کشمیرکے لوگوں کیلئے بڑا سبق:اے آئی پی
سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سینئر لیڈرشیبان عشائی نے زرعی قوانین کوو اپس لئے جانے پرکسان طبقے ،باشعور شہریوں اور سرگرم کارکنوں کوان کے بلندپایہ عزم کیلئے مبارکباد پیش کی اورکہا کہ یہ ان بے غرض شہریوں کی فتح ہے جنہوں نے گزشتہ بارہ ماہ سے سخت موسمی حالات اورحکومت کی زیادتیوں کے باوجود احتجاج جاری رکھا۔انہوں نے ایک بیان میں کسان تحریک کے ساتھ وابستہ ہرایک فرد کو اُس کے پختہ عزم کیلئے سراہا۔عشائی نے کہا کہ انہوں نے پوری دنیا کو دکھایاکہ متحدہوکر عزم واستقلال کے ساتھ پرامن اور جمہوری طریقوں سے دنیا کی کسی بھی حکومت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کیاجاسکتاہے۔عشائی نے کہا کہ اس میں کشمیرکے لوگوں کیلئے ایک بڑا سبق ہے کہ 5اگست2019کے بعدپورے کشمیرکاسیاسی ڈھانچہ منہدم کیاگیا ہے اور کشمیری سیاست کے رہنمااب بھی نظربندہیں اورلوگوں کے بنیادی حقوق پامال کئے گئے ہیں۔عشائی نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ نظریاتی اختلافات سے اوپراُٹھ کرمتفقہ طور اُس کیلئے جدوجہدکریں کو جموں کشمیرکے لوگوں سے چھینا گیا۔
کسانوں کی تباہی قوم کی بربادی: میر
سرینگر// پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جی اے میر نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ منظور کئے گئے قوانین نے ملک کے کسانوں کو برباد کر دیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پورے ہندوستان میں کسانوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور وہ ہمارے ملک کے اثاثے ہیں مگر اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر کسان برباد ہوئے تو قوم بھی برباد ہو گی۔سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جی اے میر نے کہا کہ ایک سال سے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریسی لیڈران سڑکوں پر کسانوں کے ساتھ شامل ہوئے اور کسانوں کے حقوق کے لئے بھی کھڑے ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے جو قوانین پاس کئے ہیں ان قوانین سے کسانوں کی روزی روٹی تباہ ہوئی ہے مگر یہ بات عیاں ہیں کہ اگر کسان برباد ہوں گے تو قوم بھی برباد ہو گی کیونکہ کسان قوم کی ریڑھ کی ہڈی کے ماند ہیں۔جی اے میر نے مزید کہا کہ اتر پردیش میں بی جے پی کے وزراء نے کسانوں کی ریلیوں کو روک دیا لیکن اب وزیراعظم مودی کو کسانوں کے مطالبات سننے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے لیکن کانگریس کا موقف ہے کہ کسان قوانین سمیت دیگر اہم معاملات کے حوالے سے پارلمنٹ میں بحث ہونی چاہیے اور جو تین قوانین واپس لیے گئے ہیں ،ان پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ تاہم میر نے کہا کہ جب تک نہ تین قوانین کو واپس لینے سے متعلق کوئی بل پارلیمنٹ میں منظور ہوجاتی تب تک کسانوں کو ایسے کسی دعوے پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ کسانوں کے حقوق کی بات کی ہے اور پی ایم مودی سے کسانوں کو انصاف دینے کی اپیل کی ہے۔کے این ایس کے مطابق ایک سوال کے جواب میں جی اے میر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے حیدر پورہ انکاؤنٹر کے پہلے دن سے ہی اس واقعہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا تاہم انہوں نے کہا کہ مجسٹریل انکوئری انکاؤنٹر کے محرکات اور اسکی حقیقت پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر جموں کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر خلوص نیت سے اس واقعہ کے بارے میں انکوائری کرنا چاہتے ہیں تو وہ جلد از جلد اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیں۔ ایل جی کے دو برسوں میں عسکریت پسندی کا صفایا کرنے کے بیان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پچھلے 35 سالوں سے ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ کشمیر سے عسکریت پسندی کا صفایا کر دیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ وادی میں ہر کوئی تشدد کے خلاف ہے اورجموں کشمیر کی عوام بھی اس مسئلے کا پرامن حل چاہتی ہے۔جی اے میر نے کہا کہ اگر حکومت جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لانا چاہتی ہے تو پھر اسکے لئے مرکزی سرکار کو بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے علاوہ وادی کے لوگوں کے ساتھ بات چیت ہی جموں و کشمیر میں لازوال امن لا سکتی ہے۔
گھڑی کی سوئیاں پیچھے بھی گمائی جاسکتی ہیں: مسعودی
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے 5 اگست 2019 کے اُن فیصلوں کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے جن میں جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن سے محروم اور اس تاریخی ریاست کو دو حصو ں میں تقسیم کرکے مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کیا گیا۔ پارٹی کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 3متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی ہٹ دھرمی اور سخت گیر پالیسی کی سیاست میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ گذشتہ ایک سا ل کے دوران ان متنازعہ قوانین کا غیر ضروری دفاع کرنا اور انہیں جواز بخشنا کافی نقصان دہ ثابت ہوا۔ اس عرصے میں 800کسانوں کی جانیں تلف ہوئیں اور کروڑوں کے املاک کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اعلان سے وزیر اعظم اور مرکزی حکومت کی طرف سے اس احساس کو بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ اہم مسائل پر قانون سازی کو آگے بڑھانے سے پہلے مجوزہ قوانین کو جمہوری طریقوں کے تحت بحث و مباحثے اور وسیع عوامی مشاورت کے بعد ہی پیش کیا جانا چاہئے۔اُن کا کہنا تھا کہ زرعی قوانین کی منسوخی کا فیصلہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ’’گھڑی کی سوئیاں پیچھے نہیں گمائی جاسکتی‘‘ کے دعوے جیسا کچھ نہیں ہے اور جب بھی حالات تقاضا کرتے ہیں تو کسی بھی لئے گئے فیصلے کو کبھی بھی واپس لیا جاسکتا ہے یا اسے نئی شکل دی جاسکتی ہے۔حسنین مسعودی نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ 5 اگست 2019 کے فیصلوں کے معاملے میں بھی ایسی ہی نظرثانی کریں اور اُن فیصلوں کو منسوخ کریں جن کے تحت یکطرفہ، غیر آئینی اور غیر اخلاقی طور پر جموں و کشمیر کو خصوصی پوزیشن سے محروم کرکے دو حصوں میں بانٹ کر مرکزی زیر انتظام علاقے قرار دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کی طرح 5اگست 2019کے فیصلے بھی تباہی اور بربادی کے علاوہ غیر یقینیت ، بے چینی اوربڑے پیمانے پر اعتماد کے فقدان کا سبب بن گئے ہیں۔ ان فیصلوں نے نئی دلی اور جموں کشمیر و لداخ کے لوگوں کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا کی ہے جس کا اعتراف خود وزیر اعظم نے بھی کیا ہے۔ مسعودی نے وزیر اعظم ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں وکشمیر کی 4اگست 2019کی پوزیشن واپس بحال کریں اور اس کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کے اندر مفاہمتی اور مصالحتی بات چیت کا سلسلہ شروع کریں اور خطے میں امن و امان کیلئے بھی وسیع تر مذاکرات کا آغاز کریں۔ مسعودی نے ملک کے سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور صحیح سوچ رکھنے والے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے احساسات، جذبات، اُمنگوں اور حقوق کیلئے ویسے ہی ہمارا ساتھ دیں جیسے انہوں نے کسانوں کے حقوق کی بحالی کیلئے دیا۔اُن کا کہنا تھا کہ کسانوں کی طویل عملی جدوجہد جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ایک سبق ہے کہ قلیل مدتی سیاسی فائدے نہیں بلکہ ثابت قدمی، آپسی اتحاد اور خلوص بالآخر حقیقی اہداف کے حصول کیلئے جدوجہد میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔