راجوری //راجوری میں سابقہ وزیر مملکت ٹھا کر پورن سنگھ کورونا وائرس ہونے کی وجہ سے وفات پاگئے ہیں ۔ان کی ہوئی وفات پر کئی سیاسی و سماجی شخصیات نے افسوس کا اظہا کرتے ہوئے لوگوں کو تلقین کی ہے کہ وہ وائرس کے پھیلائو سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔70سالہ ٹھاکر پورن سنگھ پہلے کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے ہیں جبکہ 2015کے بعد وہ بھاجپا سے منسلک تھے ۔لواحقین نے بتایا کہ ٹھاکر حالیہ دنوں میں ہریدوار ایک مذہبی رسومات کے سلسلہ میں گئے ہوئے تھے جبکہ ان کو واپس آئے ہوئے پانچ دن ہوئے تھے تاہم گزشتہ تین دنوں سے ان کی صحت اچانک خراب ہونا شروع ہو گئی تھی جس کے بعد مرحوم کو راجوری کے ایک نجی کلینک میں لے جایا گیا تاہم ڈاکٹر نے ان کو جلد سرکاری ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا ۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ان کو جموں میں ایک خصوصی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم بدھ کے روز ان کی صحت مزید خراب ہونے کی وجہ سے ان کو سپر سپیشلٹی ہسپتال پنجاب منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم بدھ اور جمعرات کی درمیابی شب ان کا راستے میں ہی انتقال ہو گیا ۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ جیسے کی سابقہ ایم او ایس کی کووڈ سے ہوئی موت کی اطلاع انتظامیہ تک پہنچی تو اس سلسلہ میں متعلقہ حکام کو متحرک کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ لاش گیارہ بجے ایک نجی ایمبولینس میں راجوری پہنچی جہاں پر ایس او پیز کے تحت لاش کو بند کیاگیا تاہم ان کی آخری رسومات آبائی گائوں کیول میں ایس او پیز کے تحت ادا کی گئی جہاں پر لوگوں کی تعداد بھی کم ہی رکھی گئی تھی ۔اس سلسلہ میں ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس کے تحت متعلقہ حکام کو آخری رسومات میں کم لوگوں کی موجودگی کا حکم دیا گیا تھا ۔
پورن سنگھ 2002میں سیاسی سفر شروع کیا
سمت بھارگو
راجوری //سابقہ ریاستی وزیر اور بھاجپا لیڈر ٹھا کر پورن سنگھ نے 2002میں اس وقت سیاسی افق پر نمود ار ہوئے تھے جب انہوں نے حیرت انگیز طریقہ سے درہال اسمبلی حلقہ میں اک قدآور لیڈر کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی حالانکہ موصوف نے انتخابات میں بطور آزاد امید وار کامیابی حاصل کی ہے تاہم بعد میں انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی تھی جبکہ مرحوم کو پارٹی سنیئر لیڈر اور اس وقت کے ریاستی وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا کافی قریب مانا جاتا تھا ۔آزاد کے دور میں موصو ف کو مخلوط حکومت میں منسٹر آف سٹیٹ تعینات کیا گیا تھا ۔ٹھا کر 2008کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے جس کے بعد 2015میں موصوف نے بھاجپا میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔اس وقت بھی وہ بھاجپا کیساتھ منسلک تھے تاہم ان کی اچانک ہوئی موت پر کئی سیاسی و سماجی شخصیات افسوس کا اظہار کررہی ہیں ۔