بشیر اطہر
انسان وہ نہیں جو سانس لے، بلکہ وہ ہے جو محسوس کرے، سوچے اور کسی کے درد میں اپنا دل دھڑکتا پائے۔ یہی ہے زندگی، یہی ہے سراغ۔رات کے پچھلے پہر میں نے خواب دیکھا…… میں ایک ایسے شہر میں ہوں جہاں سب لوگ زندہ ہیں مگر ان میں زندگی نہیں۔آنکھیں کھلی تھیں مگر چہرے بے نور۔ ہونٹ ہنس رہے تھے مگر دل مردہ۔میں چونک کر جاگا۔ پسینہ میری پیشانی پر جم چکا تھا۔میں نے سوچا، شاید یہ کوئی ڈراؤنا خواب تھا۔ مگر اگلی صبح جب میں بیدار ہوا تو محسوس ہوا یہ خواب نہیں، حقیقت تھی۔گلیوں میں، بازاروں میں، دفاتر میں…. سب کے سب ایک ہی انداز میں چل رہے تھے۔ مسکراہٹیں مصنوعی، باتیں رسمی، اور جذبے مردہ۔میں نے سوچا، یہ لوگ زندہ نہیں، بلکہ زندگی کی لاشیں ہیں۔انہیں اپنے درد کا احساس نہیں، کسی اور کے دکھ کا شعور نہیں۔وہ کھاتے ہیں، پیتے ہیں، چلتے ہیں مگر محسوس نہیں کرتے۔دن گزرتا گیا۔ میں دفتر پہنچا۔ وہاں بھی وہی فضا، وہی خموشی۔کسی کو کسی کی پروا نہیں۔ ایک نے ہنس کر کہا… بھائی، آج کل کے دور میں احساس پالنا کمزوری ہے۔میں نے دل میں کہا، نہیں… یہی تو انسانیت کی اصل طاقت ہے۔رات کو میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ وہ ایک مصنوعی روبوٹ سے باتیں کر رہا تھا۔اس کی ہنسی صاف تھی مگر روح سے خالی۔میں نے سوچا، اب لوگ اپنی عقل پر نہیں، ایک مصنوعی دماغ پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔سوچنا بھول گئے، محسوس کرنا چھوڑ دیا۔اب ہر بات، ہر رائے، ہر فیصلہ کسی مشین کے ہاتھ میں ہے۔انسان خود کو سہولت کے نام پر بے جان کر رہا ہے۔میں نے خود سے پوچھاکیا یہ ترقی ہے، یا خودکشی کی ایک مہذب شکل؟کچھ دن بعد مجھےشہر میں ادیبوں کی ایک نشست میں جانے کا موقع ملا۔ہال میں روشنی تھی مگر دلوں میں اندھیرا۔سٹیج پر ایک معروف ادیب کھڑا تھا، کچھ پڑھ رہا تھا۔سامعین میں بیٹھے درجنوں ادیب تالیاں بجا رہے تھے، بغیر سمجھے، بغیر محسوس کئے۔میں نے ان کے چہروں کو دیکھا۔ وہ ہنس رہے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں خالی پن تیر رہا تھا۔پھر میری نظر ایک کونے میں بیٹھے چند ادیبوں پر گئی۔وہ خاموش تھے، مگر ان کے چہروں پر فکر کی روشنی تھی۔میں نے سوچا……. یہی وہ لوگ ہیں جو ابھی زندہ ہیں۔باقی سب تو مر چکے ہیں، بس تدفین باقی ہے۔رات گئے میں آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔آئینے میں ایک چہرہ تھا…. میرا اپنا چہرہ۔میں نے اس سے پوچھا:’’کیا تُو بھی مر چکا ہے؟کیا تیری مسکراہٹ بھی مصنوعی ہے؟کیا تیرا قلم بھی صرف تالیوں کے لئے لکھتا ہے، سچ کے لئے نہیں؟‘‘
آئینہ خاموش رہا۔مگر اس کی خاموشی میں ایک تلخ سچائی چھپی تھی۔میں نے چراغ بجھا دیا۔کمرے میں اندھیرا پھیل گیا مگر میرے اندر ایک روشنی جاگ اٹھی۔میں نے محسوس کیا…… شاید زندگی کا اصل سراغ انہی چند زندہ لوگوں کے پاس ہے،جو سوچتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، اور جن کے دل اب بھی انسانیت کے لئے دھڑکتے ہیں۔میں نے جان لیا کہ زندہ رہنے کے لئے سانس لینا کافی نہیں احساس، شعور، اور درد کا ہونا ضروری ہے۔یہی ہے انسان ہونے کا سراغ۔
���
خان پورہ کھاگ ، بڈگام، کشمیر
موبائل نمبر؛7006259067