طارق شبنم
’’آئو صابر بھائی ۔۔۔۔۔۔میں صبح سے ہی تمہارا انتظار کر رہا تھا‘‘۔
صابر جوں ہی گلی کے نکڑ پر واقع یوسف کی دکان پر پہنچا تو یوسف نے مسکراتے کر اس کا استقبال کرتے ہوئے کہا۔
’’ یہ لیجئے یوسف لالا،دراصل بینک میں کچھ مسئلہ کھڑا ہوگیا تھا اسی لئے ایک دو دن کی تاخیر ہوگئی‘‘۔
صابر نے دکان کی بقایا رقم اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔
’’ ارے صابر ۔۔۔۔۔۔تم اس کی فکر کیوں کرتے ہو ،رکھو پھر کبھی دے دینا ۔دراصل مجھے تم سے کچھ اور کام تھا ‘‘۔
’’کون سا کام لالا۔۔۔۔۔؟‘‘
’’وہ نا بینک میں ہی مجھے بھی کچھ پریشانی درپیش ہے ۔تم اس کاغذ پر دستخط کرلو تو میرا مسئلہ حل ہو جائے گا‘‘ ۔
اس نے صابر کی دی ہوئی رقم اٹھاکر دراز میں رکھی اور جیب سے ایک کاغذ نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
’’اچھا یہ تو بتائیں اس پر کیا لکھا ہے ‘‘۔
صابر نے سادگی سے پوچھا ۔
’’ارے کچھ خاص نہیں ،دراصل مجھے بھی بینک میں ایک نیا اکائونٹ کھولنا ہے بس اسی سلسلے میںاس کاغذ کی ضرورت ہے ‘‘۔
صابر، جو زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا ،کچھ ساعتوں تک کاغذ کو دیکھتا رہا اور آخر،یہ سمجھے بغیر کہ کاغذ پر کیا لکھا ہے یوسف کی بزرگی اور تعلقات کے اثر میں آکر کاغذ پر دستخط کر دیا۔
یوسف نے بڑے ہی مکارانہ انداز میں اس کا شکریہ ادا کیا اور صابر سائیکل پر بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوا ۔
صابر اپنی بستی کا ایک شریف ،ایماندار اورسادہ مزاج انسان تھا ۔ چھوٹے درجے کا سرکاری ملازم تھااور ضرورت پڑھنے پر ہر ایک کی مدد کرتا تھا ۔پہلے بہت ہی مفلو ک الحال تھا لیکن پھر اس پر اوپر والا مہربان ہوا اور اسے درجہ چہارم کی سرکاری نوکری مل گئی ۔اب وہ ہنسی خوشی اپنے اہل و عیال کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا ،لیکن کچھ مہینوں سے اپنے ایک پڑوسی کی وجہ سے سخت پریشان تھا ۔ہوا یوں کہ ایک دن اس کا پڑوسی اس کے گھر آیا اور صابر سے کہا کہ اُسے اپنے بیٹے کی شادی کے لئے بینک سے کچھ قرضہ اٹھانا ہے ،وہاں تمہاری ضمانت چاھیے ۔حالانکہ اس کا اپنا بھائی اور کئی دیگر نزدیکی رشتہ دار بھی سرکاری ملازم تھے ۔بہر حال سیدھے سادھے صابر نے پڑوسی کا فرض ادا کرتے ہوئے بینک میں اس کی ضمانت دی اور اس نے بینک سے لاکھوں روپے کا قرض لے بڑے ہی دھوم دھام سے بیٹے کی شادی کردی ۔کچھ مہینوں تک سب کچھ ٹھیک ٹھا ک رہا ،جس کے بعد صابر کے لئے اچانک پریشانیاں پیدا ہونے لگیں۔ایک دن جب وہ مہینے کے آخر پر حسب معمول بینک میں اپنی تنخواہ نکالنے کی غرض سے گیا تو بینک نے اس سے یہ کہہ کر رقم دینے سے انکار کیا کہ اس کا کھاتہ بند کر دیا گیا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ آپ نے روشن خان نامی جس صارف کی ضمانت دی ہے وہ کئی مہینوں سے قرض کے رقم کی قسط ادا کرنے میں ناکام رہا ہے ۔کئی دن تک وہ اس پڑوسی کے گھر کے چکر کاٹ کر منتیں کرتا رہا تب جاکے اس نے قرض کے رقم کی قسط ادا کی اور صابر کا کھاتہ آزاد ہوگیا اور صابر نے راحت کی سا نس لی ۔بات یہیں پر نہیں رکی، اب ہر مہینے پڑوسی کی طرف سے وقت پر قسط ادا نہ کرنے کی وجہ سے اس کی تنخواہ بند رہتی تھی اور پڑوسی کی منتیں کرنے کے بعد ہی وہ صابر پر مہربان ہوجاتا ۔کئی بار صابر کی ہی تنخواہ سے پڑ وسی کی قسط کاٹی گئی اور وہ رقم آج تک صابر کو نہیں ملی ۔آج بھی اسی وجہ سے کئی دن کی تاخیر کے بعد وہ بینک سے اپنی تنخواہ نکال پایا تھا ۔پڑوسی کی چار سو بیسی کی وجہ سے اسے ایک اور بڑی پریشانی درپیش تھی کہ اس کی بیوی کی آنکھ میں کچھ چوٹ لگی تھی اور ڈاکٹروں نے اس کو آنکھ کا آپریشن کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن پڑو سی کی چاپلوسی کی وجہ سے وہ آپریشن کے لئے درکار رقم بھی نہیں جوڑ پا رہا تھا ۔ ان ہی پریشان سوچوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر صابر گھر پہنچ گیا ۔
اس کے بعد بھی یہی سلسلہ چلتا رہا۔ ہر مہینے یا تو روشن کی وجہ سے صابر کا کھاتہ بند ہوتا تھا یا پھر اس کی ہی تنخواہ سے روشن کے قرضے کی قسط کی رقم کاٹ دی جاتی تھی ،یہاں تک کہ صابر کی بڑی رقم روشن خان کے پاس پھنس گئی اور جب صابر اس سے رقم کا تقاضہ کرتا تھا تو وہ اُسے مختلف بہانے بنا کر کل پرسوں کرکے ٹرخاتا تھا ۔لیکن آخر تنگ آکر صابر نے اس کے گھر جا کر بڑے ہی عاجزانہ انداز میں اپنی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے اس کو بتایا کہ اسے اپنی بیوی کی آنکھ کا آپریشن کروانا ہے اور رقم کی سخت ضرورت ہے تو روشن نے اس سے یقین دلایا کہ اس مہینے وہ بینک کی قسط بھی وقت پر ادا کرے گا اور اس کی رقم بھی لوٹائے گا۔صابر نے اس کا شکریہ ادا کیا اورخوش ہوکر وہاں سے نکلا اور مہینہ ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا تاکہ تنخواہ لے کر اپنی بیوی کی آنکھ کا آپریشن کرواسکے۔ لیکن مہینہ ختم ہونے سے چند دن قبل اس کو حسب معمول بینک سے فون کال موصول ہوئی اور اُسے بتایا گیا کہ آپ نے روشن خان نام کے جس صارف کی ضمانت دی ہے وہ وقت پر قسط ادا نہیں کر رہا ہے ،ہم آپ کو پیشگی اطلاع دیتے ہیں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو مجبوراً ہمیں اس بار بھی اس کی ماہانہ قسط آ پ کے کھاتے سے کاٹنا پڑے گی ۔ دوسرے دن وہ صبح ہی پریشانی کی حالت میں اس کے گھر پہنچ گیا اور اس سے التجا ئی انداز میں گویا ہوا ۔
’’روشن صاحب ۔۔۔۔۔۔ بینک والے مجھے کل پھر فون کر رہے تھے ،مہر بانی کرکے آپ وقت پر بینک کی قسط جمع کریں ورنہ وہ میرے تنخواہ سے کاٹیں گے جس وجہ سے میرے لئے مشکلات کھڑے ہو جائیں گے۔میں نے آپ کو پہلے ہی بتایا ہے کہ مجھے اپنی گھر والی کی آنکھ کا آپریشن کروانا ہے‘‘ ۔
’’تم مجھے بار بار کیوں تنگ کرتے ہو ،میں نے کون سی تمہاری لاکھوں کی رقم کھائی ہے ۔میں نے تم کو کہا ہے نا کہ اس بار میں وقت پر قسط جمع کروں گا ،پھر تم یہاں کیوں آئے۔چلے جائو یہاںسے ‘‘۔
اس نے پہلے صابر کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی لیکن صابر کے اصرار پر مشکوک لہجے میںصابر پر دھاڑتے ہوئے کہا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا ۔صابر،جو اس کے اس روئے سے ہکا بکا ہو کر رہ گیا ،بھی سائیکل پر بیٹھ کر اداسی کی حالت میںیہ سوچتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہو ا کہ اگر اس بار بھی روشن نے وقت پر قسط جمع نہیں کی اور اس کی تنخواہ سے کٹ گئی تو میںاپنی بیوی کا آپریشن نہیں کر پائوں گا ،کئی دنوں تک وہ اسی الجھن میں مبتلا رہا ۔
مہینہ ختم ہونے کے بعد وہ سخت تذبذب کی حالت میں بینک پر اپنی تنخواہ نکالنے کے لئے گیا ،یہ سن کر کہ اس کے کھاتے میں صرف تین ہزار روپے موجود ہیںاس کے پیروں تلے زمین شک ہونے لگی ۔تفصیلات دیتے ہوئے اس کو بتا یا گیا کہ بیس ہزار روپے روشن خان کے کھاتے میں جب کہ پچیس ہزار روپے محمد یوسف کے کھاتے میں جمع ہوئے ہیں ۔
’’یوسف لالا کے کھاتے میں ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
سیدھے سادھے صابر جس سے معلوم ہی نہیں تھا کہ یوسف نے اس کی ضمانت لے کر بینک سے قرض لیا ہے ، نے حیرت واستعجاب میں ڈوب کر بینک ملازم سے استفسار کیا ۔
’’ہاں ہاں ۔۔۔۔۔۔ یوسف لالا کے کھاتے میں، جس نے چارمہینے پہلے آپ کی ضمانت پربینک سے چھ لاکھ روپے قرض لے کرنئے ماڈل کی گاڑی خریدی ہے اور آج تک بینک کو اپنی شکل تک نہیں دکھائی‘‘۔
بینک ملازم نے چڑ کر کہا ۔
بینک سے پریشانی کی حالت میں نکل کر صابرپہلے روشن کے گھر گیا جہاں اُسے بتایا گیا کہ وہ کہیں گھومنے گیا ہے اور دس پندرہ دن بعد ہی واپس آئے گا ۔وہاں سے نکل کر اس نے سیدھے یوسف لالاکی دکان کا رخ کیا اور اُ سے نہایت ہی مؤدبانہ انداز میں بتا یا کہ بینک نے آپ کی پچیس ہزار کی قسط میرے تنخواہ سے کاٹی ہے ،مجھے رقم کی سخت ضرورت ہے مہر بانی کر کے میری رقم لو ٹائیں ۔
’’ ارے صابر ۔۔۔۔۔۔ تمہیں ذرا بھی صبر نہیں ہے ،ہفتے دس دن بعد میں تمہاری رقم لوٹا دوں گا‘‘ ۔
’’لیکن یوسف لالا۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’تم کو میں چور لگتا ہوں کیا‘‘ ۔
اس نے صابرکی بات کاٹ کر نا گواری کے انداز میں کہا اور ٹھاٹھ سے بینک سے قرضہ لے کر خریدی ہوئی گاڑی میں بیٹھ کر چلاگیا جب کہ صابر بے بس ہو کر عالی شان گاڑی کو کچھ ساعتوں تک دیکھتا رہا اور پھر اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے پرانے کھٹارا سائیکل پر بیٹھ کر گھر کی طرف چل نکلا۔
���
اجس بانڈی پورہ،کشمیر
موبائل نمبر؛9906526432