صحت، خزانہ، آبپاشی ،سماجی بہبود تعلیم اورامور صارفین سمیت 30محکموں میں رقومات استعمال نہیں کی گئیں
بلال فرقانی
سرینگر//کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی تازہ رپورٹ میں جموں و کشمیر میں مالی نظم و نسق کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس کے مطابق مالی سال 2024-25کے دوران مختلف محکموں میں 5,285 کروڑ روپے سے زائد رقم یا تو مکمل طور پر استعمال نہیں ہوئی یا واپس کر دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت، خزانہ، سماجی بہبود، آبپاشی، اور تعمیرات عامہ سمیت متعدد اہم محکمے اپنی بجٹ کی مختص رقوم خرچ کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس سے منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق درجنوں سکیموں میں صفر خرچ ریکارڈ کیا گیا، جو یا تو منصوبوں میں تاخیر یا مکمل غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت و طبی تعلیم میں سب سے زیادہ فنڈز غیر استعمال رہے، جہاں نیشنل رورل ہیلتھ مشن میں500 کروڑ روپے، آیوشمان بھارت میں63.44 کروڑ روپے، پی ایم اے بی ایچ آئی ایم میںتقریباً 67 کروڑ روپے اور گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کی اپ گریڈیشن میں130 کروڑ روپے سے زائد خرچ نہیں کیا گیا۔اسی طرح محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول میں فلڈ ریسٹوریشن کیلئے مختص 350 کروڑ روپے اور دیگر آبپاشی منصوبوں کے لیے رکھی گئی بڑی رقوم بھی استعمال نہ ہو سکیں۔محکمہ سماجی بہبود میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، جہاں پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم میںتقریباً 389 کروڑ روپے، مختلف اسکالرشپ سکیموں اور خواتین و بچوں کی فلاحی منصوبوں پر کوئی رقم خرچ نہیں ہوئی۔محکمہ خزانہ کے تحت سب سے بڑی رقم 2,165.57 کروڑ روپے پاور بانڈز پر سود،خرچ نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جبکہ ’ادھے‘ سکیم اور دیگر مالیاتی مدوں میں بھی سینکڑوں کروڑ روپے غیر استعمال رہے۔خوراک، شہری رسد و امور صارفین محکمہ میں کشمیرکیلئے چاول کی فراہمی پر مختص 60 کروڑ روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے، جبکہ ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے رکھی گئی رقوم بھی غیر استعمال رہیں۔رپورٹ میں تعلیم، زراعت، صنعت و تجارت، جنگلات، قبائلی امور، دیہی ترقی اور دیگر محکموں میں بھی متعدد سکیموں کے تحت فنڈز کے استعمال نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔محکمہ داخلہ میں پولیس کی جدید کاری، سائبر کرائم کی روک تھام، داخلی سلامتی اور پولیس اہلکاروں کی فلاح سے متعلق سکیموں پر بھی کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا۔محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی میں تقریباً 297 کروڑ روپے، محکمہ تعمیرات عامہ میں 10 کروڑ روپے، محکمہ زراعت میں تقریباً 25 کروڑ روپے، محکمہ قبائلی امور میں 200 کروڑ روپے سے زائد، محکمہ جنگلات میں 13 کروڑ روپے، اور محکمہ دیہی ترقی میں تقریباً 18 کروڑ روپے خرچ نہ ہو سکے۔دیگر محکموں میں پاور ڈیولپمنٹ میں31 کروڑ روپے، تعلیم میں15 کروڑ روپے، پارلیمانی امور میں4 کروڑ روپے، محکمہ قانون میں4.58 کروڑ روپے، صنعت و تجارت میں3 کروڑ روپے، محکمہ مال میں0.25 کروڑ روپے، اینمل وشیپ ہسبنڈری میں1 کروڑ روپے، لیبر میںتقریباً 5 کروڑ روپے، ہائر ایجوکیشن میں15 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ میں1 کروڑ روپے، ہارٹیکلچر میں11 کروڑ روپے، کاآپریٹو میںتقریباً 1 کروڑ روپے اور یوتھ سروسز و ٹیکنیکل ایجوکیشن میں55 کروڑ روپے سے زائدشامل ہیں۔سی اے جی نے اس صورتحال کو کمزور مالی منصوبہ بندی، ناقص عمل درآمد اور نگرانی کے فقدان کا نتیجہ قرار دیا ہے، اور زور دیا ہے کہ بجٹ کے مؤثر استعمال کے لیے مضبوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔