سید مصطفیٰ احمد
آج ہمارے معاشرے میں بہت سارے مسائل پائے جاتے ہیں۔ رشوت خوری ان میں سے ایک ہے۔ اس کی کوئی جامع تعریف نہیں ہے۔ ہاں! اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے غلط طریقوں کا انتخاب کرنا، ایک نامکمل تعریف ہے۔ چند دہائی قبل وادی ٔ کشمیر میں اس لعنت کا خال خال ہی کوئی نام ونشان پایا جاتا تھا، مگر اب اس کے بغیر کسی بھی کام کا ہونا بالکل محال ہوچکا ہے۔ زندگی کے تمام تر شعبوں سے وابستہ ہر اَن پڑھ اور تعلیم یافتہ فرد، اس گھناونے جرم میں ملوث ہے۔ یہ کہنا غلط بھی نہ ہوگا کہ اب یہ گناہ، گناہ بھی تصور نہیں کیا جاتا ہے اور اس میٹھے زہر کو پینے کے لئے ہر کوئی بےتاب ہے۔
اس گناہ کے پیچھے بہت سارے وجوہات کا عمل دخل ہیں۔ پہلا ، دنیا کے محبت۔ محنت کرکے دیانت دارانہ کمائی کرکے مکان تعمیر کرانا، سونا چاندی کا ذخیرہ بنانا، بینک میں پیسوں کے انبار جمع کرنا، اپنے اولاد کے لئے آرام دہ مستقبل فراہم کرنا، گھومنے پھرنے کے لئےتین تین چار چار گاڑیاں رکھنااور عیش و آرام کے تمام سامان دستیاب رکھنا ،ناجائز طریقوںسے حصولِ دولت اور رشوت کے بغیر قطعی ناممکن ہے۔اعلیٰ اور ادنیٰ عہدوں پر فائز رہنے والےزیادہ تر لوگوںکے لئے متذکرہ بالا چیزوں کے حصولیابی کے لئے جو چیز درکار ہوتی ہے وہ تو محض رشوت ہی تو ہے۔واقعی رشوت کے کھیل ہی نرالے ہیں۔کہیں اگر کوئی لاکھوں مالیت کی زمین ہوتی ہے تو رشوت کی طاقت پر وہ کروڑوںمیں بیچی جاسکتی ہے،گویا رشوت کا آلہ پیتل کو سونے بنانے میں کار آمد بن چکا ہے۔ اسی طرح رشوت کی ہی بدولت سرکاری محکموں میں اعلیٰ پوسٹ حاصل کرکے زندگی کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔ دوسرا ہے جھوٹی عزت۔ اس کا رشتہ بھیبراہِ راست پہلی وجہ سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں اب سیدھی سادی زندگی گزارنا جیسے زندگی ہی نہیں ہے۔ جب تک دکھاوا نہ ہو، معاشرے میں عزت ملنا مشکل ہے۔ ہمسائیگی میں اگر آپ کا مکان ماڈرن ڈیزائن کا نہیں ہے، تو آپ کو نیچی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ آپ کے ساتھ رشتے ناتے کی صورت حال کم ہوتی جائے گی ،بڑے بڑے ڈیزائن دار مکان والے آپ کو نظر انداز کرتے رہیں گے۔ اب اگر رشوت سے تعمیر کیا گیا مکان اور چمکیلے ملبوسات ہوں، تو عزت کے پھول ہر جگہ بکھیر دیئے جائیں گے۔ تیسرا ہے محنت سے نفرت۔ہمارے معاشرے میں کاہلی اور سُستی رچ بَس گئی ہے۔زیادہ تر لوگ محنت کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں،محض ناجائز ،غیر قانونی طریقوں سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کے مائل ہوچکے ہیں۔ آرام پسندی ہر کسی کو پسند ہے تو آرام حاصل کرنے کے لئے سب سے آسان طریقہ رشوت خوری ہے۔ ہمارا نوجوان بھی اب پڑھائی کے میدان میں سال بھر محنت سے جی چراتا ہے اور سال کے آخر پر رشوت دے کر اچھے نمبرات سے پاس ہوتا رہتاہے۔ ایسی ہی مثالیںہماری زندگی دیگر کئی معاملات میں بھی مکمل بیٹھتی ہیں۔
اس گناہ پر روک لگانے کے لئے سب کو آگے آنا ہوگا۔ بحیثیت مسلمان کیاہمیں آخرت کی کوئی فکر نہیں کرنی چاہئے؟ اللہ اس گناہ کے بارے میں ہم سے پرسش تو ضرور کرے گا۔ اس کے علاوہ برائے انسانیت ہمیں محنت کرنے والے افراد اور تعلیم حاصل کرنے والے طلاب کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ یا د رہے کہ دنیا کی رنگینی زیادہ دیر تک رہنے والی نہیں ہے۔ یہاں کی آسائش آخرت کی رُسوائی کا باعث بن جائے گی۔ اس دنیا میں ضروریات زندگی پوری ہونا سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس سے زیادہ کی حوس رکھنا باعث تباہی ہے۔ گورنمنٹ کو بھی اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے سخت قوانین نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء کو خود بھی اس چیز سے دور رہنا ہوگااور لوگوں کو اس گناہ سے دور رہنے کی تلقین کرنی چاہئے۔ ہر انسان کو اس ضمن میں اپنے آپ سے ہی شروعات کرنی چاہئے۔ یہ ناسور سماج کے رگ رگ میں سمایا ہوا ہے۔ اس کو جڑ سے ختم کرنا کوئی آسان کام تو نہیں لیکن نا ممکن تو نہیں ہے۔ اس رشوت خوری کے سمندرمیں جہاں بڑے بڑے مگر مچھ غوطے مارتے رہتے ہیں وہاں چھوٹی بڑی مچھلیاں تیر رہی ہیں۔ اپنے اپنے منصب کے مطابق ان کا اثر و رسوخ دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔گویا ان کی پہنچ بھی نیچے سے اوپر تک ہے،وہ قوانین کو خریدتے ہیں اور اس کو بدلنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ اس بدعت کے خلاف اقدام اٹھائے جائیں۔
(رابطہ نمبر۔7006031540)
[email protected]