ٹور آپریٹروںاورہوٹل مالکان کی سراہنا
سرینگر/سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سول انکلیو کی توسیع، جسے منگل کو مرکزی کابینہ نے 1,677 کروڑ روپے میں منظور کیا تھا، ٹورازم آپریٹرز، ہوٹلوں، کاروباری رہنماؤں، مسافروں اور مقامی باشندوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے، جو اسے رابطے کو بہتر بنانے، روزگار پیدا کرنے اور وادی کشمیر کی مجموعی معیشت کو تقویت دینے کے لیے ایک اچھا قدم سمجھتے ہیں۔سرینگر ایئرپورٹ کو 2005 میں بین الاقوامی درجہ ملا تھا اور گزشتہ برس تک یہ پیک ٹورسٹ سیزن میں روزانہ 110 سے زیادہ پروازیں ہینڈل کر رہا تھا۔نئے منصوبے کے تحت 73ایکڑ سے زائد رقبے پر ایک جدید ترین ٹرمینل بنایا جائے گا جو 71ہزار مربع میٹر پر محیط ہوگا ۔کئی ٹورازم آپریٹرز نے اس منصوبے کو سیاحوں کی آمد کے لیے ایک بڑا فروغ قرار دیا۔
سری نگر میں مقیم ایک ٹور آپریٹر توقیر نے کہاکہ یہ ہوائی اڈے کی توسیع کشمیر میں سیاحت کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔مقامی ہوٹل والوں نے بھی اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف کشمیر (TAAK) سمیت کاروباری رہنماؤں نے اس منصوبے کی اقتصادی صلاحیت پر زور دیا۔اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایئرپورٹ کی توسیع صرف سیاحت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ برآمدات، تجارت اور مقامی روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ کشمیری سیب، اخروٹ، زعفران اور دستکاری کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ تک تیزی سے پہنچ سکیں گی۔ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ وادی میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی بہتر کرے گا، جس سے مجموعی طور پر ریاستی معیشت مستحکم ہوگی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق یہ ترقی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار میں سیاحت کے حصے کو 7 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد تک لے جا سکتی ہے، جبکہ سالانہ سیاحوں کی تعداد 2030 تک 30 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔مجموعی طور پر ایئرپورٹ کی توسیع کو وادی کی ترقی کا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاحتی صنعت، مقامی کاروبار، چھوٹے دکاندار، ٹریول ایجنٹس اور مسافر سب ایک بار پھر پرامید نظر آ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ صرف ہوائی اڈے کی وسعت نہیں بلکہ کشمیر کے معاشی مستقبل کی نئی بنیاد ثابت ہوگا۔