سیدرضوان گیلانی
سرینگر// جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی کو بتایا ہے کہ سرینگراسمارٹ سٹی مشن کے تحت تعمیر کیے گئے 25 عوامی واش رومز میں سے صرف 15 ہی اس وقت فعال ہیں، جبکہ 10 بدستور غیر فعال پڑے ہیں، جس سے شہری سہولیات کی دیکھ بھال پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب رکن اسمبلی احسان احمدشیخ کے سوال کے جواب میں محکمہ شہری ترقی کے وزیر نے ایوان کو تفصیلات فراہم کیں۔حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سرینگرسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت تاحال نکاسی آب کا کوئی جامع منصوبہ شروع نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم شہر کی چند اہم سڑکوں بشمول بٹہ مالوقمر واری روڈ، ریذیڈنسی روڈ، ایم اے روڈ اور دیگر مقامات پر سٹارم واٹر پائپ بچھائے گئے ہیں، جنہیں موجودہ سیوریج نظام سے جوڑا گیا ہے۔
حکام کے مطابق نکاسی آب کے نظام میں بار بار رکاوٹ کی بڑی وجہ گھریلو اور تجارتی سطح پر ٹھوس کچرے اور تعمیراتی ملبے کو نالوں میں پھینکنا ہے، جس سے پانی کے بہاؤ میں خلل پڑتا ہے اور نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے ڈی سلٹنگ، مرمت اور باقاعدہ نگرانی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکومت نے بتایا کہ شہر میں کئی سمارٹ سٹی منصوبے زیر تکمیل ہیں، جنہیں مئی 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں بٹہ مالو میں ٹریڈیشنل سوق مارکیٹ اور کرافٹ سینٹر کی تعمیر اور گونی کھن پلازہ سمیت مختلف علاقوں کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔دریں اثنا، شہر میں ٹھوس فضلے کے انتظام کے حوالے سے حکومت نے دعویٰ کیا کہ تمام وارڈز میں گھر گھر کچرا جمع کرنے کا نظام مکمل طور پر نافذ کیا جا چکا ہے اور کچرے کی علیحدگی کی شرح 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔تاہم اچھن لینڈفل پر تقریباً 11 لاکھ میٹرک ٹن پرانا کچرا جمع ہو چکا ہے، جسے سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے بائیو مائننگ اور بائیو ریمیڈیشن کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 800 ٹن یومیہ صلاحیت کا مربوط ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس کا ہدف 2027 تک مکمل سائنسی فضلہ پروسیسنگ ہے۔شہر میں 125 ٹن یومیہ تعمیراتی ملبہ پروسیسنگ پلانٹ پر بھی کام جاری ہے، جبکہ 3800 سے زائد ڈبل کچرا ڈبے مارکیٹوں اور سیاحتی مقامات پر نصب کیے جا چکے ہیں۔آوارہ کتوں کے مسئلے پر حکومت نے واضح کیا کہ موجودہ قوانین کے تحت صرف نس بندی اور اینٹی ریبیز ویکسینیشن ہی جائز طریقے ہیں۔ جون 2023 سے ستمبر 2025 کے دوران 15 ہزار سے زائد کتوں کی نس بندی اور اتنی ہی تعداد کو ویکسین دی گئی، جبکہ آہل چھترہامہ میں ایک نیا مرکز بھی زیر تعمیر ہے۔حکومت نے کہا کہ آوارہ کتوں کو مارنا یا منتقل کرناقانوناً قابلِ سزا جرم ہے۔