جموں// جموں وکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ یونین ٹریٹری میں سال رواں کے اندر اب تک قریب 36 آپریشنز کے دوران 88 جنگجو مارے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں میں 9بڑے آپریشنز کے دوران 22 جنگجوؤں کو مارا گیا جن میں6 بڑے کمانڈر بھی شامل ہیں۔موصوف نے پیر کے روز یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’پچھلے دو ہفتوں میں 22 جنگجو مارے گئے، ان میں سے 18 جنگجوؤں کا تعلق جنوبی کشمیر کے تین اضلاع پلوامہ، کولگام اور شوپیاں سے تھا جبکہ چار صوبہ جموں کے راجوری اور پونچھ میں دوران دراندازی مارے گئے۔موصوف نے کہا کہ کل ملاکر سال رواں کے دوران مختلف آپریشنز میں اب تک 88 جنگجو مارے گئے۔انہوں نے کہا 'اس سال کے اندر اب تک قریب 36 آپریشنز کے دوران 88 جنگجو مارے گئے جبکہ کوئی 40 کے قریب جنگجو اعانت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جو ان کی کھلم کھلا یا آپریشنز کے دوران اور کمیں گاہیں بنانے میں مدد کرتے تھے، ایسے بھی دو سو چالیس اعانت کار ہیں جنہیں قانون کے دائرے کے اندر لایا گیا ہے'۔مسٹر دلباغ سنگھ نے کہا کہ جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کرنے والے نئے لڑکوں کو اسلحہ کی کمی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا: 'جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کرنے والے نئے لڑکوں میں اسلحے کی کمی محسوس کی جاتی ہے، ان کے پاس پستول یا ہتھ گولے ہوتے ہیں، اصل میں ہماری ہندوارہ، کپوارہ اور سوپور پولیس نے اسلحہ کا ایک بڑا ذخیرہ پکڑ لیا تھا جس کو کیرن سیکٹر سے لاکر کپوارہ میں جمع رکھا گیا تھا تاہم ان کی ابھی بھی کوشش ہے کہ سامان الگ الگ طریقوں سے لایا جائے'۔جنگجوؤں کی موجودہ تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں موصوف پولیس سربراہ نے کہا: 'جنگجوؤں کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے لیکن پہلے کے مقابلے میں اس سال تعداد بہت کم ہے اور ملی ٹنٹوں کی صفوں میں شمولیت کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد بھی کم ہے'۔وادی چناب میں سرگرم ملی ٹنٹوں کے بارے میں پوچھے جانے پر دلباغ سنگھ کا کہنا تھا: 'وادی چناب بہت جلدی جنگجوؤں سے پاک ہوگی۔ رام بن کے اندر کوئی بھی ملی ٹنٹ موجود نہیں ہے، ڈوڈہ کے اندر مسعود نامی ایک ملی ٹنٹ موجود ہے جو اس وقت کشمیر میں سرگرم ہے، کشتواڑ کے اندر تین ملی ٹنٹ ریاض ٹاکری، جہانگیر اور مدثر موجود ہیں۔ بچے کھچے ملی ٹنٹوں کا بھی بہت جلد صفایا کیا جائے گا'۔