سرینگر//صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ( رکن پارلیمان) قائد ثانی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سرحدوں کے آر پار جاری قیمتی جانوں کی زیاں پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کل آر پار گولہ بھاری سے سرحدوں کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں پر بے تحاشا گولہ بھاری کی وجہ سے نو قیمتی جانوں کی تلافی پر نہایت رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے جملہ سوگواراں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روحوں کی شانتی کے لئے دعا کی ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کے آر پار سرحدوں کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کو گزشتہ دہائیوں سے نہایت مشکلات اور مصائب کا سامانا کرنا پڑ رہا ہے اپنے مکانات ، املاق ، جائیداد کی تلافی ہوتی جاتی ہے ۔ فصلوں کو نقصان ہوتا ہے اور ان کے بچے پڑھائی سے بھی محروم رہتے ہے اور اکثر یہ لوگ ہجرت کر کے محفوظ جگہوں پر زندگی گزر بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل کانفرنس کی عظیم قیادت مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے زندگی بھر ہندوستان اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر افہام و تفہیم خصوصاً اہل کشمیر کی رائے کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کرتا رہا کیونکہ اہل کشمیر ہی اس سرزمین کے اصلی مالک اور اول فریق ہے۔ انہوں نے ہندپاک کی سربراہوں دونوں ممالک کے صدور ، وزیر عظموں ، امن پسند رہنماؤں اور فوجی قیادت سے اپیل کی کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر تمام حل طلب مسائل اولین فہرست میں خصوصاً مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پہلی کرے کیونکہ جس قدر اس سیاسی مسائلے کو حل کرنے میں طول دیا جائے اس قدر ریاست کے لوگوں کو مصیبت اور مشکلات کاعتاب میں رہنا پڑے گا اور آرپار سرحدوں کے لوگوں کی قیمتی جانیں تلف ہوتی جائے گے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر جنگ کا سماں ہونا کسی بھی صورت میں ہندوستان اور پاکستان کے لئے ٹھیک نہیںبلکہ یہ صورت جاری رہنے سے ہند پاک کے لئے بربادی اور تباہی کا سامان ہوگا ۔ جنگ کسی بھی صورت میں مفید نہیں بلکہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ۔ اب تک ہند پاک کے درمیان پانچ جنگیں لڑی گئی لیکن حاصل خاک ۔