رمیش کیسر +سمت بھارگو
نوشہرہ//وزیراعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح کرے کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا ’مناسب وقت‘ کب آئے گا، کیونکہ عوام نے حالیہ انتخابات میں اسی مطالبے کے حق میں ووٹ دیا ہے اور یہ وعدہ بھی عوام سے کیا گیا تھا۔نوشہرہ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں و کشمیر کے عوام سے سب سے بڑا وعدہ ریاستی درجہ کی بحالی کا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پہلے حد بندی ہوگی، پھر انتخابات کرائے جائیں گے اور اس کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا، لیکن اب اس وعدے سے پیچھے ہٹا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے جموں و کشمیر کے عوام نے اس وعدے پر یقین کرتے ہوئے ووٹ دیا، لیکن اب بلاوجہ تاخیر کر کے عوام کو سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے سوال کیا کہ آخر یہ ’مناسب وقت‘ کیا ہے، کب آئے گا اور اس تک پہنچنے کے لئے عوام کو کیا کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس (این سی) کے رہنماؤں کے اہل خانہ اور قریبی افراد کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سیاسی میدان میں این سی کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس لیے وہ اس حد تک گر چکی ہے کہ خاندانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔عمر عبداللہ نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کے بھائی، جو ایک پولیس افسر ہیں، کی ترقی روک دی گئی، انہیں لداخ منتقل کیا گیا اور ہر ممکن طریقے سے دباؤ میں رکھا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ ایک این سی لیڈر کے بھائی ہیں۔انہوں نے عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ حکومت اپنے منشور میں شامل ہر وعدہ پورا کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ڈیلی ویجروںکو مستقل کیا جائے گا، جو کہ پارٹی کا ایک اہم وعدہ ہے۔ اس کے علاوہ آنگن واڑی اور آشا ورکروں کے اعزازیہ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ این سی حکومت نے اپنے کئی وعدے پہلے ہی پورے کر دیے ہیں، جن میں غریب خاندانوں کو چھ مفت گیس سلنڈر فراہم کرنا اور خواتین کے لیے بسوں میں مفت سفر کی سہولت شامل ہے۔خواتین کے ریزرویشن بل کے معاملے پر بھی انہوں نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 2023میں خواتین ریزرویشن بل کو منظوری دی گئی تھی اور اپوزیشن نے اس کی حمایت کی تھی، لیکن اس کے باوجود بی جے پی نے دوبارہ ایک نیا بل پیش کیا، جو دراصل حد بندی بل کو چھپانے کی کوشش تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 2023میں بل منظور ہو چکا تھا تو تین سال بعد نیا بل لانے کی کیا ضرورت پیش آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کیا گیا۔عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں حالیہ حد بندی عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بی جے پی کی مرضی کے مطابق کیا گیا، جس کے نتیجے میں نئی بننے والی سات نشستوں میں سے چھ پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے کیے گئے ہیں، نہ کہ عوامی مفاد میں۔