کہیں سڑکوں کے سروے رپورٹ اور کہیںڈی پی آر پیش کرنے میں تاخیر
بلال فرقانی
سرینگر//پائین شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام اور انفراسٹرکچر پر دبائو کے پیش نظر سڑکوں کی توسیع، اپ گریڈیشن اور اہم چوراہوں کی ازسرنو ڈیزائننگ کے متعدد منصوبے مختلف مراحل جائزہ، منظوری اور عمل درآمدمیں ہیں، تاہم اس مقصد کیلئے مختص 71 کروڑ روپے کی رقم مقررہ مدت میں استعمال نہ ہو سک کے باعث منسوخ ہوگئی ہے۔ حکومت نے فنڈز کی بحالی کیلئے محکمہ خزانہ سے باضابطہ درخواست کی ہے تاکہ ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھایا جا سکے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق قدیم شہر کی بیشتر سڑکیں کئی دہائیاں قبل محدود چوڑائی کے ساتھ تعمیر کی گئی تھیں، جبکہ آبادی میں اضافے اور تجارتی سرگرمیوں کے پھیلائو کے باعث ٹریفک کا دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور ایمرجنسی سروسز کی نقل و حرکت بھی کئی مقامات پر دشوار ہو جاتی ہے۔حکام کے مطابق پائین شہر میں سڑکوں کی تنگی، بڑھتی ہوئی آبادی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث ٹریفک کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ مجوزہ منصوبوں کی تفصیل کے مطابق نوشہرہ،صورہ (کے زیڈ پی روڈ) کوریڈور پہلے سے منظور شدہ پروگرام کا حصہ ہے۔ نالہ بل پل کے قریب بعض ڈھانچوں کا حصول مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر املاک کے حصول کا عمل عدالتی معاملات کے تصفیے سے مشروط ہے۔
سعدہ کدل سے آشاجی پورہ (ایس ایم ایس روڈ)تک تقریباً 1.75 کلومیٹر سڑک کو 7.5 میٹر سے بڑھا کر 21 میٹر کرنے کی تجویز ہے اور اس ضمن میں سروے و فزیبلٹی عمل جاری ہے، جس کے بعد تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ پیش کی جائے گی۔دیوی آنگن،حول روڈ کی توسیع و اپ گریڈیشن کیلئے مرکزی روڈ و انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت 31.25 کروڑ روپے لاگت کا ابتدائی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں اراضی کے حصول اور یوٹیلیٹی شفٹنگ کے اخراجات شامل ہیں۔ یہ منصوبہ منظوری اور فنڈ کی دستیابی سے مشروط ہے۔ عالمگیری بازار چوک کی ازسرنو ڈیزائننگ 335 لاکھ روپے جبکہ مرزا کامل صاحب چوک کی سر نو ڈیزائننگ 135 لاکھ روپے لاگت سے منظور کی گئی ہے اور ضروری منظوریوں کا انتظار ہے۔شہر کے دیگر حصوں میں بھی محکمہ تعمیرات عامہ نے اہم شاہراہوں کی نشاندہی کی ہے۔ کنال ایونیو (بنڈ روڈ)کو موچھو برج سے راولپورہ برج تک کشادہ کرنے کیلئے 200 لاکھ روپے کا منصوبہ الاٹ کیا جا چکا ہے۔ نٹی پورہ سے چھانہ پورہ پل اور بائی پاس تک سری نگر،چرار شریف روڈ کیلئے 984.88 لاکھ روپے کا ڈی پی آر جمع کیا گیا ہے۔ صنعت نگر سے وانہ بل،رنگریٹ انڈسٹریل سٹیٹ و اولڈ ایئرپورٹ روڈ تک سڑک کی توسیع کیلئے 3058.12 لاکھ روپے کا منصوبہ متعلقہ دفتر میں پیش کیا جا چکا ہے۔سڑکوں کی بہتری کے منصوبوں میں ٹنکی پورہ زینہ دار محلہ روڈ، نواب بازار لنک روڈ، جہانگیر چوک تا نیلم سنیما روڈ، ہارون سے نہرو پارک تا کرالہ سنگری، نارہ بل کراسنگ، بنی لدر روڈ (سدھنار و کھمبر لنکس)، آستان کالونی کھنموہ اور مونگ دجی سے تکیہ سنگری روڈ شامل ہیں۔مقامی شہریوں کے مطابق صبح و شام کے اوقات میں لال چوک، صنعت نگر اور رام باغ سمیت متعدد علاقوں میں شدید ٹریفک جام معمول بن چکا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں، طلبہ کی آمدورفت اور پبلک ٹرانسپورٹ متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور محدود سڑک گنجائش مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کیلئے مرحلہ وار سڑکوں کی توسیع، جدید ٹریفک مینجمنٹ اور مربوط بین الامحکماتی تعاون ناگزیر ہے۔حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ منسوخ شدہ 71 کروڑ روپے کی رقم کی بحالی کے بعد ڈائون ٹاون سرینگر میں ٹریفک دبائواور سڑک تحفظ سے متعلق منصوبوں پر مرحلہ وار عمل درآمد شروع کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بڑھتے ہوئے ٹریفک بحران سے ریلیف فراہم کیا جا سکے۔