جموں//ریاست میں بڑھتی بیروزگاری کے پیش نظر مرکزی سرکار کی طرف سے جموں کشمیر میں قائم کئے جانے والے تما م پروجیکٹوں میں کم از کم 70فیصد روزگار ریاستی نوجوانوں کےلئے مختص کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے سنیچرکے روز کہا کہ مرکزی سرکار کے تمام دفاتر، بنکوں، ریلوے، نیم فوجی و فوجی دستوں اور پبلک سیکٹر اداروں میں جموں کشمیر کے تعلیم یافتہ، ہنر مند و غیر ہنر مند نوجوانوں کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ ان خیالات کااظہاردویندرسنگھ رانانے اسمبلی حلقہ نگروٹہ کے مختلف مقامات پرپارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔رانانے کہا کہ چونکہ جموں کشمیر میں روزگار کے مواقع انتہائی کم ہیں جب کہ بڑی صنعتوں کی عدم موجودگی میں نوجوانوں کو روزگار نہیں مل پاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کا نوجوان بیروزگاری کے بھنور میں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔ انہوں نے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا کہ جموں کشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کو مرکزی محکمہ جات میں ملازمت کے لئے عمر اور دیگر قابلیتوں میں رعایت دی جائے جس سے بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنے میں دو رس نتائج برآمد ہوں گے۔ دیویندر رانا نے کہا کہ ایک ہی پلیٹ فارم پر سبھی مذاہب کے نمائندوں کو جمع ہونا جموں کشمیر کی عظیم روایات کی عکاسی کرتا ہے جس نے انتہائی نازک اوقات میں بھائی چارہ قائم رکھا اور امن و ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔کثرت میں وحدت کو بیش قیمت ورثہ قرار دیتے ہوئے این سی لیڈر نے توقع ظاہر کی کہ ان اقدار کو مزید تقویت پہنچائی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب امن، بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتے ہیںاس لئے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو آپسی روابط بڑھانے چاہئےں تاکہ ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی کوششیں کرنے والے عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی۔بی جے پی ریاستی حکومت عوام کی توقعات کوپوراکرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔