نئی دہلی//نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھاکے چیئرمین وینکیا نائیڈونے آج کہا کہ کچھ اراکین کا یہ الزام درست نہیں ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز دبائی جارہی ہے ۔ پیر کو قانون سازی کے کام کاج کو نمٹانے کے بعد مسٹر نائیڈو نے اراکین سے کہا کہ انھیں 14 پارٹیوں کے 15 راجیہ سبھا اراکین کا ایک خط ملا ہے جس میں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز دبائے جانے کے ساتھ ساتھ بلوں کو بغیر پارلیمانی کمیٹیوں کے جائزے کے پاس کرائے جانے کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس خط پر تین دیگر پارٹیوں کے اراکین کا بھی نام لکھا گیا ہے لیکن ان کے دستخط نہیں ہیں۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ خط میں اٹھائے گئے مسائل ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں لیکن وہ ریکارڈ کی تفتیش کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز دبائے جانے کی بات درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اراکین نے فکر اور تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں بہت کم موضوعات پر مختصر وقت کے لیے بحث ہوتی ہے جبکہ پہلے سے پارلیمنٹ میں ہر ہفتے ایک موضوع پر مختصر بحث کروانے کی روایت رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اراکین کی اپوزیشن رہنماؤں کی آواز دبانے کی شکایت سنگین ہے اور اسے دیکھتے ہوئے انہوں نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ سے کہا تھا کہ وہ اس بات کی تفتیش کرے کہ کیا پارلیمنٹ ہر ہفتے ایک موضوع پر مختصروقت کے لیے بحث کروانے کی روایت رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ کے ریکارڈ میں 1978 سے 2013 تک کے 36 برسوں کی معلومات ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس دوران 16 برسوں میں راجیہ سبھا میں ہر سال محض ایک سے لے کر پانچ مسائل پر مختصر بحث ہوئی۔ سنہ 1984 میں تو محض ایک ہی موضوع پر بحث ہو سکی۔ ان 36 سالوں میں ہر سیشن میں تین سے بھی کم مسائل پر مختصر بحث ہوئی۔ اس سے اراکین کی شکایت میں کہی گئی یہ بات درست ثابت نہیں ہوتی کہ پارلیمنٹ میں ہر ہفتے ایک موضوع پر مختصر وقت کے لیے بحث ہوتی رہی ہے ۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ اس سیشن میں دو موضوعات پر مختصر وقت کے لیے بحث ہو چکی ہے ۔ پارلیمنٹ میں تقریباً ڈھائی دن تک کام کاج نہیں ہو سکا اور مزید ایک موضوع پر بحث ہوسکتی تھی۔ ابھی بھی ایک اور موضوع پر بحث ہو سکتی ہے لہٰذا اس بارے میں پارلیمنٹ میں کسی ضابطے یا روایت کی خلاف ورزی نہیں ہورہی ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ اپوزیشن کی آواز دبائے جانے کی شکایت درست نہیں ہے ۔ خط میں بلوں کو اسٹینڈنگ کمیٹی اور سلیکٹ کمیٹی میں بھیجے بغیر جلدبازی میں پاس کرائے گئے مسئلے پر مسٹر نائیڈو نے کہا کہ راجیہ سبھا کے گذشتہ پانچ سیشن میں 244 سے لے کر 248 کے دوران حکومت نے 10بل راجیہ سبھا میں پہلے پیش کیے جن میں سے آٹھ کو جائزہ کے لیے متعلقہ محکموں کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں بھیجا گیا۔ دو دیگر بلوں پر پارلیمنٹ میں رائے تھی کہ انھیں جائزے کے لیے بھیجے جانے کی ضرورت ہے ۔ موٹر گاڑی ترمیمی بل2019 کو بھی راجیہ سبھا نے لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ راجیہ سبھا میں بل جلد بازی میں پاس نہیں کرائے گئے ۔ رواں سیشن میں اب تک راجیہ سبھا میں چار بلوں کو پہلے پیش کیا گیا۔ ان میں سے تین کو پاس کرایا گیا ہے ۔ انھیں سلیکٹ کمیٹی میں اس لیے نہیں بھیجا جا سکتا تھا کیونکہ کمیٹی کی تشکیل ہی نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بل پر بھی پارلیمنٹ میں بحث ہونی ہے اور اس پر بھی ایوان ہی فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ خط میں اراکین نے ان بلوں کا بھی ذکر کیا ہے جو پہلے لوک سبھا میں پیش کیے گئے اور انھیں اسٹینڈنگ کمیٹی میں نہیں بھیجا گیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ ان کے دائرہ اختیار کا معاملہ نہیں ہے اس لیے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ لوک سبھا الیکشن کے بعد بلائے جانے والے پہلے سیشن کے اکثر چھوٹا رہنے اور موجودہ سیشن میں 30 اجلاس رکھے جانے کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ یہ شکایت راجیہ سبھا کے چیئر مین سے کیوں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیشن کا وقت طے کرنا ہے حکومت کے دائرہ اختیار میںہے اور اس میں چیئرمین کا کردار نہیں ہوتا۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ خط میں ذکر ہے کہ انھیں انسانی حقوق سے متعلق بل میں ترمیم کے لیے ضابطہ 95 کے تحت وقت کافی نہیں دیا گیا۔ چیئر مین نے کہا کہ اراکین کو اس کے لیے وقت کافی دیا گیا تھا۔ جس دن بل پیش کیا گیا اس دن بھی اراکین 12 بجے تک ترمیم دے سکتے تھے ۔ اس معاملے میں ضابطے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے ۔ یو این آئی