الطاف جمیل شاہ
انسانی زندگی کے جملہ معاملات میں مذہب اور روحانیت کا کردار محض ظاہری رسومات کی ادائیگی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی اصل بنیاد اس باطنی تعلق پر ہے جو ایک عاجز مخلوق اور قادرِ مطلق خالق کے درمیان استوار ہوتا ہے۔ اسلامی فکر میں اس تعلق کی سب سے خوبصورت اور مؤثر ترین صورت ‘دعا ہے۔ تاہم، عصرِ حاضر کے مذہبی رویوں کا اگر گہرا مشاہدہ کیا جائے تو ایک المیہ سامنے آتا ہے، جسے ’’دعا پڑھنے‘‘اور ’’دعا مانگنا‘‘ کے درمیان فرق سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ یہ رپورٹ اسی جوہری فرق، اس کے نفسیاتی و عمرانی اثرات، قرآنی و نبوی تعلیمات اور صوفیانہ اسرار کا ایک مفصل اور تحقیقی احاطہ کرتی ہے۔
لسانی اعتبار سے ‘دعا عربی مادہ ‘د ع و سے مشتق ہے، جس کے معنی بلانے، پکارنے، التجا کرنے یا کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے ہیں ۔ جب ہم مذہبی اصطلاح میں دعا کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایک بندے کا اپنے رب کے سامنے اپنی عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی حاجات پیش کرنا ہے ۔ لیکن اس عمل کے دو مختلف پہلو ہیں جنہیں علمی اصطلاح میں ‘دعا اور ‘مناجات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ دعا اور مناجات کے درمیان فرق محض لغوی نہیں بلکہ یہ روحانی قربت اور قلبی کیفیت کا فرق ہے ۔ دعا عموماً ایک پکار ہے، جس میں سائل اور مسئول کے درمیان ایک فاصلے کا ادراک ہوتا ہے، اسی لیے اسے ‘پکارنا کہا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس ‘مناجات کا لفظ ‘نجویٰ سے نکلا ہے، جس کے معنی سرگوشی یا پوشیدہ گفتگو کے ہیں ۔ جب بندہ اپنے رب سے اس قدر قریب محسوس کرے کہ اسے آواز دینے کے بجائے اس کے حضور سرگوشیاں کرنے لگے، تو یہ مقامِ مناجات ہے ۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ہمارے معاشرے میں ’’دعا پڑھنا‘‘ اکثر محض چند حفظ شدہ عربی جملوں کی دہرائی بن کر رہ گیا ہے، جہاں معنی مفقود اور روح غائب ہوتی ہے، جبکہ ’’دعا مانگنا‘‘ اس باطنی کیفیت کا نام ہے جہاں الفاظ دل کی ترجمانی کرتے ہیں ۔
عصرِ حاضر میں اسلامی معاشروں میں یہ رجحان غالب آ چکا ہے کہ دعا کو محض ایک رسمی اختتامیہ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ چند مخصوص عربی دعائیں ازبر کر لیتے ہیں اور تاحیات انہیں دہراتے رہتے ہیں، بغیر اس کے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ اپنے رب سے کیا عرض کر رہے ہیں ۔ اس عمل کو ’’دعا پڑھنا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب دعا محض زبان کی نوک تک محدود ہو جائے، تو اس کی افادیت اس گردان کے نیچے دب جاتی ہے۔ اس مشینی رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دعا مانگنے والا اور آمین کہنے والی ’’مخلوق‘‘ دونوں ہی اس قلبی تعلق سے محروم رہتے ہیں جو دعا کا اصل مقصد تھا۔ اللہ تعالیٰ نے غافل اور لہو و لعب میں مشغول دل کی دعا کو قبول نہ کرنے کی وعید سنائی ہے ۔ دعا تو عبادت کا مغز (مخ) ہے ۔ اگر مغز ہی غائب ہو جائے تو پیچھے صرف بے جان چھلکا رہ جاتا ہے۔ ’’دعا پڑھنا‘‘ ایک عادت ہے، جبکہ ’’دعا مانگنا‘‘ ایک عبادت اور ضرورت ہے۔
قرآن مجید نے دعا کا ایک واضح اسلوب بیان کیا ہے، جو دو متضاد لیکن لازم و ملزوم کیفیات کے گرد گھومتا ہے، خوف اور امید۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’اور اس (اللہ) سے ڈرتے ہوئے اور (اس کی رحمت کی) امید رکھتے ہوئے دعا کرتے رہا کرو، بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہوتی ہے ۔ ‘‘
اس آیتِ کریمہ میں ‘خوف سے مراد اللہ کی عظمت اور اس کے مواخذے کا ڈر ہے، جو انسان میں عجز پیدا کرتا ہے، جبکہ ‘طمع (امید) سے مراد اس کی لامتناہی رحمت اور فضل پر کامل یقین ہے ۔ اہل ایمان کے دل جب اللہ کے ذکر سے لرز اٹھتے ہیں (وجلت قلوبھم)، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔
خوف اور امید کے اس توازن کو مندرجہ ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔
خوف، یہ بندے کو اپنی اوقات اور گناہوں کی یاد دلاتا ہے، جس سے دعا میں رقت اور عاجزی پیدا ہوتی ہے ۔ امید، یہ مایوسی کے بادل چھانٹتی ہے اور بندے کو یقین دلاتی ہے کہ اس کا مولیٰ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ توازن ، اگر صرف خوف ہو تو مایوسی (قنوطیت) پیدا ہوتی ہے، اور اگر صرف امید ہو تو انسان گناہوں پر نڈر ہو جاتا ہے۔ دعا ان دونوں کا سنگم ہے ۔
انسانی زندگی مختلف کیفیات کا مجموعہ ہے، جہاں کبھی غم کے بادل چھا جاتے ہیں اور کبھی خوشیوں کی برسات ہوتی ہے۔ ’’دعا مانگنا‘‘ دراصل ان تمام کیفیات کو اللہ کے حضور پیش کر دینے کا نام ہے۔جب انسان پر غم و اندوہ کا ایسا پہاڑ ٹوٹے کہ اسے محسوس ہو کہ جان نکل رہی ہے، تو دنیا کے تمام سہارے ہیچ نظر آنے لگتے ہیں ۔ ایسے میں اپنے دکھوں کا اظہار لوگوں سے کرنا اکثر مزید تضحیک یا بیزاری کا باعث بنتا ہے۔ لیکن جب وہی بے بس انسان مولیٰ کی بارگاہ میں اپنے کرب کا اظہار کرتا ہے، تو مولیٰ کو اس پر پیار آتا ہے ۔
قرآن مجید اس کیفیت کو ‘اضطرارسے تعبیر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہی ہے جو بے قرار (مضطر) کی پکار سنتا ہے ۔ جب بندہ تنہائی میں مصلیٰ بچھا کر اپنے مالک سے حالِ دل بیان کرتا ہے، تو اسے وہ قلبی سکون ملتا ہے جو پوری کائنات میں کہیں اور میسر نہیں ۔ یہ سرگوشیاں انسان کے اندرونی زخموں کے لیے مرہم کا کام کرتی ہیں۔
خوشی کے لمحات میں انسان اکثر اللہ کو بھول جاتا ہے، لیکن دعا کا ایک پہلو شکر اور مسرت کا اللہ سے شیئر کرنا بھی ہے۔ جب آپ کا قلب پھولے نہ سما رہا ہو، تو اس وقت ’’یا ربی‘‘ کہنا اس بات کا اقرار ہے کہ یہ خوشی صرف اسی کی عطا ہے ۔ نبی کریمؐ کی زندگی میں خوشی کے لمحات میں بھی وہی عاجزی اور اللہ سے تعلق نمایاں رہتا تھا جو غم میں ہوتا تھا ۔ علماء کے نزدیک ‘رب کا نام اسمِ اعظم کے قریب تر ہے کیونکہ قرآن مجید میں اکثر انبیاء کی دعائیں ‘ربنایا ‘ربی سے شروع ہوئی ہیں ۔ یہ پکار دراصل اس گہرے رشتے کا اعتراف ہے کہ اللہ ہی ہمارا پالنے والا، ہماری ضرورتوں کا کفیل اور ہماری دستگیری کرنے والا ہے ۔ جب انسان دل سے ’’یا ربی‘‘ کہتا ہے، تو وہ تمام ظاہری اسباب سے کٹ کر مسبب الاسباب سے جڑ جاتا ہے ۔
نبی کریمؐ کی دعائیں ’’دعا مانگنے‘‘ کی معراج ہیں۔ آپؐ کے نزدیک دعا ہی اصل عبادت تھی ۔ آپؐ کی دعاؤں میں جو درد، ہچکیاں اور آنسوؤں کی برسات ہوتی تھی، وہ قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اپنے دکھوں، گناہوں اور لاچاری کا اظہار اللہ کے سامنے کرنا عینِ سنتِ نبوی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں مولیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے ۔
خالق ِ کائنات کو بندے کی آنکھوں سے گرنے والے ندامت اور محبت کے آنسو اس قدر عزیز ہیں کہ ان کا کوئی بدل نہیں ۔ حدیثِ قدسی اور احادیثِ نبوی میں ان آنسوؤں کی بے پناہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔
اکثر انسان محسوس کرتا ہے کہ اس کا جی اللہ کی بارگاہ میں بیٹھنے کو نہیں چاہتا یا دعا میں وہ مٹھاس اور رقت پیدا نہیں ہو رہی۔ اس کے اسباب پر غور کرنا ضروری ہے۔
جس طرح لوہے کو زنگ لگتا ہے، گناہوں کی وجہ سے دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے، جو دعا کی حلاوت کو ختم کر دیتا ہے ۔ حرام مال سے پرورش پانے والا جسم اور پیٹ دعا کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ جب انسان خود کو دنیاوی اسباب کی وجہ سے بے نیاز سمجھنے لگے، تو وہ مولیٰ کی حاجت محسوس نہیں کرتا۔ یہ حالت معنوی موت ہے ۔ کبھی کبھی انسان کسی ایسی خطا میں مبتلا ہوتا ہے کہ مولیٰ اسے اپنی بارگاہ میں بیٹھنے کے قابل ہی نہیں سمجھتا۔ یہ سب سے بڑی محرومی ہے ۔ اس کا علاج کثرتِ استغفار میں ہے۔ استغفار دل کے زنگ کو صاف کرتا ہے اور بندے کو دوبارہ بندگی کے قابل بناتا ہے ۔ جب دل صاف ہو جاتا ہے، تو پھر دعا محض گردان نہیں رہتی بلکہ روح کی غذا بن جاتی ہے ۔
دعا کی قبولیت کے لیے چند آداب و شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے تاکہ ہماری التجائیں بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پا سکیں۔ دعا کے وقت دل اللہ کی طرف متوجہ ہو، غافل دل کی دعا قبول نہیں ہوتی ۔ اس یقین کے ساتھ مانگنا کہ اللہ ضرور عطا کرے گا، کیونکہ وہ بندے کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہے ۔ دعا کا آغاز اللہ کی تعریف اور نبی کریم ؐ پر درود شریف سے ہونا چاہیے ۔ انبیاء اور اولیاء کے وسیلے سے دعا کرنا قبولیت کا باعث ہے ۔
اگرچہ اللہ ہر جگہ سنتا ہے، لیکن کچھ مقامات کو خصوصی تقدس حاصل ہے جہاں دعائیں رد نہیں ہوتیں ۔ کعبہ کے گرد طواف کی جگہ۔ حجرِ اسود اور بابِ کعبہ کے درمیان کا حصہ۔ کعبہ کے پرنالے کے نیچے۔ کعبہ کا اندرونی حصہ ۔
تاریخِ اسلام میں حضرت امام زین العابدین ؑ کی مناجات ‘دعا مانگنےکا ایک بے مثال نمونہ ہیں۔ آپ کی کتاب ’’صحیفہ سجادیہ‘‘ بندگی کے ان اسرار سے بھری ہوئی ہے جہاں بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ۔ آپ فرماتے تھے،’’پروردگار! میری عزت کے لیے یہی کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں اور تو میرا پروردگار ہے ۔ ‘‘صوفیاء کرام کے نزدیک دعا کی اصل لذت اس کے حاصل ہونے میں نہیں بلکہ مانگنے کی اس کیفیت میں ہے جہاں بندہ اپنے مولیٰ سے جڑ جاتا ہے ۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ تمہارا ’’اللہ اللہ‘‘ کہنا ہی اللہ کی طرف سے ’’لبیک‘‘ ہے ۔ یعنی جب اللہ آپ کو مانگنے کی توفیق دے دے، تو سمجھ جائیں کہ اس نے قبولیت کا دروازہ کھول دیا ہے ۔
’’دعا پڑھنا‘‘ اور ’’دعا مانگنا‘‘ کے درمیان فرق دراصل ‘رسم اور ‘روح کا فرق ہے۔ جب ہم صرف دعائیں پڑھتے ہیں، تو ہم ایک مذہبی خانہ پوری کر رہے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم دعا مانگتے ہیں تو ہم ایک زندہ خدا سے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔
انسانی زندگی میں سکون کی واحد راہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام دکھوں، سکھوں، گناہوں اور تمناؤں کو زبان پر لاکر مولیٰ کے سامنے پیش کر دے ۔ وہ مولیٰ آپ کی روتی ہوئی صورت کو پسند کرتا ہے اور ایسی تسکین عطا کرتا ہے جس کے بعد دنیا کا کوئی غم غم نہیں رہتا ۔یاد رکھیں، جب اندھیرا گہرا ہو جائے اور دماغ ماؤف ہو جائے تو تنہائی میں جا کر اپنا حالِ دل بیان کریں۔ یقین رکھیں کہ آپ مصلیٰ اٹھانے سے پہلے ہی مولیٰ کی رحمتوں کی آغوش میں ہوں گے ۔