عاصف بٹ
کشتواڑ//سالانہ سرتھل دیوی یاترا کے پیش نظر و مندر کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کشتواڑ پنکج کمار شرما نے سرتھل دیوی ماتا مندر سرتھل کے احاطہ سے 500میٹر کے دائرے میں شراب کی فروخت، رکھنے اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ حکم بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا 2023کی دفعہ 163کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ 13جولائی کو جاری کیے گئے حکم نامے میں ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ سرتھل دیوی ماتا کا یہ مقدس مقام مذہبی، ثقافتی اور روحانی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں سے یاترا کے دوران حاضری دیتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق درگاہ کے آس پاس شراب کی فروخت اور استعمال نہ صرف اس مقدس مقام کے تقدس کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کو بھی مجروح کر سکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد ضلع انتظامیہ نے فوری احتیاطی اقدامات اٹھانا ضروری سمجھا تاکہ یاتریوں کے لیے پرامن ماحول کو یقینی بنایا جا سکے،مندر کے تقدس کو برقرار رکھا جا سکے اور علاقے میں قانون و نظم کو مضبوط بنایا جا سکے۔جاری کردہ احکامات کے مطابق سرتھل دیوی ماتا مندر کے 500میٹر کے دائرے میں ہر قسم کی شراب کی فروخت، ذخیرہ اور استعمال پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور دو ماہ کی مدت تک برقرار رہیں گی، جب تک کہ انہیں قبل از وقت واپس نہ لیا جائے یا ترمیم یا توسیع نہ کی جائے۔ضلع مجسٹریٹ نے تمام لائسنس ہولڈرز، شراب فروشوں، دکانداروں، ڈھابہ مالکان، ہوٹل و ریستوران مالکان اور عام لوگوں کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ ان احکامات کی مکمل پابندی کریں۔حکم نامے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا ، 2023 کی دفعہ 223 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس کے علاوہ دیگر متعلقہ قوانین کے تحت بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔