عظمیٰ نیوزسروس
جموں //جموں شہر کے مضافات میں رائیکہ بندی علاقہ میں منگل کو عمل میں لائی گئی انسداد تجاوزات مہم کے دوران تقریباً 32غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ پختہ اور کچے ڈھانچوں کو منہدم کیاگیا جبکہ منہدم کئے گئے بیشتر ڈھانچے غیر مقامی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور صرف 3سے 4خاندان مقامی گوجر برادری سے وابستہ ہیں۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے کہا کہ رائیکہ بندی علاقے میں انسدادِ تجاوزات کے خلاف جو مشترکہ انہدامی کارروائی انجام دی گئی، اس میں انتظامیہ، محکمہ جنگلات، فاریسٹ پروٹیکشن فورس، پولیس اہلکاروں اور بیلٹ فورس کے افسران پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے فرسٹ کلاس مجسٹریٹس کی موجودگی میں حصہ لیا۔ مذکورہ کارروائی کے دوران مشترکہ ٹیموں نے تقریباً 32غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ پختہ اور کچے ڈھانچوں کو منہدم کیا، جبکہ تقریباً 3 ہیکٹر تجاوز شدہ جنگلاتی اراضی کو واگزار کرایا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی عدالت عالیہ کے احکامات کے بعد ناگزیر بن گئی تھی۔
ان ذرائع نے کہا کہ عدالت عالیہ نے مفاد عامہ کی عرضی زیر نمبر 25/2017،SAVEبنام ریاست جموںکشمیر و دیگران میں 3ستمبر2020کے فیصلہ میںمحکمہ جنگلات کو واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ جنگلاتی اراضی سے تجاوزات کو مقررہ مدت کے اندر ہٹایا جائے جس کے بعد مطلوبہ مقاصد کے حصول کےلئے اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کی تشکیل کی بھی ہدایت دی گئی تھی۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاملہ اُن بیشتر غیر مقامی تجاوز کنندگان کی بے دخلی سے متعلق ہے جنہوں نے پرانے توی ہربل ایکو پارک کی باڑ کے ساتھ ملحقہ جنگلاتی اراضی اور بندی چک کی چک لائن حدود کے قریب قبضہ جما رکھا تھا۔انہوںنے کہا کہ تاز ہ انہدامی کارروائی کوئی اچانک اقدام نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں کئی ماہ پر محیط وہ سخت کوششیں شامل ہیں جو محکمہ جنگلات کے فیلڈ عملے نے ان تجاوزات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے انجام دیں۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ28مارچ2026کو معمول کی جانچ کے دوران ان تجاوز کنندگان نے محکمہ جنگلات کے فیلڈ عملے پر حملہ بھی کیا اور سرکاری ملازمین کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں پھنسانےکیلئے من گھڑت الزامات بھی عائد کیے جس کے بعد اعلیٰ حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا اوروجہ بتائو نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کیا گیا تاہم یہ تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں کیونکہ تجاوز کنندگان نےوجہ بتائو نوٹس وصول کرنے سے انکار کیا اور ڈیوٹی پر مامور عملے کے ساتھ بدسلوکی بھی کی، جس کے بعد بے دخلی کے احکامات جاری کیے گئے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ یہ تجاوز کنندگان گزشتہ کئی دہائیوں سے متعلقہ علاقے میں مقیم تھے جبکہ انکا دعویٰ ہےکہ گوگل ارتھ کی ٹائم لائن تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ سال 2009تک وہاں صرف 2سے 3کچے شیڈ موجود تھے۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ منگل کومنہدم کئے گئے بیشتر ڈھانچے غیر مقامی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جبکہ صرف 3سے 4خاندان مقامی گوجر برادری سے وابستہ ہیں۔