بانہال // نماز جمعہ کے موقع پر مرکزی جامع مسجد بانہال میں ریاست جموں وکشمیر میں اسلامی اور نیوز چینلوں کی پابندی اور اسرائیل پارلیمان کی طرف سے صیہونی حکومت کی پاس کی گئی بل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اورحضرت ابراہیم ؑکی اسوہ حسنہ اور تعمیر خانہ کعبہ پر روشنی ڈالی گئی۔ مرکزی جامع مسجد بانہال میں نماز جمعہ کے خطبے میں خطیب و مبلغ اسلام عبدالاحد مسرورنے حج پر جانیو الے عازمین کیلئے الواداعی کلمات میں کہا کہ حضرت ابراہیم ؑکا کہنا ہے کہ جو قوم اپنے ماضی اور اسلاف کو بھول جاتی ہے ، وہ اپنے حال کے حوادث کو بھول بھی جاتے ہیں اور غلامی کی زنجیریں میں جھکڑ کر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم ؑنے تعمیر خانہ کعبہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام تعمیری دین ہے اور باپ بیٹے نے دنیا کی عظیم الشان عبادت گاہ تیار کی۔ حضرت ابراہیم ؑنے نہ صرف امت مسلمہ کی بقا ء اور وجود کی دعا کی ہے بلکہ اللہ سبحان وتعالی کی فرمانبرداری اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی ذرعیت سے امت مسلمہ کے وجود میں آنے کی بھی دعا کی ہے اور قران حکیم نے اسی امت کو خیر الامت کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی بنیادی ذمہ داری اچھائیوں کو پھیلانا اور برائیوں کو معاشرے سے ختم کرنا ہے اور تمام مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ؐکی تعلیمات پر عمل پیراں ہوکر اگے بڑھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا امت مسلمہ کو ہر وقت اپسی اتحاد واتفاق قائم رکھنے اور معاشرے کی بہترین تعمیر سازی میں اپنا کرادر ادا کرنے کی ہمیشہ تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ہر مکتبہ فکر کے فروعیات میں اختلافات کے باوجود بھی مسلمانوں کے بنیادی اصولوں میں اتفاق اور اتحاد موجود ہے جو غیر اسلامی قوتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور دین اسلام کو نقصان پہنچانے ، نیچا دکھانے اور پھوٹ ڈالنے کیلئے ہر زمانے میں غیر اسلامی قوتوں، اسلام دشمن عناصر اور حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے اور موجودہ دور میں فلسطین ، شام ، عراق ،ایران اور افغانستان کے حالات و واقعات اس تناظر میں مشال کیلئے پیش کئے جا سکتے ہیں اور یہ امت مسلمہ کیلئے چشم کشا بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غاصب اور اسلام دشمن قوتیں لفظ مسلمانوں کو زیر کرنے کے درپے ہیں اور اس میں وہ مختلف مکاتب فکر رکھنے والے مسلمانوں کے بجائے امت مسلمہ اور اسلام کو ٹارگیٹ کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسلام دشمن یلغار کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کیلئے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کو یک جْٹ ہوکراصولی طور پر اسلام کے غلبے کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک اسلامیہ نے ہمیشہ ہی ٹیلیو یژنوں کے ذ ریعے پھیلائی جا رہی برائیوں اور خرافات کے خلاف آواز بلند کی ہے لیکن اس کے برعکس دنیا میں امن کے پیامبر اسلامی ٹیلیویژن اور نیوز چینلوں پر ریاست میں پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاپندی مختلف مکاتب فکر کی ترجمانی کرنے والے مدنی ٹی وی ، پیس ٹی وی ، پیغام ٹی وی اور کیو ٹی وی وغیرہ پر نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں سے متعلقہ معاملات نشر کرنے والے اسلامی چینلوں پر عائد کی گئی ہے اور یہ کارروائی انجام دینے والی سرکار نے مسلک اور فرقے نہیں بلکہ اسلام کا نام اور کام دیکھ کر یہ پابندی عائد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی فحاشی اور بے ہودہ اور بکواس پروگرام چلانے والے اورسماجی میں خلیج پیدا کرنے والے ٹی وی چینلوں پرہونا چاہئے تھی لیکن اس کے برعکس اسلام کی تعلیمات جو دنیا کے امن و امان کے ضامن ہیں پر پابندی عائد کی گئی ہے جو افسوناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چینلوں کی پابندیوں سے جموں وکشمیر میں سورش اور بد امنی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کیلئے زمینی سطح پر لوگوں کے ساتھ عد و انصاف اور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرنے سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 1947 سے لیکر اب تک جتنے بھی حکمران آئے ہیں سبھی نے کشمیر کو زیر کرنے کی پالسیی اپنا رکھی ہے اور انصاف اور دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے لوگوں کو بزور طاقت دبانے کی ناکام کوششیں کی ہے اور یہ سلسلہ جا رہی ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی پارلیمان کی طرف سے صیہونی حکومت اور یروشلم کو اسرائیلی حکومت کی راجدھانی کی پارلیمانی منظوری کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں اسرائیل کو یہودی ریاست اور عرب زبان کا درجہ کم کرنے کی نئی قانون سازی کی گئی ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اس غیر جمہوری عمل کی طرف اپنی توجہ مبذول کرانے کی اپیل کی ہے۔