مینڈھر// بالاکوٹ علاقہ کو تحصیل کا درجہ تومل گیا ہے لیکن تحصیل صرف نام تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔اگرچپ بالاکوٹ کے لوگوں کو تحصیلدار اور نائب تحصیلدار بھی دیاگیا ہے لیکن تحصیلدار بالاکوٹ پانچ پنچائتوں پر ہی تحصیل چلا رہے ہیں جبکہ بی ڈی او بالاکوٹ پندرہ پنچائتوں پر مشتمل ہے ۔تحصیل بالاکوٹ کے لئے بالاکوٹ کے لوگوں نے طویل جدوجہد کی جس کے بعد انہیں یہ درجہ ملا۔واضح رہے کہ 1965سے قبل بالاکوٹ تحصیل تھی اورسرحدی کشیدگی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ اُس پار ہجرت کرگئے جس کے بعد آبادی کم دیکھ کر مقامی لوگوں سے تحصیل کادرجہ چھین لیاگیا۔بالآخر لگ بھگ چار سال قبل حکومت نے اس درجہ کو بحال توکردیالیکن ایک ہی بالاکوٹ نیابت کو بالاکوٹ تحصیل بنایا گیا لیکن جو پنچائتیں بی ڈی او بالاکوٹ کے ساتھ ہیں وہ ساری پنچائتیں تحصیل بالاکوٹ کیساتھ نہیں لگائی گئیں اور صرف پانچ ہی پنچایتوں کو بالاکوٹ کی اس نئی تحصیل کے ساتھ جوڑاجاسکاہے۔ سنگیوٹ ،بھاٹہ دھوڑیاں، جڑاں والی گلی،نکہ منجہاڑی کی عوام کو پنچائت کے کسی بھی کام کے لئے بی ڈی او بالاکوٹ کے پاس جانا پڑتا ہے لیکن تحصیل کے کام کاج کے لئے انہی لوگوں کو مینڈھر آنا پڑتا ہے جہاں پر ان کا پورا دن ضائع ہو جاتا ہے اور کئی لوگوں کو پچاس کلو میٹر سے بھی زیادہ سفر کرکے مینڈھر آ نا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ جتنے علاقے بی ڈی او بالاکوٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان کی تحصیل ہیڈ کوارٹر بھی بالاکوٹ بنائی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی واقع ہوسکے ۔