ریاسی میں بس پر دہشت گردانہ حملے کے خلاف کانگریس کا احتجاج امن و امان کے حکومتی دعوئوں اور زمینی صورتحال میں نمایاں فرق :بھلہ

عظمیٰ نیوز سروس

جموں//کانگریس نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریذیڈنٹ رمن بھلہ نے دیگر سینئر لیڈروں کے ہمراہ پی سی سی ہیڈکوارٹر جموں کے باہر شہیدی چوک جموں پر ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’’مودی جی ایک کام کرو، کرسی چھوڑوآرام کرو‘‘،’’پاکستان مردہ باد‘‘ وغیرہ کے نعرے درج تھے اور انہوں نے ریاسی میں بس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔رمن بھلہ نے کہا کہ عسکریت پسندی دوبارہ زندہ ہوئی ہے جب کہ بی جے پی حکومت جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی پر قابو پانے اور بے گناہوں کو بچانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیںکئے گئے جس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہونا شروع ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر انسانی کارروائیوں سے ان لوگوں کی عام زندگی متاثر ہوتی ہے جن کا ان مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔موصوف نے مزید کہا کہ ریاست میں دہشت گردانہ حملوں میں اچانک اضافہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی غیر مستقل دفاعی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ حکومت بلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ بھلہ نے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں کے واقعات جاری ہیں اور فوج، سیکورٹی فورسز اور پولیس کے جوان اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ نریندر گپتا، جنرل سکریٹری (آر جی) نے کہا ہے کہ اب تک پرامن علاقوں جیسے راجوری- پونچھ، جموں کے ریاسی اضلاع میں عسکریت پسندی دوبارہ بحال ہوئی ہے، جنہیں عسکریت پسندی سے پاک قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے مودی کی زیرقیادت این ڈی اے پر تنقید کی جو معصوموں بالخصوص بابا بھولناتھ اور ماتا ویشنو دیوی جی کے یاتریوں کی جانوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔