عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر // ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے احتجاج کرنا عوام کا جمہوری حق ہے اور طے شدہ احتجاج اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق ضرور منعقد ہوگا۔سرینگر میں صحافیوں سے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے میاں الطاف نے کہا کہ “ریاستی درجہ کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کا جائز اور آئینی مطالبہ ہے۔” انہوں نے کہا کہ “پرامن احتجاج عوامی جذبات کے اظہار اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کرنے کا ایک جمہوری طریقہ ہے۔ ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے لیے احتجاج ہمارا حق ہے اور یہ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا۔”
رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مسلسل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مرکز سے اپیل کی کہ وہ اپنا وعدہ جلد از جلد پورا کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “یہ معاملہ عوام کی خواہشات اور جمہوری حقوق سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اسے مزید تاخیر کے بغیر حل کیا جانا چاہیے۔”میاں الطاف کے یہ تاثرات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبہ کے حوالہ سے سیاسی سرگرمیاں اور بیانات، الزامات، جاری ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ دوبارہ زور و شور سے اٹھا رہے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے اور حکمرانی میں عوامی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔