یو این آئی
سرینگر//رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر کے بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً کھجور خریدنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم عوامی حلقوں نے حکومت اور فوڈ سیفٹی محکمے سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے وادی کشمیر کو برآمد ہونے والی کھجوروں کے معیار کی سختی سے جانچ کی جائے تاکہ ناقص یا غیر معیاری اشیاء مارکیٹ میں داخل نہ ہوسکیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان سے قبل ہزاروں ٹن کھجور کشمیر پہنچتے ہیں، مگر اس بات کی کوئی واضح ضمانت نہیں ہوتی کہ ان کی کوالٹی عالمی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ لوگوں نے زور دے کر کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء ، خصوصاً مذہبی اہمیت رکھنے والی مصنوعات میں کوئی بھی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہے۔سرینگر کے ایک معروف کھجور تاجر ظہور احمد ترمبو نے بتایا کہ کھجوروں کی خرید و فروخت میں غیر سنجیدہ عناصر کی مداخلت تشویشناک بنتی جارہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے سوشل میڈیا پر کئی ایسے افراد سامنے آئے ہیں جو مختلف پیشوں سے وابستہ ہونے کے باوجود رمضان کے دوران کھجور بیچنے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ سال بھر کسی اور پیشے سے جڑے ہوتے ہیں، رمضان آتے ہی کھجوروں کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ بے روزگاری اپنی جگہ لیکن ہر کوئی حساس فوڈ بزنس میں نہیں آسکتا۔‘ظہور ترمبو کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام پر سرگرم کچھ ’انفلانسر‘ بھی مبالغہ آرائی اور غلط تشہیر کے ذریعے صارفین کو گمراہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’انفلانسر بڑے بڑے دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان میں زمینی حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔ کئی لوگ ایسی کھجوروں کا بھی دعویٰ کرتے ہیں جو کشمیر میں دستیاب ہی نہیں ہوتیں‘‘۔انہوں نے خاص طور پر مدینہ منورہ کی ایک معروف نوعیت کی کھجور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کھجور صرف مخصوص باغات میں پائی جاتی ہے اور کشمیر تک اس کی باقاعدہ برا?مد نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود کچھ دکاندار اس کھجور کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض موسمی دکاندار ایک ہی قسم کی کھجور پر رعایت کا جھانسہ دے کر خریدار کو اپنی دکان تک بلاتے ہیں، مگر وہاں جا کر ریٹ اور کوالٹی بالکل مختلف فراہم کی جاتی ہے، جو صریحاً دھوکہ دہی ہے۔ظہور احمد ترمبو نے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ کھجور کی دکانوں اور سوشل میڈیا پر فروخت کرنے والے افراد کی سختی سے سیمپلنگ کی جائے تاکہ عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ نہ ہو۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ صرف رجسٹرڈ اور معتبر دکانداروں سے ہی خریداری کریں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں مہنگائی، ناجائز منافع خوری، جعلی اشیاء کی فروخت اور غیر معیاری کھجوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ صارفین سکون کے ساتھ خریداری کر سکیں اور کسی دھوکے کا شکار نہ ہوں۔
بڑے پیمانے پر سمپلنگ کی جائے گی:اسسٹنٹ فوڈ کمشنر
یو این آئی
سرینگر//رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں فوڈ سیفٹی محکمے نے بازاروں میں کھانے پینے کی تمام اشیاء کی سخت جانچ کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اسسٹنٹ فوڈ کمشنر یامین نے بتایا کہ محکمہ پہلے ہی کھجوروں سمیت مختلف اشیاء کی سمپلنگ کا سلسلہ شروع کر چکا ہے اور رمضان کے پیش نظر اس مہم کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں کھجوروں کی باقاعدہ سمپلنگ کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل بھی مختلف دکانوں کا دورہ کرکے کھجور سمیت دیگر خشک میوہ جات کے نمونے حاصل کیے گئے۔ یامین کے مطابق یہ معمول کا عمل ہے، تاہم رمضان المبارک کے قریب آنے کے ساتھ اس میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ صارفین تک صرف معیاری اور محفوظ اشیاء ہی پہنچ سکیں۔اسسٹنٹ فوڈ کمشنر نے مزید بتایا کہ محکمہ کھجور کے علاوہ کشمش، کاجو، سوجی، گھی اور دیگر ضروری اشیائے خور و نوش کی بھی مسلسل سیمپلنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں ہر سال رمضان کے دوران اشیائے خوردونوش کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے معیار کی نگرانی نہایت ضروری ہے۔
مہنگائی کی نئی لہر
اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں
یو این آئی
سرینگر//رمضان المبارک کی آمد سے چند ہی روز قبل وادی کشمیر کے بازاروں میں مہنگائی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آ گیا ہے۔ بالخصوص کھجور، گوشت اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کے سبب عام صارفین سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ جموں و کشمیر اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مقدس مہینے میں لوگوں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔رمضان سے قبل ہر سال کھجوروں کی مانگ بڑھ جاتی ہے، تاہم اس بار قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ شہرِ سری نگر کے مختلف بازاروں میں کھجور کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ معمولی معیار کی کھجوریں جہاں گزشتہ سال 250 سے 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھیں، وہاں اب ان کی قیمت 350 سے 450 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ اعلیٰ معیار کی ایرانی اور سعودی کھجوریں 700 سے 1,200 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہیں۔لال چوک کے رہائشی اور سرکاری ملازم نثار احمد نے کہا’’ہر سال رمضان سے پہلے مہنگائی بڑھتی ہے مگر اس بار تو حالات ہاتھ سے نکلتے نظر آ رہے ہیں۔ کھجور، سمر بیوریجز، بیسن، تیل ہی نہیں بلکہ گوشت کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ حکومت کو فوری مانیٹرنگ ٹیمیں بازاروں میں بھیجنی چاہئیں‘‘۔گوشت کی قیمتیں بھی ان دنوں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ اگرچہ سرکاری ریٹ 700 روپے فی کلو مقرر ہے لیکن شہر کے کئی علاقوں میں 750 روپے فی کلو تک گوشت فروخت ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قصاب اکثر سرکار کے حکم ناموں کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں اور بازار میں من مانی قیمت وصول کر کے صارفین کو لوٹ رہے ہیں۔حضرت بل کے ایک نوجوان فیصل نبی نے بتایا’’ہم طالب علم ہیں، محدود خرچ ہوتا ہے۔ روزہ داری کیلئے جو چیزیں ضروری ہوتی ہیں انہی کی قیمتیں سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ انتظامیہ صرف بیانات دیتی ہے، زمینی سطح پر کارروائی نظر نہیں آتی‘‘۔