جموں //کانگریس کے پردیش صد رغلام احمد میر نے ریاست جموں و کشمیر میں فوری طور سے اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ملک کے مفاد میں ایک اچھا قدم قرار دیا ۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب کی بار لوگ مخلوط سرکار کے بجائے کانگریس کے حق میں واضع اکثریت سے ووٹ دیں گے ،تاکہ ریاست میں خوشحالی اور امن کا دور دروہ شروع ہو سکے جیسا کہ 2002میں ریاست کے عوام نے دیکھا ہے۔ان باتوں کا اظہا رپردیش صدر نے یہاں گندھی نگر حلقہ میں اتوار کے روز کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس کا اہتمام سابقہ وزیر و پارٹی کے ایک سینئر رہنما رمن بھلہ نے کیا تھا ۔انہوںنے پی ڈی پی۔ بی جے پی کی سابقہ سرکار پر عوام کے ساتھ دھوکہ کرنے کا مبینہ الزام لگایا ۔انہوں نے مرکزی سرکار سے ریاست میں فوری طور اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کامطالبہ کیا ۔انہوں نے پوچھا اگر ریاست میں پارلیمانی انتخابات منعقد کئے گئے تو اسمبلی انتخابات منعقد کرنے میں کون سی دشواری تھی۔اجلس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حالیہ بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے کُچھ نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سالنہ بجٹ سے صنعتی شعبہ میں دوبارہ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ توقع کی جاتی تھی کہ بجٹ میں صنعتی شعبہ کیلئے خاص کُچھ کیا جائے گا لیکن بجٹ نے اس شعبہ کو یکسر نظر انداز کیا۔اس موقعہ پر کانگریس کے سینئر رہنما رمن بھلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گورنر انتظامیہ لوگوں کو بنیادی سہولیات جیسے کہ پانی، بجلی اور راشن فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فقط ایک منتخبہ سرکار ہی عوام کی ضروریات پورا کرسکتی ہے۔اس موقعہ پر انہوں نے ریست کے نوجوانوں کو کانگریس پارٹی کا حصہ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کانگریس ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے ،جس میں عوام دوستانہ پالسیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی ریاست میں واحد ایک متبادل ہے جو لوگوں کو ایک اچھی سرکار دے سکتی ہے۔سابقہ ایم پی مدن لعل شرما نے اپنے خطاب میںکہا کہ بوتھ لیول ورکر کانگریس پارٹی کے ریڑھ کی ہڈی ہے،جو متعدد پروگرام منعقد کرکے لوگوں میں پارٹی کے پروگرام اور پالسیاںپہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانون کی طاقت سے ہی کانگریس نے بلندیاں حاصل کی ہیں۔سینئر کانگریس رہنما مولا رام نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔