سرینگر// جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے روشنی ایکٹ کے نفاذ سے قبل ریاستی اراضی پر ملکیتی یا فری ہولڈ حقوق کی فراہمی کے حکومتی احکامات اور اسکیموں کی توثیق کو برقرار رکھا ،جسے گذشتہ سال ختم کردیا گیا تھا۔متعدد درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے ، جسٹس علی محمد ماگرے اور جسٹس ونود چٹرجی کول کے ایک ڈویژن بینچ نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی "غیر منطقی ، غیر معقول اور غیر قانونی بنیادوں پر ملکیتی یا فری ہولڈ حقوق کی عطا ئی سے انکار نہیں کر سکتی۔ڈویژن بینچ نے کہا"ہم جواب دہندگان (حکومت) کی جانب سے پیش کردہ اس دلیل کو قبول کرنے سے قاصر ہیں کہ کسی پہلے سے موجود اسکیم / گورنمنٹ آرڈر کے تحت درخواست دہندگان کے تمام زیر التوا مقدمات روشنی ایکٹ / قواعد کے نفاذ کے بعد خود بخود مسترد ہوگئے‘‘۔عدالت کے سامنے حکومت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سرکاری اراضی حاصل کرنے والوں یا درخواست دہندگان کا اگر حکومت کیساتھ کوئی سکیم کے تحت معاہدہ ہوا ہو، وہ روشنی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے کے بعد کالعدم ہو جاتے ہیں ۔ یہ فیصلہ اکتوبر 2020میں ڈیویژن بینچ نے دیا تھا۔عدالت نے تاہم کہا کہ روشنی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ 1973یا1976کے سرکاری حکم پر لاگو نہیں ہوگا۔عدالت نے کہا،’’یہ اُن کامیاب لیسیز/درخواست دہندوں، جن کے حق میں اس عدالت نے پہلے کافیصلہ صادر کیا ہے ،جن میں ان کے حقوق کو روشنی قانون /ضوابط کے نفاذ سے پہلے حکومت کے احکامات کے تحت تسلیم کیا گیا ہو،اور اس حکم نے حتمی حیثیت حاصل کی تھی اور اس کا نفاذبھی عمل میں آچکا تھا، پر لاگو نہیں ہوگا۔عدالت نے کہا کہ حکومت عدالت کے ڈویژن بنچ کے اُس حکم جس میں روشنی قانون کو منسوخ کیا گیا ،کی دلیل دے کر لیسیز/درخواست دہندگان جنہیں حکام نے آزادانہ حقوق دیئے ہیں،عدالتی احکامات کے تحت انہیں ان کی جائیداد یا حقوق سے بیدخل نہیں کرسکتی۔ عدالت نے کہا باوجودیکہ ان لیسیزیادرخواست دہندگان نے روشنی قانون کے تحت کوئی فائدہ یارعایت حاصل نہیں کی تھی۔عدالت نے کہا کہ ہم دلائل کو مکمل طور ناقابل قبول مانتے ہیں جبکہ مفاد عامہ کی عرضی نمبر19/2011کاپہلے سے جاری سرکاری اسکیموں یا احکامات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔عدالت نے کہا کہ کیس انوکھا ہے اور اسے روشنی قانون کے مستفیدین کے ساتھ جوڑا نہیں جاسکتا۔ عدالت نے اختتام پر کہا کہ جن معاملوں میں جائیداد کے حقوق کسی سرکاری اسکیم یا حکم کے تحت روشنی قانون سے قبل دیئے گئے ہوں ،انہیں اب حکومت اس جائیداد یااُن حقوق سے کسی غیرقانونی یانامناسب طریقے سے من مانے طور بیدخل نہیں کرسکتی۔عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات میں ، درخواست دہندہ کو حکومت میں متعلقہ حکام کی طرف سے تاخیر ، یا غلطی کی وجہ سے تکلیف برداشت نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں جب درخواست دہندگان کو ملکیتی وآزادانہ حقوق دینے کے حکومت کے فیصلے میں یہ عمل مزید اختتام کو پہنچا ہے ، لیکن اس فیصلے کا اطلاق حکومتی عہدیداروں نے کچھ ناجائز ، غیر قانونی ، صوابدیدی اور غیر مستحکم بنیادوں پر نہیں کیا ، ایسے درخواست دہندگان کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔عدالت نے کہا کہ روشنی ایکٹ قواعد یا ڈویژن بینچ کا فیصلہ 9 اکتوبر 2020 کو کسی بھی (ایسے) درخواست دہندہ کے حقوق کو ختم نہیں کرے گا اوراگر اس طرح کے حقوق کسی پہلے سے موجود اسکیم وگورنمنٹ آرڈر کے تحت جمع ہوئے ہوں۔عدالت نے کہا کہ اس کے پہلے فیصلے ، ملکیت / فری ہولڈ حقوق کی منظوری کے بارے میں ایسے کسی بھی پہلے سے موجود اسکیم / گورنمنٹ آرڈر کے تحت جمع کسی بھی لیز / درخواست دہندہ کے حقوق کو برقرار رکھتے ہیں ،جو حتمی حد تک پہنچ چکے ہیں اور ان کا نفاذ قانون کے مطابق ہو۔ اور ان کے نفاذ کو عدالت کے ڈویژن بینچ کے فیصلے کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔