی کوشش کرناتھا۔ ٹویٹر پر پاکستانی چاہے جتنے بھی جھوٹ بولیں، سچ یہ ہے کہ جب تک مشرقی پاکستان رہا، ناانصافی کا دائرہ اتنا پھیل چکا تھا کہ اسے پاکستان سے الگ ہونا پڑا۔
1947 میں آزادی کے ساتھ ہی ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو ملک آزاد ہوئے۔ پاکستان دو حصوں میں بٹا ہوا ملک تھا ،جس کا مشرقی پاکستان سے جغرافیائی فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ پاکستان کی اسکولوں کی کتابوں میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کو ہندوستان نے بنگلہ دیش بنا کر الگ کیا تھا، یعنی پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا، لیکن پاکستان اپنی سکول کی کتابوں میں بچوں کو یہ نہیں بتاتا کہ پاکستانی فوج نے عام بنگالیوں پر کتنا ظلم کیاہےکہ اس کا انجام یہی ہونا تھا۔ صرف 24 سال ایک ساتھ رہنے کے بعد مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ بنگلہ دیش کو حقیقی آزادی 16 دسمبر 1971 کو ملی ،لیکن اس سے 10 دن پہلے ہندوستان نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ جب پاکستانی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے ہندوستانی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کئے تو اُسی دن مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ گیا اور بنگلہ دیش ایک نئے ملک کے طور پر ابھرا۔
اپنی ہٹ دھرمی اور سیاسی حماقتوں کی وجہ سے پاکستان اپنے وجود کے ساتھ ساتھ مشکلات کا سامنا کرتاآرہا ہے۔ آزادی کے وقت پاکستان کی کل آبادی کا 56 فیصد صرف مشرقی پاکستان میں مقیم تھا۔ ظاہر ہے یہ بنگالی بولنے والے تھے۔ پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی زبانیں بولنے والے لوگ مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان میں رہتے تھے۔ پاکستان نے جس اردو کو اپنی سرکاری زبان کے طور پر اپنایا، وہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مجاہدین کی زبان تھی جن کے بولنے والوں کی تعداد صرف 3 فیصد تھی۔ شمالی ہند کے مہاجر کا خیال تھا کہ پاکستان ان کے نظریے کا نتیجہ ہے ،اس لیے پاکستان کو ان کی زبان یعنی اردو اور ثقافت کے مطابق چلنا چاہیے۔ حالانکہ جغرافیائی لحاظ سے مغربی پاکستان میں رہنے والے پنجابی زبان سے متاثرتھے۔ چونکہ جناح بھی ہندوستانی نژاد تھے، اس لئے انھوں نے بھی محسوس کیا کہ صرف اردو ہی پاکستان کو جوڑ سکتی ہے۔ تاہم جناح بھول گئے کہ اس اردو کے اصرار پر ملک ٹوٹ سکتا ہے۔ اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اردو کا اصرار پکڑا اور مارچ 1948 میں محمد علی جناح نے ڈھاکہ کے دورے کے دوران بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی زبان صرف اردو ہوگی۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس نے بنگالی بولنے والے مشرقی پاکستانیوں کو محسوس کرایا کہ پاکستان انہیں اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ جناح جیسا لیڈر بھی یہ نہ سمجھ سکا کہ زبان کے معاملے پر ملک میں کتنی تقسیم ہو سکتی ہے۔ ہندوستان جہاں اردو کو اپنی ایک تسلیم شدہ زبان کے طور پر اپنا حصہ دے رہا تھا وہیں مشرقی پاکستان میں یہ بکھرنے کی راہ پر گامزن تھی۔ اردو کو مشرقی پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کا مطلب یہ تھا کہ بنگالیوں کو اردو سیکھنی پڑے گی لیکن پاکستانی بنگالی نہیں سیکھیں گے حالانکہ مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے اکثریت میں تھا۔شاید اردو بولنے والے مسلمان جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے یہ محسوس کرتے تھے کہ اردو کے ذریعے ہی اسلام پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ یہی ثقافتی غلطی تھی ،جس نے بنگلہ دیش کے قیام کی راہ ہموار کی۔
1952 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ کی تحریک کوسیاست کے میدان میں کون بھول سکتا ہے؟ 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے اردو کے نفاذ کے خلاف احتجاجاً بنگالی زبان کو تسلیم کرنے کی تحریک شروع کی، اس مظاہرے پر پولیس نے گولیاں چلا کر کئی طلبہ کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے نے عام بنگالیوں میں یہ نظریہ قائم کیا کہ مغربی پاکستان ہمیں بطور زبان جھٹلانے پر تلا ہوا ہے۔ یونیسکو نے 1999 میں 21 فروری کو 'مادری زبانوں کا عالمی دن'کے طور پر منانے کا اعلان کیا، اس عالمی دن کا قیام بنگالیوں کی جانب سے اپنی زبان کے تحفظ کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد میں قائم کیا گیا۔
زبان اور اسلام کے معاملے پر پاکستانی یہ بھول گئے کہ بنگالی زبان میں اسلام پر پہلے ہی بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ اس وقت بھی جب مشرقی پاکستان غیر منقسم ہندوستان تھا اور آج بھی بنگال کی مساجد میں بنگالی زبان میں جمعہ کے دن تقریریں ہوتی ہیں۔ اذان اور نماز کے علاوہ، باقی اسلامی ثقافت کو بنگالی مسلمانوں نے بنگالی زبان میں ڈھال لیاہے، جیسا کہ کیرالہ میں یہ مثال ملیالم زبان اور آسام میں آسامی زبان اسلام اور وہاں کے مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔
بنگلہ دیشیوں کے ساتھ عام پاکستانیوں کی ثقافتی کشمکش یا نفرت بھی بنگلہ دیش کے قیام کا باعث بنی۔ عوامی لیگ نے نہ صرف زبان کو بلکہ معاشی عدم مساوات کو بھی ایشو بنایا۔ پاکستان بنگالیوں کے ہر جائز مطالبے کو بندوق کی نوک پر دبانا چاہتاتھا۔
25 مارچ 1971 کو 'آپریشن سرچ لائٹ' کے نام پر اس وقت کے مشرقی پاکستان میں عام بنگالیوں، طلبہ، دانشوروں، مذہبی اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کے خلاف جو قتل وغارت گری شروع کی۔در اصل اسی نے بنگلہ دیش کے آزادی کی تعبیر لکھ دی۔ 1970 کے انتخابی نتائج کی مخالفت میں جب مغربی پاکستان کے ضدی سیاست دانوں نے شیخ مجیب الرحمان کو لیڈر ماننے سے انکار کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں فوج کو عام بنگالیوں پر چھوڑ دیا تو اس کا نتیجہ ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں نکلنا تھا۔ آپریشن سرچ لائٹ کے خلاف پورا مشرقی پاکستان سراپا احتجاج بن گیا۔ بے شک ہندوستان نے مداخلت کرتے ہوئے 'مکتی جدو' (جنگ آزادی ۔ جدوجہد آزادی) کی حمایت کی، لیکن یہ ایک وقت کے غیر منقسم ہندوستان کے ساتھ انسانیت کی پکار پر ایک ذمہ دار پڑوسی کا فرض بھی تھا۔اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے امریکہ اور چین کی پرواہ کیے بغیر عام بنگلہ دیشیوں کو جس غلامی سے آزاد کیااس کی مثال نہیں ملتی۔
آج بھارت اور بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ دونوں ممالک سارک، BIMSTEC، IORA اور کامن ویلتھ کے رکن ہیں۔ دونوں ممالک اپنی تجارت کو 10 بلین امریکی ڈالر کے برابر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہندوستان بنگلہ دیش کو 6 بلین ڈالر سے زیادہ کا سامان برآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سڑک اور آبی راستے تجارت کرنے کا منفرد معاہدہ ہے۔ جہاں ہندوستان میانمار کو برآمدات میں اس کا فائدہ اٹھاتا ہے، وہیںبنگلہ دیش کو مغربی ایشیا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ آج بھی پاکستان 1971 کے سانحے کو نہیں بھولا ہے لیکن اسلام آباد کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ 1971 میں بنگالی نسل کشی اور ناانصافی کو روک لیتا تو اسے یہ ساری سازشیں کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
(مضمون نگار شجاعت علی قادری، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا کے چیئرمین ہیں۔مضمون میں ظاہر کی گئی آراء آپ کی خالصتاً اپنی ہیں اور اُن سے ادارے کا کلّی یا جزوی طور متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔)