فہیم الاسلام
حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کونبوت کے ابتدائی دور میں جن مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا، اُن پر صبر کرنے سے یہی پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ؐ ہمیشہ امن و سلامتی چاہتے تھے ۔نبوت کے ملنے کے بعد سب سے پہلے جب آپؐ نے کوہ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو دعوت دی تو جواب میں ابولہب نے جب کہا کہ غارت ہو جاؤ، کیا اسی بات کے لئے تم نے ہم سب کو یہاں اکٹھا کر لیا تھا۔ دعوت کا یہ پہلا قدم تھا، جس پر مخالف کے شور و واویلا کرنے پر حضورؐ نے مکمل سکوت کیا۔ اگر اس موقع پر ایک لفظ بھی کہتے تو معاملہ طول اختیار کرجاتا اور امن کی فضا مکدر ہو جاتی۔ پھرایک مرتبہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں کھڑے ہو کر اس دعوت کا اعلان کیا تو مشرکین نے آپ ؐکو بُرابھلا کہا۔ کسی نے شاعر تو کسی نے کاہن کہا۔ لیکن حضور اکرم ؐ دعوت دیتے رہے اور خود کوئی جواب نہ دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ انداز میں ان باتوں کی تردید کی۔ جب حضور اکرم ؐ کو ستانے کے لئے انتشار انگیزی،غنڈہ گردی کی ہر ممکنہ صورت کو اختیار کی گئی تو پڑوسی جو بڑے بڑے سردار تھے، آپؐ کے راستے میں کانٹے بچھاتے،نماز پڑھتے وقت شور و غل مچاتے،اوجھڑی لا کر ڈالتے،گلا گھونٹتے۔لیکن آپؐ نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا،یہاں تک کہ مشرکوں نے آپ ؐکو بے بس کرنے کے لئے ابو ہاشم کو شعب ابی طالب میں قید کر دیا گیا، اس پر بھی آپؐ نے صبر استقامت دکھائی ۔پھر جب مکہ سے دلبرداشتہ ہوکر طایف آئے تو وہاں جو برتاؤ کیا گیا ،اگر آپ چاہتے تو فرشتوں کی پیش کردہ تجاویز پر عمل کر کے پورے طائف کے امن کو خاکستر کر دیتے، لیکن امن کی بحالی کے لئے ان کے خلاف ایک لفظ تک نہ کہابلکہ اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے ہدایت و مغفرت کی دعا فرمائی۔
حضور اکرمؐ کی پوری زندگی ہی امن وسلامتی کا بے مثال نمونہ رہی،جبکہ مدنی زندگی میں امن و سلامتی کا گوشہ نہایت وسیع ہوگیا۔ مکی زندگی میں اپنی قوم سے واسطہ تھا تو مدنی زندگی میں آپ کے تعلقات عالمی ہوگئے۔ چاروں طرف سے دشمنوں کے نرغے میں گھرے ہونے کے باوجود جس طرح امن کو بحال رکھتے ہوئے اپنے مقصد کو پورا کیا ،اس پر دنیا حیران ہے ۔ایک طرف مکہ کے مشرکین ،دوسری طرف داخلی منافقین ،تیسری طرف یہود، چوتھے مخالفین نصاریٰ کے بعض قبائل اور پھر آخر میں دو طاقتور سلطنتوں کے مخالفین۔ سب کے درمیان ایک پُرامن نظام کو قائم کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جو آپؐ سے پہلے نہ کسی نے انجام دیا اور نہ آپؐ کے بعد کوئی اس کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔
آپؐ کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالیںتو یہ جان لینا کافی ہوگا کہ آپؐ کی پوری زندگی اور خاص طور پر مدنی دور میں کسی کو آپؐ سے یا آپؐ کو کسی سے ذاتی دشمنی یا عناد نہ تھا۔ آپؐ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی مجسم رحمت تھے۔ خانگی زندگی کے اعتبار سے دیکھیںتوخانگی معاملات میں ازواج مطہرات کے درمیان مساوات،غلاموں سے ملاطفت،بدووں کے جاہلانہ رویوں پر عفو و درگذر اور صحابہ کی صحیح تربیت کے ذریعے حضورؐ نے جو پرامن فضا قائم کی، یہ آپؐ ہی کا حصہ تھا،حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں 10 سال آپ ؐ کی خدمت میں رہا ،کبھی آپ ؐنے اُف تک نہ کیا اور نہ کسی کام کے بارے میں کہا کہ یہ تم نے کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا؟ایک بدو چادر سے آپ ؐکی گردن کھینچنے لگا تو آپؐ نے کچھ نہیں کہا بلکہ انہیں معاف کیا۔معاشرتی سطح پر بطور نمونہ صرف اخوت کی اس نادر و نایاب مسائل کا ذکر کافی ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔سب کچھ چھوڑ کر آئے تو سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا تھا ،جس کا حل رسول اللہ ؐ نے انصار و مہاجرین کے درمیان اخوت کے ذریعے نکالا ،اگر اس میں تاخیر ہوتی تو یہ چیز بہت سے مفاسد کے وجود کا ذریعہ بن جاتی۔ اس سلسلے میں وہ حدیث امن کے قیام کی اعلیٰ مثال ہے جس میں آپؐ نے فرمایا ’’کسی عربی کو عجمی پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ سے۔‘‘(الحدیث)
ملکی سطح پر مدنی زندگی میں امن کیلئے جو کوشش حضوراکرم ؐ نے کی، ان میں سب سے بہتر کوشش یہ تھی کہ آپؐ نے مدینہ آتے ہی وہاں کے یہود سے عہد کیا کہ ہم آپس میں امن و امان کے ساتھ رہیں گے، اگر کوئی خارجی حملہ ہو گا تو ہم سب مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ اسی سطح کا معاہدہ حضورؐ نے آس پاس کے دیگر قبائل سے بھی کیا۔اگر تاریخ اسلام کی طرف نظر ڈالیں تو جو مختلف غزوات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدس میں پیش آئے، اُن میںکوئی بھی جنگ ذاتی مفاد کے لئے نہیں لڑی گئی بلکہ ہر کوئی جنگ امن و سلامتی کے لیے لڑی گئی۔
صلح حدیبیہ امن و شانتی کی سب سے واضح مثال ہے۔جب مہاجرین کو ہجرت کئے ایک مدت ہو گئی تو ان کے دل میں بار بار یہ خیال پیدا ہوا کہ اپنے خاندان، اپنے بیوی بچوں سے ملاقات کریں، بیت اللہ کی زیارت کریں،اسی ارادے سے حضور ؐ، صحابہ کی ایک جماعت کو لے کر جانب مکہ روانہ ہوئے اور مشرکین کو غلط گمان نہ ہو ،اس لیے گھوڑوں کو قلائد لگوائے،ہتھیار بھی کم سے کم لیے اور سیدھے مکہ نہیں گے بلکہ مقام حدیبیہ پر قیام کیا اور اطلاع کے لئے حضرت عثمانؓ کو بھیجا ،پھر جب قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو امن کا پیغام لے کر آئے تو ان کی ہر شرط قبول کی اور اتنا دَب کر صلح کی کہ بعض صحابہ اس پر دلبرداشتہ ہوگئے اور پوچھنے لگے کہ کیا ہم حق پر نہیں؟لیکن حضور ؐ نے صلح کو مع کل شرائط قبول کیا۔اگر آپ چاہتے تو زبردستی اپنی طاقت کے بل بوتے پر عمرہ کر لیتے، سابقہ جنگوں سے اہل مکہ پر رعب طاری ہوچکا تھا،ان کے بہت سے سردار مارے جا چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی لیکن بغیر ادائے عمرہ کے واپس چلے گئے۔جب حضوراکرمؐ نے یہودیوں سے معاہدہ کرلیا تو یہودیوں نے اس معاہدہ کا پاس ولحاظ نہیں رکھا، اور عداوت کا بھرپوراظہار کیا،چنانچہ ان یہودیوں کی طبیعت کو اسلام کی ترقی دیکھ کر کہاں چین آتا،جب بھی موقع ملتا غداری اور نقص عہد کرتے،جس کی بنا پر ایک ایک کر کے ان کو جلاوطن کر دیا گیا تاکہ مدینہ کی پرامن فضا مسنون نہ ہو ،لیکن رحم و کرم کی داد دیجیے کہ سامان لے جانے کی بھی اجازت دی۔
اگر دنیا کی سب سے عظیم ترین انقلاب کے بات کی جائے تو وہ اسلامی انقلاب تھا جو کہ سرزمین مکہ میں برپا ہوا، جسے فتح مکہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ دنیا کا سب سے پہلا انقلاب ہے جو بنا خونریزی سے آیا اور اُس دن اگر آپ چاہتے تو ہر کسی مشرک، ہر کسی منافق سے بدلہ لیتے مگر آپؐ نے امن سلامتی کی بحالی کے لیے ہر کسی کو معاف کیا اور سرزمین مکہ میں امن و سلامتی کی فضا برقرار رکھی۔
آج دنیا امن و سلامتی کے لئے ترس رہی ہے لیکن امن سلامتی کا راز اللہ کی کتاب قرآن مقدس میں ہے اور آخری پیغمبر حضرت محمدؐ کی سیرتِ پاک میں ہے۔ اگر آج بھی دنیا قرآن کی طرف واپس لوٹ آئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نمونہ تسلیم کرے تو دنیا میں امن و سلامتی قائم ہوسکتی ہے ۔حضور اکرمؐ کی مبارک زندگی کے جس پہلو کی بھی بات کی جائے، وہ امن و سلامتی کا منبہ ہے۔ آپ ؐکی زندگی مبارک کے لئے جتنی کتابیں لکھی جائیں ،جتنے قلم خشک ہو جائیں وہ کم ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امن کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے کہ اس میں دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی مضمر ہے۔
(طالب علم شعبہ سیاسیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
<[email protected]