ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہمارے آئین میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ملک کا ہر شہری مساوی حقوق کا حامل ہوگا ۔ ساتھ ہی ساتھ آئین میں بنیادی حقوق کی وضاحت بھی کی گئی ہے ۔ اس لحاظ سے ملک کا ہر شہری زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیت و لیاقت کے اعتبار سے مقام حاصل کرنے کا حق داار ہے لیکن اسی آئین میں ملک کے اقلیت طبقے کی سماجی، تعلیمی اور معاشرتی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے خصوصی مراعات بھی دئے گئے ہیں۔مثلاً اقلیت طبقے کو اپنی مرضی کا تعلیمی ادارہ کھولنے کا حق حاصل ہے کہ آئین کے آرٹیکل 29اور30میں اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ دراصل ملک میں آبادی کے تناسب میں یہ طے کیا گیا ہے کہ کون سا طبقہ اقلیت ہے ۔ اگرچہ لسانی اعتبار سے بھی اقلیت طبقے کو خصوصی مراعات حاصل ہے لیکن عام طورپر آبادی کے اعتبار سے ہی بالخصوص مردم شماری کی روشنی میں یہ طے کیا جاتا رہاہے کہ کون سا طبقہ اقلیت زمرے میں شمار ہوگا۔بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ جب کبھی اقلیت کی بات ہوتی ہے تو لوگ صرف مسلمان تصور کرتے ہیں جب کہ سکھ، جین ، بودھ، عیسائی اور یہودی بھی اقلیت طبقے میں شامل ہے۔
بہر کیف! مرکزی وزارتِ اقلیتی امورکے تحت مختلف سرکاری اسکیمیں چلائی جارہی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ اقلیتی طبقہ تعلیمی ، معاشرتی اورسماجی طورپر اپنی حیثیت مستحکم بنا سکے۔ یوں تو ۱۹۹۲ء کے ایکٹ کے مطابق ہی یہ محکمہ وجود میں آگیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں یہ محکمہ کچھ زیادہ ہی فعال ہوا ہے۔ حالیہ بجٹ 2019میں اس محکمے کا بجٹ47ہزار کروڑ کیا گیا ہے تاکہ اقلیت طبقے کی پسماندگی دور کی جا سکے۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی رفتار میں شامل ہونا چاہتاہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اس ملک کی آبادی کا 14.2فی صد مسلم اقلیت طبقہ کی زندگی میں انقلاب آئے ۔شاید اس لئے حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس طبقے کی معاشرتی تصویر بدلی جا سکے۔ اگرچہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلم اقلیت طبقہ حکومِت ہند کے ان خصوصی اسکیموںکے تئیں نہ تو سنجیدہ ہے اور نہ بیدار، اور اس کے لئے کہیں نہ کہیں مسلم معاشرے کے وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو خواندگی سے ہم کنار ہیں اور اپنے معاشرے میں دانشور تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ حکومت ہند کی مختلف اسکیموں کے تئیں لوگوں کو بیدار کریں تاکہ وہ ان سے استفادہ کرسکیں۔ مثلاً نئی منزل اسکیم جس میں ایسے طلباء جو اپنی پڑھائی چھوڑ چکے ہیں اس کے لئے پھر سے تعلیمی سلسلہ شروع کرانے کے ساتھ ساتھ اسے روزگار سے جوڑنا شامل ہے ۔ دوسری اہم اسکیم استاد اسکیم ہے جس میں دست کاروں اور فن کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے لئے روزگار فراہم کرنا ہے ۔ نیشنل انسٹی چیوٹ آف ٹکنالوجی، انسٹی چیوٹ آف ڈیزائننگ وغیرہ سے وابستہ کرکے ان فن کاروں کی دست کاری کو فروغ دینا مقصد ہے ۔ ایک تیسری اسکیم سیکھواور کمائو اسکیم ہے ۔ اس کے تحت بھی روزگار مہیا کرایا جاتاہے ۔ اسکل انڈیا اور اسٹارٹ اپ کے تحت بھی اکثریت طبقے کے ساتھ اقلیت طبقے بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ ایک اہم اسکیم مولانا آزاد نیشنل اکیڈمی برائے ہنر (MANAS) ہے ۔ اس کے تحت بھی اقلیت طبقے کے ویسے نوجوان جن کی دلچسپی آرٹ، کلچر اور کرافٹ میں ہے، انہیںمالی امداد کے ساتھ ساتھ ایسے پلیٹ فارم بھی مہیا کرائے جاتے ہیں جہاں وہ اپنے فن کی بدولت روزگار حاصل کرسکتے ہیں ۔ اقلیت طبقے کے طلباء کے لئے درجہ اول سے درجہ دہم تک اسکالر شپ، میٹرک کے بعد اسکالر شپ اور پھر پی ایچ ڈی تک تعلیم جاری رکھنے والے طلباء کے لئے بھی خصوصی اسکالر شپ کا اہتمام ہے اور یہ سبھی اسکالر شپ طلباء کے بینک کھاتے میں سیدھے بھیجا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک ’’استحقاق‘‘اسکیم ہے ۔ اس کے تحت ہاسٹل میں رہنے والے طلباء کو ماہانہ ایک ہزارروپے کی امداد دی جاتی ہے اور جوبچے ہاسٹل میں نہ رہ کر باہر رہتے ہیں انہیں بھی پانچ سو روپیہ ماہانہ دیا جاتا ہے لیکن ان اسکیموں سے استفادہ کرنے والے اقلیتی طبقے کی تعداد مایوس کن ہے ۔ قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے مائنوریٹی کوچنگ کا بھی اہتمام ہے ۔ریاستی سطح پر بھی اس طرح کی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں اور مرکزی وزار ت اقلیتی امور کی جانب سے بھی فنڈنگ ہوتی ہے ۔اس سے قبل ایم ایس ڈی پی اسکیم کے تحت اسکول ومدارس کے مکانات کی تعمیر اور اقلیت طبقے کی کثیر آبادی والے علاقے میں نئے تعلیمی اداروں کے قیام کے لئے بھی فنڈ مہیا کرائے گئے تھے لیکن سچائی یہ ہے کہ ایک طرف بیروکریٹس کے ذہنی تعصبات وتحفظات ہیں اور دوسری طرف اقلیت طبقے کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے یہ سبھی اسکیمیں کاغذی بن کر رہ جاتی ہیں ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے اقلیت طبقے کو سنجیدہ اور بیدار ہونا ہوگا ،کیوں کہ حکومت کی اسکیموں پر ان کا بھی آئینی حق ہے وہ کوئی خیرات نہیں ہے ۔
مختلف ریاستی حکومتوں کی جانب سے بھی اقلیتوں کے لئے خصوصی پروگرام چلائے جا رہے ہیں لیکن یہاں بھی اقلیت طبقے کی بے حسی دیکھی جا رہی ہے۔جس سے نقصان ہو رہا ہے ۔ محکمہ فلاح وبہبود حکومتِ بہار پٹنہ کی جانب سے بی پی ایس سی، بینکنگ ، ریلوے ، سی ٹیٹ ، اسٹاف سلکشن اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے مفت کوچنگ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ محکمہ کے پرنسپل سکریٹری جناب عامر سبحانی کی سنجیدہ کوششوں کا یہ نتیجہ ہے کہ بہار میں حج بھون پٹنہ کے علاوہ دربھنگہ، کٹیہار، بھاگلپور، موتیہاری اور آرہ میں کوچنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں لیکن آبادی کے لحاظ سے جتنی تعداد میں طلباء کو متوجہ ہونا چاہئے نہیں ہو پا رہے ہیں جب کہ نتائج خاطر خواہ سامنے آرہے ہیں۔ حج بھون میں بی پی ایس سی کا ریزلٹ قابلِ تحسین رہاہے ۔ اسی طرح سی ایم کالج دربھنگہ مرکز سے بی پی ایس سی پی ٹی اور سی ٹیٹ کے طلباء نے اطمینان بخش نتیجہ حاصل کیا ہے ۔ دیگر مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی نتائج حوصلہ بخش سامنے آرہے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقلیتی طبقے میں حکومت کی اس فلاحی اسکیم کے تئیںمہم چلائی جانی چاہئے اور
اس کام کو ذی علم طبقہ ہی انجام دے سکتے ہیں ۔ بالخصوص علاقائی سطح پر اجتماعی بیداری مہم کی ضرورت ہے۔ اب ہر ضلع میں محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کا دفتر کام کررہا ہے اور ضلع اقلیتی افسر کی تقرری بھی ہوئی ہے ۔ وہاں سے بھی مختلف اسکیموں کے متعلق جانکاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسکول وکالج کے طللباء کے لئے وظیفے اور اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ کے تئیں بھی ہم سنجیدہ نہیں ہیں جب کہ کسی بھی کورس کی چار لاکھ تک کی فیس اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے ۔ رضا کار تنظیموں کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے کہ اب تعلیمی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے معاشی استحکام بھی لازمی ہے اور حکومت کی مختلف اسکیموں سے استفادہ کرکے ہم اپنی معاشی پریشانیوںکو دور کر سکتے ہیں ۔
موبائل:9431414586