بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کی مالی صورتحال سے متعلق تازہ آڈٹ رپورٹ میںمخصوص رقومات( ریزرو فنڈس) کے استعمال، نقدی توازن اور مالی نظم و ضبط پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مخصوص مقاصد کیلئے قائم ریزرو فنڈس کا مکمل اور مؤثر استعمال نہیں کیا گیا ہے، جبکہ بعض معاملات میں ان رقومات کو دیگر ضروریات کیلئے استعمال کیے جاتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2025 تک جموں و کشمیر میں 2سود ی اور 5 غیر سود ی ریزرو فنڈس موجود تھے، جن میں مجموعی رقم 2,670.93 کروڑ روپے تھی۔ تاہم نقدی بیلنس اس کے مقابلے میں کم، یعنی 1,520.10 کروڑ روپے رہی، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ مخصوص رقومات (ریزرو فنڈس) کا کچھ حصہ اپنے اصل مقصد کے علاوہ استعمال ہوا۔سود بردار فنڈس میں سٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) اور سٹیٹ کمپنسٹری افاریسٹیشن فنڈ شامل ہیں۔ ’ایس ڈی آر ایف‘ میں سال کے دوران 310 کروڑ روپے منتقل کیے گئے جبکہ 132.57 کروڑ روپے بطور سود شامل ہوئے۔
اس کے باوجود فنڈ سے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی گئی اور صرف 29.11 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے فنڈ کا بیلنس بڑھ کر 1,227.96 کروڑ روپے ہو گیا۔اسی طرح کمپنسٹری افاریسٹیشن فنڈ میں بھی 1,121.42 کروڑ روپے کا بیلنس موجود ہے، تاہم اس میں بھی سرمایہ کاری نہ ہونے اور کچھ رقوم کی منتقلی میں تاخیر جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔غیر سودی رقومات میں کنسولیڈیٹڈ سنکنگ فنڈ اور گارنٹی ریڈمپشن فنڈ نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سنکنگ فنڈ میں مطلوبہ 185.48 کروڑ روپے کے مقابلے میں صرف 72.51 کروڑ روپے جمع کیے گئے، جو واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔گارنٹی ریڈمپشن فنڈ کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک رہی۔ حکومت کو 371.11 کروڑ روپے جمع کرنے تھے، تاہم مارچ 2025 تک صرف 61.20 کروڑ روپے ہی جمع ہو سکے، جس سے 309.91 کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی۔رپورٹ میں نقدی بیلنس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ حکومت نے سال کے دوران کئی دنوں تک ریزرو بینک آف انڈیا سے اوور ڈرافٹ اور ویڑ اینڈ مینز ایڈوانسز کا سہارا لیا، جبکہ سال کے اختتام پر منفی101.67 کروڑ روپے کا بیلنس ریکارڈ کیا گیا۔
آڈیٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ حکومت نے کچھ عرصوں میں قرض لینے کے باوجود غیر استعمال شدہ نقدی بھی برقرار رکھی، جو مالی نظم و نسق میں کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت اور ریزرو بینک کے اعداد و شمار میں معمولی فرق موجود ہے، جبکہ 2019 کی تنظیمِ نو کے بعد بعض مالیاتی بیلنس اب تک تقسیم کے منتظر ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال مالی پائیداری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو نہ صرف ریزرو فنڈس کے شفاف اور مقصدی استعمال کو یقینی بنانا ہوگا بلکہ نقدی نظم و نسق کو بھی بہتر بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں مالی دباؤ سے بچا جا سکے۔