ماسکو//روس نے جی 7ممالک کو تیل کی فراہمی روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان ممالک پر پابندی عائد کی جائیگی جو واشنگٹن کی جانب سے تیل کی قیمت تجویز کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ جو ممالک واشنگٹن کی طرف سے تیل کی قیمت کی تجویز کی حمایت کررہے ہیں اور وہ ممالک یا کمپنیاں جو روس پر پابندیاں عائد کریں گے، ہم انہیں اپنا تیل اور تیل کی مصنوعات فراہم نہیں کریں گے، کیونکہ ہم منڈی سے ہٹ کے کام نہیں کریں گے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت گروپ آف سیون (جی 7)ممالک کی طرف سے روسی تیل کی قیمتوں کو محدود کرنے کے منصوبے پر بحث کی جا رہی ہے۔ روسی تیل پر قیمت کی حد قائم کرنے کا تصور ماسکو کی اجناس کی برآمد سے ہونے والی آمدنی کو کم کرنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، روسی خام تیل کو مارکیٹ سے باہر کرنے کی کوششوں کا ناکام بنایا جائے گا۔نوواک نے متنبہ کیا کہ اس طرح کا منصوبہ تیل جیسی اہم صنعت کے مارکیٹ میکانزم کو خطرے میں ڈال دے گا اور صرف صنعت اور تیل کی منڈی دونوں کے عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یورپی اور امریکی صارفین سب سے پہلے اس کی قیمت ادا کریں گے، جب کہ وہ پہلے سے ہی اپنے غلط اقدامات کی وجہ سے آج بہت زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ روس اس وقت اتنا ہی تیل پمپ کر رہا ہے جتنا کہ اس کے پاس اس وقت پیداوار اور فروخت کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن اگر عالمی منڈی کے حالات مستحکم ہوتے ہیں اور روسی پروڈیوسر خریداروں کی تلاش میں پر اعتماد ہوتے ہیں تو پیداوار میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
جرمنی کو سپلائی معطل
ماسکو//روس کی توانائی کی بڑی کمپنی گیز پروم نے کہا ہے کہ روسی گیس پائپ لائن جس کے ذریعے جرمنی کو گیس سپلائی ہوتی ہے ، اس پر مرمت کا کام مکمل ہونے کے بعد ہفتہ کے روز دوبارہ کھلی جا رہی تھی لیکن گیس لیگیج کے باعث غیر معینہ مدت تک بند رکھی جائے گی۔ گیزپروم کمپنی نے کہا کہ معائنہ کے دوران اسے نورڈ اسٹریم 1 پائپ لائن پر ایک ٹربائن میں گیس کا اخراج ملا ہے جس کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ جرمنی کر گیس سپلائی غیر معینہ مدت تک بند رکھی جائی گی۔ جرمنی کو گیس کی سپلائی پچھلے تین دنوں سے بند ہے۔ جرمنی کے نیٹ ورک ریگولیٹر Bundesnetzagentur نے کہاہے کہ ملک اب روسی گیس کی سپلائی بند کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے،لیکن اس نے شہریوں اور کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ استعمال میں کمی کریں۔