مشتاق احمد تعظیم کشمیری
چند سال پہلے جب کشمیر میں ریل سروس شروع ہوئ لوگ بہت خوش ہوئے کہ جو کبھی سوچا نہ تھا وہ یقین میں بدل گیا۔ ہرشخض کو یہ شوق ہے کہ ہم بھی اس ریل گاڑی میں سفر کریں ،اسی طرح مجھے بھی یہ شوق تھاکہ میں بھی اس ریل گاڑی میں سفر کر کے لطف اندوز ہو جاوں۔ اتفاق سے مجھے بھی جب اس ریل گاڑی میں سرینگر سے بانہال تک اور واپسی پربانہال سے سرینگر تک سفر کرنے کا موقع ملا، میں نے خوشی سے سرینگر ریلوے اسٹیشن سے ٹکٹ نکالی اور ریل گاڑی کا انتظار بڑی بے چینی سے کرنے لگا۔ چند منٹ انتظار کرنے کے بعد آخر وہ لمحہ آگیا جس کا مجھے بڑی بے صبری سے انتظار تھا، ریل گاڑی پٹری پر رُک گئ، جو ں ہی میں ریل گاڑی میں داخل ہوگیا، میرا موڈ ریل گاڑی کی اندرونی حالت دیکھ کر بہت خراب ہوگیا ۔گاڑی کی حالت ایسی تھی جیسے اس کو کچرے کے ڈھیر سے نکالا گیا تھا، اس کے سیٹوں کی حالت اتنی بُری تھی کہ انسان کو جی نہیں چاہتا کہ اس پر سفر کروں،سیٹوں پر اتنا میل تھا کہ بیٹھنے کا دل نہیں مانتا، بدبو تھی کہ مزاج خراب ہوگیا۔ کوئی سیٹ اپنی جگہ پر صحیح سلامت نہیں ہے، تمام سیٹوں کے غلاف پھٹ گئے ہیں ۔اُن کے اندر کا فوم باہر آئے ہیں، شیشوں کی حالت ایسی ہے جیسے گاڑی کے اندر کرکٹ کھیلا گیا ہے۔
ریل کے اندر ڈسپلن نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ لوگ اپنا ساما ن شلف کے بجائے دروازوں کے سامنے رکھتے ہیں۔ تقریباً 30 فی صدی لوگ بنا ٹکٹ کے سفر کرتے ہیں۔ کوئی ٹی۔ ٹی بھی چیک کرنے کےلیے نہیں آتا ہے۔ریل ڈبوںمیں بھکاریوں کی بھی بھیڑمسافروں کو تنگ کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ جس وجہ سے مسافروں کا سامان محفوظ نہیں ہوتا ہے۔ سفر کے دوران گاڑی میں کھانے پینے کی اشیا فروخت ہوتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑی میں بہت سارا کچرا جمع ہوتا اور جس کی صفائی بہت کم قلیل ہوتی ہے ۔ سفر کے دوران سگریٹ نوشی بھی ہوتی ہے کیونکہ انتظامیہ کا کوئی فرد ہی دورانِ سفر گاڑی میں موجود نہیں ہوتا ہے۔ مسافر چلتی گاڑی کے دوران دروازے پر لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں ،جس کی وجہ سے جان کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے ۔
بانہال سے سرینگر پر واپسی کے دوران بھی ایسی ہی بُری صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ بانہال ریلوے اسٹیشن پر واش روم اتنے گندے ہیں کہ سارا پیشاب و فضلہ وہاں جمع ہوگیا ہے۔ واش روم استعمال کرنے سے سارے کپڑے گندے ہوتے ہیں، واش روم میں پانی کا انتظام اچھی طرح سے نہیں ہے، تین ٹکٹ کونٹر موجود ہونے کے باوجود محض ایک کونٹر سے ٹکٹیں اجرا کی جاتی ہیں، جسکی وجہ سے ٹکٹ نکالتے وقت بہت بھیڑ جمع ہوتی ہے ۔گاڑی نکلنے کے دوران بھی ٹکٹیں اجرا ہوتی رہتی ہے، جسکی وجہ سے مسافر چلتی گاڑی کے دوران اس پر چڑھ جاتے ہیں۔ تمام انتظامیہ تماشا ئی بن کر رہ جاتے ہیں ۔ آخر ایسا کیوں؟ ریلوے انتظامیہ اس کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہی نظام چلتا رہا تووہ دن دور نہیں ، جب کشمیر کا ریلوے نظام ایک خواب بن کر ہی رہے گا۔ انتظامیہ سے گذارش ہے کہ کشمیر ریلوے کا سسٹم بہترین طریقے سے چلایاجائے، ٹکٹ وغیرہ کی پورا چکنگ کی جائے، صفائی کا خاص خیال رکھا جائے اور مسافروں کو پورا تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ یہاں کا ریلوے نظام ایک مثال بن جائے۔
[email protected]