عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو پوری دنیا کے لئے خوش آئند، اْمید افزا اور نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دونوں ممالک طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمعتہ المبارک کے روز اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کرکے دونوں ممالک عالمی امن و استحکام کی جانب ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک بار پھر یہ حقیقت ثابت ہوگئی ہے کہ جنگ، تصادم اور جارحیت کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتے بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے ہی بڑے سے بڑے تنازعات کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ کشمیر کی جانب سے وہ دونوں ممالک اور بالخصوص اْن ممالک کے سربراہان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے 127 روز تک جاری رہنے والے اس خونریز تنازعے کے خاتمے کے لئے مؤثر ثالثی کا کردار ادا کیا اور دنیا کو ایک تباہ کن بحران سے بچانے میں اہم کردار نبھایا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی پھیلی اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کے اثرات کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہوا جس نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا۔انہوں نے کہا کہ ایران میں ہونے والی تباہی اور نقصانات کے ازالے کے لئے امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے یکطرفہ طور پر ایران پر جنگ مسلط کی تھی، جس کے نتیجے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے فلسطین اور لبنان میں جاری اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کرے اور لبنان و فلسطینی عوام کے خلاف جاری قتل و غارت گری کو بند کرانے کے لئے مؤثر اقدامات کرے۔