بانہال//صوبہ جموں میں محکمہ سیاحت کا شعبہ اب تک پتنی ٹاپ اور سناسر سے آگے اپنا دائرہ نہیں بڑھا سکا ہے اور اسی علاقے تک محدود رہنے کی وجہ سے وادی چناب کے درجنوں غیر دریافت شدہ خوبصورت اور صحت افزا مقامات عام لوگوں کیلئے گمنام ہیں ۔ وادی چناب کے مشہور سیاحتی مقامات کو سیاحت کے نقشے پر لانے اور کئی علاقوں کو ٹورسٹ سرکٹ کے طور متعارف کرانے کیلئے متعلقین کی طرف سے کئے گئے تمام دعوے اب تک سراب ثابت ہوئے ہیں اور وادی چناب کے درجنوں خوبصورت مقامات اور سیاحت کیلئے وسائیل تاحال محکمہ اور سرکاری عدم توجہی کا شکار ہیں ۔ ضلع رام بن کے مہو منگت ، ناون، رتن ، دبدلو، سرنجن ٹاپ، نس گلی ، اچھن ، موری ، تراجی بل ،مالنسر، لیل آڑ، سرکنٹھا ٹاپ ، ارم نکھ ، دمن تراگ ، زبن ، پیر پنجال ٹاپ ، نیل ٹاپ ، واسا مرگ ، ٹھنڈی چھاووں ، پوگل پرستان ، سرگلی ، ہنس راج ٹاپ ، سروا دھار ،گول سنگلدان ، تتا پانی ، مہا کنڈ ، راما کنڈ جیسے درجنوں گمنام اور غیر دریافت شدہ سیاحتی مقامات سرسبز جنگلوں ، وسیع اور خوبصورت چراہ گاہوں ، میدانوں ، چشموں ، ندیوں اور قدرتی مناظر سے مالا مال ہیں اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں ۔یہاں کی فضا قدرتی پھولوں ، جنگلی جڑی بوٹیوں کی مسرور کرنے والی مہک سے معطر ہے ۔ قدرت کی آغوش میں قدرتی پھولوں سے سجے سرسبز اور وسیع میدان ، چراگاہیں اور قدرتی مناظر گرمیوں کے دوران ضلع رام بن کے مقامی لوگوں اور سکولی بچوں کیلئے کشش کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور لاک ڈائون کے دوران بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں ۔ کولگام اور بانہال کے درمیان مہو کی سرسبز چراگاہوں میں ہر سال ضلع رام بن اور جموں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ مال لیکر پہنچ جاتے ہیں ۔ کئی مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہاں کی بے مثال قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لانے کیلئے اقدامات سے مقامی سطح پر روزگار کے موقع فراہم ہوں گے اور اس کیلئے محکمہ سیاحت کو اقدام کرنے چاہیں کیونکہ پورے ضلع رام بن میں پتنی ٹاپ کے بعد سب اچھے خوبصورت مقامات مہو منگت اور گول میں ہیں اور ان دونوں علاقوں میں ٹورازم کا شعبہ مہو منگت اور گول میں پروان چڑھ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال قدرتی خوبصورتی سے مالا مال علاقوں کو دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں مقامی سیاح اور سکولی بچے ضلع کی مشہور سیاحتی جگہوں کا پیدل چل کر ہی رخ کر رہے ہیں جن میں گول ،مہو منگت اور پوگل پرستان کے اوپری علاقے قابل ذکر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقے قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہیں لیکن اس بارے میں عام لوگوں میں کوئی جانکاری اور آگاہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ سڑکوں سے دور سفر کی وجہ سے جو بھی مقامی سیاح اور سکولی بچے یہاں آتے ہیں وہ ٹھہرنے کیلئے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ایک دو گھنٹے گذارنے کے بعد بادل ناخواستہ واپس لوٹ جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے تھوڑا سا روزگار کمانے کیلئے انے والے مقامی سیاحوں کیلئے گھوڑے رکھے ہوئے ہیں اور سیزنل دکانیں بھی کھول رکھی ہیں جو کئی مقامی لوگوں کیلئے تھوڑا سا روز گار کمانے کا سبب بنی ہوئی ہیں تاہم حکام سرے سے ہی لاتعلق ہیں۔ضلع رام بن کے خوبصورت مقامات کوسیاحتی مقامات کے طور ترقی دینے کیلئے موجودہ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے اپنی کوششیںجاری رکھی ہوئی ہیں اور انہوں نے ان علاقوں سے حاصل کی گئی خوبصورت مناظر پر مبنی تصاویر اور عکس بندیوں کو نہ صرف سوشل میڈیا پر خوب تشہیرکی بلکہ انہوں نے ضلع رام بن کے سیر سپاٹے والی جگہوں کے خوبصورت مناظر کئی سیاحتی اداروں کی نوٹس میں بھی لائے ۔ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کی طرف سے ضلع رامبن میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کئے جارہے کام سے عام لوگوں میں یہ امید جاگ گئی ہے کہ شاید ڈپٹی کمشنر رام بن کی کوشش آج نہیں تو کل اس علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کار گر ثابت ہوں گیں ۔