رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ چل رہا ہے۔ اسلامی کلینڈر کا یہ نواں مہینہ شہرُالقران اور شہرُ المواسات کے ناموں سے بھی جانا جا تا ہے۔قرآن پاک کو خُدا وندِ متعال نے اسی بابرکت مہینے میں نازل فر مایا ۔شھرُ القران کے اس عظیم مہینے+ کونیکیوں کا موسمِ بہار بھی کہتے ہیں۔نیکیوں کے اس موسم ِ بہار میں ہر نیکی پروان چڑھتی ہے۔ ایثار و ہمدردی ،زہد و تقویٰ،دعا و استغفار، تراویح و تسا بیح ،اور اُخوت و مروت کے منا ظر ماہ ِ رمضان کے اس مہینے میں چہار سو دیکھے جاسکتے ہیں۔ آخر اللہ ہماری اس روزہ داری سے چا ہتے کیا ہے، اُس بارئے میں خود سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ روزوں کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ صبح سے لے شام تک کچھ کھائے پئے بغیر رہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہاانسان اپنی پوری زندگئی تقویٰ کے قالب میں ڈال کر زندگی گزارے‘‘۔ امامِ غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اخلاق الٰہیہ میں سے ایک اخلاق کا پرتو اپنے اندر پیدا کرے جسکو صمدیت کہتے ہیں۔ علامہ ابن القیّم مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ روزہ سے مقصود یہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات اور عادتوں کے شکنجہ سے آزاد ہوسکے ، اسکی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہو۔حضرتِ ابو عبیدہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے جب اسکو پھا ڑا نہ ڈالا جائے۔ خشیتِ الہیٰ کے حصول کے لئے رمضان کا یہ مہینہ ایک تر بیتی کورس ہے۔ ایک طرف سے رب الرّ حمٰن اس مہینے میں رحمت کے دریا بہا دیتا ہے اور لاکھوں لو گوں کو جنت نصیب کر دیتا ہے،ایک نفل رکعت ادا کرنے پر ستر فرضوں کا ثواب عطا کر دیتا ہے اور دوسری طرف سے اپنے بندوں کو ایک منظم طریقے سے جینے کا ایک منشورعطا کرتا ہے۔ نیکیوں کے موسم بہار میں خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مقدس مہینے میں اپنے رب کو راضی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور بد نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کے مہینے میں بھی خدا کو راضی نہیں کر پاتے ہیں۔ رسول ِ رحمت ﷺ کا ارشاد ہے کہ خاک آلود ہو اُس شخص کی ناک جس نے اپنی زندگی میں رمضان پا یا لیکن اپنے گنا ہوں کی مغفرت نہ کر ا سکا ۔آپ ﷺ نے مزید فر مایا جس شخص نے روزہ رکھتے ہوئے جھوٹ بو لنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھو ڑا ،تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھا نا پینا چھوڑ دے۔ ایک اور حدیث میں پیغمبرِ آخرالزماں حضرت ِ محمد ﷺ نے فرمایا بہت سارے روزہ دار سحری اور افطار تو کرتے ہیں لیکن انکو بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
جود و سخاوت: موجودہ پُر آشوب ایام میں جب کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ لے رکھاہے، حقو ق العباد پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اڑوس پڑوس میں رہنے والئے ہزاروں کسلمند اور فرومند لوگ نانِ شبینہ کے محتاج ہیں۔ انکی ضر وریات کو پورا کرنے کئے لئے صاحبِ ثروت لوگوں کو آگے آنا چاہئے۔افطار پارٹیوں اور باقی فضول خرچی کرنے کے علی الرّغم ضرورت ہے کہ ہم سماج میں رہ رہے مجبور لوگوں کے کام آسکیں۔شہر ُ المواسات کے اس مہینے میں بالا دست لوگوں کو تہی دست لوگوں کو یاد رکھنے میں کسی قسم کا تغافل نہیں کرنا چاہئے۔
دعا و استغفار : اس وقت ایک ہی اُمید ہے، وہ ہے عرش رحمٰن کے در پر دھرنا دینے کی۔خالق و مالک خدائے ذو الجلال کی بارگاہ میں دعا و استغفار کرنے کی۔ آنکھوں سے ندامت کے آنسو بہانے کی، دعا مومن کا ہتھیا ر ہے،مومن کی ڈھال ہے اور عبادت کی مغز ہے۔ استغفار رب الرّ حمٰن کو پسند ہے اسلئے پانچ وقت با جماعت نماز کے ساتھ ساتھ تلاووت قرآن ، نوافل و تہجد کا اہتمام اور دعا و استغفار کرنے سے ہماری مغفرت ہوسکتی ہے ۔ توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے اور رب کو مانگنے سے ہی ہمیں اس مصیبت سے خلاصی مل سکتی ہے۔
تبدیلی کا مطا لبہ: رمضان المبارک مطالبہ کرتا ہے بدلنے کا ۔رمضان دنیا پرستی، رشوت خوری، سینہ زوری ،سود خوری ، چغل خوری، غیبت ، عیب جوئی ، کذب بیانی اور دیگر تمام گناہوں کے کاموں سے اجتناب کرنے کا پیغام دیتا ہے ۔ اب اگر ان حالات میں بھی ہماری زندگی بدل نہ سکی تو وہ ہماری سب سے بڑی بد قسمتی ہوگی۔ عا لمی سطح کے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انفرادی سطح پر ہر ایک کو بدلنے کی ضروورت ہے۔ اگلا رمضان کس کو نصیب ہو،کوئی نہیں جانتا۔ رمضان المبار ک کے بے شمار فائدئے ہیں ان سے مستفید ہونے کے لئے یکسوئی اور یک روئی مطلوب ہے۔بقولِ سید ابو الحسن ندوی ؒ رمضان المبارک عبادات کا عالمی موسم اور اعمال صالحہ کا جشن عام ہے۔پورے اسلامی معاشرہ پر نوانیت اور سکینت کا ایک وسیع شامیانہ سایہ فگن ہے۔
رابطہ :9622669755