محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن کی تحصیل رامسو اور تحصیل رام بن کے درمیان تقسیم دور افتادہ علاقہ سمبڑ اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، رابطہ سڑکوں کی کمی، پینے کے پانی کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں عوامی شمولیت نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق چند ایک ماہ قبل سے سمبڑ ریلوے سٹیشن کے گرد چار دیواری تعمیر ہونے کے بعد سمبڑ کے کئی دیہات کا ریلوے سٹیشن سے براہ راست رابطہ منقطع ہوگیا ہے، جس کے باعث لوگوں کو سٹیشن تک پہنچنے اور سکول سمیت دیگر ضروری کام انجام دینے کے لیے کئی کلومیٹر اضافی سفر کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی ہیکہ ریلوے سٹیشن سمبڑ اور باقی علاقوں کو جوڑنے کیلئے ایک فلائی اوور پیدل پل کو تعمیر کیا جائے تاکہ لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔کئی مقامی شہریوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلاک سنگلدان میں گرام سبھا کے اجلاس پنچایت سطح پر منعقد ہونے کے بجائے بلاک ہیڈکوارٹر میں ہی منعقد کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے عام دیہاتیوں کو اپنے علاقے کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے بارے میں معلومات نہیں مل پاتی ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سال 2026 کے ترقیاتی منصوبے چند محدود سیاسی اور کھڑپنچ قسم کے افراد کی ایما اور موجودگی میں تیار کیے گئے ہیں جس سے پنچایت سمبڑ اپر اور پنچایت سمبڑ لور میں سالوں سے منتظر ضروری نوعیت کے عوامی کام محکمہ دیہی ترقیات اور پنچایت راج کے ترقیاتی پلان میں آنے سے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے ان منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لینے ، اس متنازعہ پنچایتی پلان کو کالعدم قرار دینے اور عوامی شرکت کے ساتھ دوبارہ گرام سبھا منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنچایت لور سمبڑ کے دور افتادہ علاقوں بشمول ریکی دھار، ڈوگین، سرلا، تیگنو، داسا اور دمکی کے متعدد وارڈز آج بھی مناسب رابطہ سڑکوں سے محروم ہیں اور ریلوے کی طرف سے راستہ بند کرنے کے بعد پہلے سے ہی مشکلات کا شکار عوام کو مزید دشواریوں کا سامنا ہے ۔
ان علاقوں کے لوگوں کو دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزر کر ایک سے دو کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔دور پہاڑی سلسلے پر پھیلے وسیع و عریض علاقہ سمبڑ ، بجھمستہ ، ورنال اور پلباس کے کئی لوگوں نے محکمہ جل شکتی (پی ایچ ای) کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت کروڑوں روپئے کی رقم خرچنے کے باوجود پرجیکٹ نامکمل ہیں اور سمبڑ لور سے ورنال تک کئی دیہات میں پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پرانی بچھی پانی کی سپلائی لائنوں کی بروقت مرمت نہیں کی جاتی یے اور متعلقہ عملہ و افسران مسائل کے حل کے لیے کم ہی موقع پر پہنچتے ہیں، جس کے باعث عوام کو پینے کے پانی کی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔انہوں نے ضلع انتظامیہ رام بن اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ سمبڑ اور سنگلدان کے عوام کو درپیش مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے اور ریلوے سٹیشن کے پاس فلائی اوور پل کی تعمیر ، رابطہ سڑکوں، پانی کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں میں عوامی شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ دیہی ترقیات اور پنچایت راج کے افسروں اور اہلکاروں کو پابند بنایا جائے تاکہ رامبن سے قریب چالیس کلومیٹر کی دوری پر واقع سمبڑ ، بجھمستہ اور ورنال جیسے دور دراز کے علاقوں میں آباد ہزاروں لوگوں کو بنیادی سہولیات میسر آسکیں اور وہ دشوار گزار زندگی سے باہر نکل سکیں۔