نیوز ڈیسک
جموں// جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کے کٹرہ علاقے کی ترکوٹہ پہاڑیوں میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی مندر میں سال نو کی آمد کے پیش نظر ہفتے کو شدید سردیوں کے بیچ عقیدت مندوں کی کافی بھیڑ دیکھی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے عقیدت مندوں، جن میں بچے بھی شامل تھے، کو سال نو کی آمد سے قبل پہاڑی سے اترنے اور چڑھنے کے دوران’جے ماتا دی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔دلی سے آئے ہوئے ایک عقیدت مند نے کہا’’میں یہاں ہر گذشتہ پانچ برسوں سے ہر برس یہاں سال نو کی آمد پر حاضری دیتا ہوں یہاں مجھے کافی سکون ملتا ہے اور یہاں آکر میں ماتا دیوی سے خوشحالی کی دعا کرتا ہوں‘‘۔پونم شرما نامی ایک عقیدت مند نے کہا کہ یہاں آکر میں تمام لوگوں کی خوشی اور خوشحالی کے لئے دعا کرتی ہوں۔انہوں نے کہا’’میری دعا ہے کہ ماتا رانی تمام لوگوں پر مہربان ہوجائے اور ہر ایک خوش رہے اور سال نو ہم سب کے لئے خوشیاں لے کر آئے‘‘۔پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون عقیدت مند نے کہا کہ میں ہر سال یہاں اپنی فیملی کے ساتھ آتی ہوں اور یہاں لوگوں کی خوشحالی کے لئے دعا کرتی ہوں۔انہوں نے کہا: ’میرے لئے یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ سال نو کی آمد پر میں یہاں آکر اپنے آپ، گھر والوں اور باقی لوگوں کی خوشی اور خوشحالی کے لئے دعا کرتی ہوں‘‘۔
شیو سینا کا ویشنو دیوی بھگدڑ مہلوکین کو خراج عقیدت
ساہنی نے یاترا کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے پر زور دیا
جموں//شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ نے ان عقیدت مندوں کو دلی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے سال 2022 کے پہلے دن ویشنودیوی بھون میں بھگدڑ میں اپنی جانیں گنوائیں۔منیش ساہنی، صدر شیو سینا جموں و کشمیر کی صدارت میں کٹرا میں ایک شردھانجلی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شیوسینکوں نے موم بتیاں روشن کیں اور یکم جنوری 2022 کو بھگدڑ میں اپنی جانیں گنوانے والے عقیدت مندوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ساہنی نے کہا کہ ہر سال نئے سال کے پہلے دن لاکھوں عقیدت مند ویشنو دیوی کا آشیرواد حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اگرچہ شرائن بورڈ اس سال بہت محتاط ہے اور اس نے بھیڑ سے نمٹنے کے لیے کافی انتظامات کیے ہیں، لیکن رجسٹریشن کاؤنٹر پر لمبی قطاروں سے عقیدت مندوں کو راحت فراہم کرنے کا کام ابھی تک نہیں کیا جا سکا ہے۔ساہنی نے کہا کہ آر ایف آئی ڈی سے چلنے والے رجسٹریشن کارڈ عقیدت مندوں کو سیکورٹی کے مقصد سے فراہم کیے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی عقیدت مندوں کو اس شدید سردی کے درمیان لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے جس کی وجہ سے عقیدت مندوں میں ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان لمبی قطاروں کی وجہ سے کئی عقیدت مند درشن سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ساہنی نے شرائن بورڈ پر زور دیا کہ وہ ما وشنو دیوی کے درشن کے لیے ملک کے ہر حصے سے آنے والے عقیدت مندوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے رجسٹریشن کی سہولت کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ مزید رجسٹریشن مراکز قائم کرے۔