زہرہ النساء
سرینگر//گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر نے بدھ کے روز مختلف شعبوں میں سینئر پروفیسروں کو شعبہ جاتی سربراہان مقرر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ردوبدل کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک روز قبل حکومت کی جانب سے جاری اس ہدایت کے بعد سامنے آئی ہے جس میں جموں و کشمیر کے تمام سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں روٹیشنل ہیڈشپ پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔نئے شعبہ جاتی سربراہان کی تقرری کا حکم پرنسپل و ڈین پروفیسر عفت حسن شاہ نے جاری کیا۔ نئے سربراہان کا تقرر شعبہ چشم، پیتھالوجی، میڈیسن، فزیالوجی، سرجری، اینستھیزیالوجی، تنفسی امراض، آرتھوپیڈکس، ای این ٹی، کارڈیالوجی، ریڈی ایشن آنکولوجی، بائیو کیمسٹری اور کمیونٹی میڈیسن سمیت متعدد شعبوں میں کیا گیا ہے۔ یہ تقرریاں 17 جون سے فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں۔نئے تقرر کے مطابق پروفیسر ایم آر اتری کو جنرل اینڈ منیمل ایکسیس سرجری کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔پروفیسر افروز خان شعبہ چشم کے سربراہ ہوں گے۔
پروفیسر بشیر احمد نائیکو شعب کارڈیالوجی کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔پروفیسر محمد اسماعیل شعبہ میڈیسن کی قیادت سنبھالیں گے۔پروفیسر جاوید اقبال نقشبندی شعبہ اینستھیزیالوجی کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔پروفیسر خورشید احمد ڈار شعبہ چیسٹ میڈیسن کے سربراہ ہوں گے۔پروفیسر امتیاز حسین ڈار شعبہ آرتھوپیڈکس کی سربراہی کریں گے۔پروفیسر شوکت احمد شوکت شعبہ ای این ٹی کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔پروفیسر معشوق جی نبی شعبہ ریڈی ایشن آنکولوجی کے سربراہ ہوں گے۔پروفیسر لطیف احمد وانی شعبہ پیتھالوجی کی قیادت کریں گے۔پروفیسر سہیل احمد گلکار شعبہ فزیالوجی کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔پروفیسر روحی اشرف شعبہ بائیو کیمسٹری کی سربراہ ہوں گی۔پروفیسر بشیر احمد شاہ شعبہ اناٹومی کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔پروفیسر محمد اقبال پنڈت شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی قیادت سنبھالیں گے۔یہ تقرریاں محکمہ صحت و طبی تعلیم (H&ME) کی جانب سے جاری حالیہ ہدایات کے تناظر میں کی گئی ہیں، جن میں تمام سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو روٹیشنل ہیڈشپ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔یہ پالیسی جون 2023 میںگورنمنٹ آرڈر نمبر 527-JK(HME) of 2023 کے تحت نافذ کی گئی تھی۔ 16 جون کو جاری حکم نامے میں کالجوں کے سربراہان کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ تمام شعبوں میں موجودہ سربراہی عہدوں کا جائزہ لیں اور جہاں مدت پوری ہو چکی ہو وہاں روٹیشنل ہیڈشپ نافذ کریں۔ اس کے ساتھ ہی دو روز کے اندر تعمیل رپورٹ پیش کرنے کو بھی کہا گیا تھا۔حکومتی ہدایت میں واضح کیا گیا کہ پالیسی کومن وعن نافذ کیا جائے تاکہ تمام طبی و دندان سازی کالجوں میں یکساں عمل درآمد ممکن ہو سکے۔تاہم 2023 میں اس پالیسی کے نفاذ کے بعد سے اس پر بعض حلقوں میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض فیکلٹی اراکین کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے اس پر قانونی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔